تماشا دکھا کر مداری گیا؟ 32

پاکستانی حزب اختلاف: لائحہ عمل اور مضمرات

گزشتہ ہفتہ پاکستان میں حالات نے نئی کروٹ لی۔ سیاسی جمااعتوں کے نئے اتحاد ، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا PDM نے گجرانوالہ اور کراچی میں دو بڑے جلسے منعقد کئے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ جلسوں میں کتنے لوگ آئے، اہم یہ ہے کہ یہ جلسے ہو بھی سکے۔ خبروں کے مطابق یہ بڑے جلسے تھے، جن کا ہونا ہی ایک بڑی بات تھی۔ ایک عام شہری ہونے کے ناطے ہم خود آج کل کے وبائی ماحول میں ان جلسوں کو درست نہیں سمجھتے۔
یہ بھی انہونی اور تاریخی بات ہوئی کے گجرانواالہ کے جلسہ میں نواز شریف نے جو خطاب کیا تھا اس میں بڑا کڑوا سچ تھا۔ بقول شاعر : بات تو سچ تھی ، مگر بات تھی رسوائی کی۔۔۔انہوں نے ببانگِ دہل اور بر سرِ عام کہا کہ ، پاکستان میں سیاست اور جمہوریت میں تخریب کے اصل ذمہ دار پاکستانی افواج کے کچھ اعلیٰ افسران ہیں۔ میڈیا پر کڑی قدغن کے باوجود بات نکلی اور دور تک پھیل گئی۔ فوج کی طرف سے اس سلسلہ میں کوئی اعلامیہ یا صفائی بھی جاری نہیں کی گئی۔ یہی ہماری جمہوریت کا کڑوا سچ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے سارے ہی سیاست دان فوج کے ساتھ مصلحت آمیز رویہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ اسی رویہ نے فوج کو وہ کردار عطا کیا ہے جس کی پاکستان کے موجودہ آئین میں کوئی بھی کہیں بھی گنجائش نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کھیل میں پاکستان کے موجود ہ وزیرِ اعظم بالکل کٹھ پتلی بن گئے ہیں۔ فوج ان کی ڈوریا ں دھرنوں سے لے کر انتخابات تک اور پھر اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں کے خلاف رکیک کاروائییاں کرنے کے لیئے کھینچتی رہی ہے۔
گجرانوالہ کے جلسہ کے بعد مزارِ قائد پر جلسے میں نواز شریف نے خطاب تو نہیں کیا لیکن ان کی بات ہر سیاست دان نے دہرائی۔ اس جلسہ میں بھی خفیہ ہاتھوں کا کردار جاری تھا۔ گو کہ پاکستان کے تقریباً ہر میڈیا نے ان جلسوں کو براہِ راست پیش کیا، اور یہ ساری دنیا میں دیکھے گئے۔ لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ جلسہ کے دوران میڈیا کو سنسر کرنے والے ادارے با عمل اور متحرک تھے۔ بعض سیاست دانوں کے بیانات کو نشر ہونے سے روکا گیا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ جو میڈیا دباﺅ میںتھا، وہ ان سیاست دانوں کے خطاب کے دوران براہِ راست پیش کش سے ہٹ کر کچھ اورلا یعنی باتیں کرنے لگتا تھا۔
پاکستان کے موقر جریدے ڈان نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ حق طلب کرنے والے اہم رہنماﺅں میں شامل محمود اچکزئی، محسن داوڑ، اور اختر مینگل کی تقاریر پر سنسر شپ کی خصوصی نظر تھی۔ ان کی بات یہ تو پیش نہیں کی جارہی تھی، یا اس کے کچھ جزو نشر کیئے جارہے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے ہمارا میڈیا کتنے دباﺅ میں ہے، اور کتنا آزاد ہے۔
ان جلسوں کی کڑوی باتوں کا فوری عمل ردِ عمل یہ تھا کہ کراچی ہی میں قائد اعظم کے مزار کے اند ر نعرہ بازی کے الزام میں مریم نواز شریف کے خاوند کیپٹن محمد سرور کو انکے کمرے کے دروازے توڑ کر گرفتار کیا گیا جب کہ اس وقت ان کی اہلیہ اسی کمرے میں تخلیہ میں تھیں۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ سندھ پولس کے ذریعہ یہ کاروائی حزبِ اختلاف میں پھوٹ ڈالنے کے لیئے کی گئی۔ خود سندھ پولس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پولس پر سخت دباﺅ ڈالا گیا تھا۔ انہوں نے اس واقعہ کی شکایت کرتے ہوئے، ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیئے دو ماہ کی فوری چھٹی کی درخواست دی ہے۔ اس واقعہ کے نتیجہ میں پولس کے دیگر افسران میں بھی بے اطمینانی ہے۔
تازہ ترین خبر یہ ہے کہ بلاول بھٹو کے ایک بیان کے بعد فوج کے سربراہ نے اس واقعہ کی فوری تحقیق کا حکم دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شکایت داخل کرنے کے لیئے عمران خان کے ساتھی پولس تھانوں پر دباﺅ ڈال رہے تھے۔ پھر ایک ایسے شخص کی طرف سے ایف آئی آر کاٹی گئی، جو خود مبینہ طور پر دہشت گردی کے ایک مقدمہ میں مفرور ہے۔
ہماری رائے میں حزبِ اختلاف کے ان جلسوں کا شاید ہی کوئی نتیجہ نکلے۔ آیندہ جلسہ کوئٹہ میں ہوگا۔ امکان ہے کہ اس پر قدغیں لگیں گی۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ حزبِ اختلاف کے اس اتحاد کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کر رہے ہیں۔ جن کا سیاسی کردار پہلے بھی قابلِ تعریف نہیں رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اقلیتی اسلامی گروہوں کی سربراہی قبول کرنے پر مجبور ہیں ، خود قابلِ فکر ہے۔ کراچی کے جلسہ میں فضل الرحمان کا استقبال کرتے وقت غیر ضروری طور پر احمدیوں کے خلاف نعرے لگائے گئے۔
ابھی چند روز قبل پنجاب کے ایک کالج میں پاکستان کے ایک وفادار ہیرو اور نوبل انعام یافتہ پروفیسر سلام کی تصویر پر ان کے چہرہ پر سیاہی پھیری گئی تھی۔ یہ وہ پروفیسر سلام ہیں جو انتہائی ذہنی اذیت کے باوجود پاکستان زندہ باد کہتے رہے اور جنہوں نے کسی اور ملک کی شہریت حاصل نہیں کئی۔ بقول شاعر: یہ وہی تھے جن کے لباس پر سرِ رو سیاہی لکھی گئی۔ یہی داغ تھے جو سجا کے وہ سرِ بزم ِ یار چلے گئے۔
حزب ِ اختلاف کی کوشش ضروری ہے۔ لیکن یہ جب کامیاب ہوگی جب مذہبی رہنماﺅں سے گریز کیا جائے گا۔ اور جب ہر شہری کو اس کے حقوق کی ضمانت دی جائے گی۔ کیا ایسا ہو سکے گا اس کا نتیجہ جلد ہی سامنے آئے گا۔ اگر سیاست میں فوج دخل ختم ہو گا تب ہی ہم جانیں گے کہ جدوجہد کامیاب تھی۔ و ہ صبح کبھی تو آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں