پاکستانی سیاست میں مذہب کا استعمال 15

پاکستانی سیاست میں مذہب کا استعمال

پاکستان کی سیاست میں مذہب کا استعمال ہمیشہ ہی سے رائج رہا۔ چاہے وہ پاکستان کے وجود میں آنے والی تحریک کو کمزور کرنے کے لئے قائداعظم کو کافر اعظم قرار دینا ہو یا پاکستانی سیاسی افق سے کسی اور کو تحلیل کردینا۔ 80ءکی دہائی کے بعد اس فکر نے شدت پکڑی اور کئی مثالیں قائم کیں۔ ہر آنے والی نئی حکومت نے آئین میں اس سلسلے میں اصلاحات کا نعرہ لگایا مگر کئی محاذوں کی طرف سے شدید دباﺅ کی وجہ سے اس پر نظرثانی کی ہمت نہیں کی اور مذہبی بے توقیری کی شقوں کا سہارا لے کر کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جو نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالمی طور پر بھی پاکستان کے لئے بے عزتی کا سبب بنے اور موجودہ وقت تک یہ سلسلہ قائم و دائم ہے۔ توقیر مذہب اور ناموس رسالت دنیا اور پاکستان کے ہر مسلمان کے لئے انتہائی محترم جذبہ ہے اس پر کسی بھی قسم کی رعایت کی گنجائش نہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ وہ مذہب جو انسان کو ہر مرحلہ پر جذباتیت سے گریز کرنے کا سبق سکھاتا ہے، جس دین میں یہ ہدایت کی جاتی ہو کہ طاقتور دراصل وہ ہے جو اپنے غصہ اور ردعمل کو قابو میں رکھے، جس میں یہ بتایا جاتا ہو کہ بغیر تصدیق کئے کسی بھی خبر کو آگے بڑھانا دراصل فتنہ پروری کے زمرے میں آتا ہے، اس کے ماننے والوں پر لازم ٹھہرایا گیا کہ تمام معاملات کا سکون سے تجزیہ کرو اور پھر فیصلہ کرنے کی ابتداءکرو مگر اپنی مذہبی کم علمی سے دوچار ہونے کی بدولت کسی بھی موقع محل، کسی بھی عنصر کا لحاظ نہیں کرتے اور ایسے اعمال کا شکار ہو جاتے ہیں جو ہر گز کسی مسلمان کے شایان شان نہیں۔
اس وقت مدینہ شریف میں ہونے والے واقعے پر جس طرح داستان گوئی کے ساتھ ساتھ مبہم انداز میں میڈیا کے علاوہ کئی حلقوں سے تفصیلات بیان کی گئی ہیں اس نے اس سارے واقعہ کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ وزیر اعظم کا حلف لینے کے بعد سعودی عرب کی سرزمین پر اپنے پہلے دورہ پر جو ننگے پاﺅں مدینہ میں اترنے کی روایت عمران خان نے ڈالی وہ یقینی طور پر ناموس رسالت کے احترام کے طور پر دیکھی جائے گی۔ سابق تحریک انصاف کی حکومت اپنی بدانتظامیوں اور نا اہلیوں کی وجہ سے چاہے کتنی ہی تنقید کے نشانوں پر رہی ہو مگر یہ بھی اعتراف کرنا ہو گا کہ اس حکومت خاص کر عمران خان نے جس طرح اسلاموفوبیا اور اسلام کے لئے مذاق آمیز خاکے بنانے والوں کے خلاف جس طرح آواز اٹھائی وہ کسی طرح بھی اس کا غماز نہیں بنتی کہ وہ توہین رسالت کی طرف کسی بھی قسم کا اشارہ کرسکتے ہیں۔
اس وقت موجودہ حکومت نے اس مسئلہ کو سیاست میں جس طرح داخل کرنے کی کوشش کی ہے وہ انتہائی درجہ کی غیر ذمہ داری کے ساتھ ایک انتہائی خطرناک عمل ہے۔ 3 سال قبل عمران خان پر بیت اللہ کی حدود میں نعرے بلند کئے گئے اور ن لیگ نے اس وقت اس کو مکافات عمل کہہ کر سراہا تھا۔ حالیہ واقعہ کے عینی شاہدوں کے مطابق شہباز شریف اور اس کی کابینہ کے ارکان پر مسجد نبوی کے باہر بازاروں میں چور چور کی آوازیں لگائی گئیں۔ حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ ساری کارروائی تحریک انصاف کی ایماءپر کی گئی ہے مگر پاکستانی سیاست کے واقفان حال تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں خود ن لیگ کی معاونت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت برخواست ہونے کے بعد جس طرح مقبولیت میں زور پکڑ رہی ہے وہ نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ تمام اداروں کے لئے بھی باعث تشویش نظر آرہی ہے۔ سعودی عرب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وزراءکا حکومتی وفد میں شامل ہونے کے باوجود اس سے الگ تھلگ رہنا پی پی پی کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے، بہت ممکن ہے پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہو۔ مفروضے تو بہت ساری تصویریں کھینچ سکتے ہیں۔ فی الحال تو ناموس رسالت سے متعلق مقدمے سے یہ ظاہر کررہے ہیں کہ موجودہ حکومت سیاسی طور پر مفلوج ہو چکی ہے اور اب تحریک انصاف سے نپٹنے کے لئے کچھ اور لائحہ عمل کی تیاری میں ہے۔ شیخ رشید اپنی جان جانے کے خدشے کی رپورٹ درج کروا چکے ہیں۔ لیاقت علی خاں کی شہادت سے لے کر سانحہ مشرقی پاکستان، مرتضیٰ بھٹو کا قتل پھر بے نظیر کی شہادت، سلمان تاثیر کا قتل، سانحہ ماڈل ٹاﺅن ان سب جرائم پر سیاسی پردے پڑے ہوئے ہیں جو شاید کبھی بھی کھل کر سامنے نہ آئیں اور اس وقت مذہب کی آڑ لے کر اشتعال پھیلانا بری طرح حکومت کی پسپائی کو ظاہر کررہا ہے۔
پاکستانی عوام اس وقت کھل کر اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر نکتہ چینی کررہے ہیں، اکثریت اب ایک ایماندارانہ حکومت کی متلاشی نظر آتی ہے۔ عمران خان کی آواز پر ردعمل اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے نظر آرہا ہے۔ نئی حکومت کے 38 وزراءپر مشتمل کابینہ جس میں وہ تمام اتحادی جو تحریک عدم اعتماد میں معاون ثابت ہوئے کو محنتانہ ادا کردیا گیا ہے۔ وزارتیں تفویض کرتے وقت کسی بھی حدود و قیود اور تجربہ اور کارکردگی اگر ملحوظ خاطر نہیں رکھی گئی تو ویسے بھی پاکستانی قوم کو کسی فکر کرنے کی کوئی ضرورت بلکہ اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ جو قوم پچھلے 40 سالوں سے موروثیت اور بدعنوانیوں اور کرپشن پر سربسجود رہی ہو اسے یہ فکر زیب نہیں دیتی۔
پاکستان تحریک انصاف اپنے وزیر اعظم کی خلاف عدم تحریک کے بعد استعفیٰ دے کر حکومت اور اسمبلی چھوڑ چکی ہے۔ قومی اسمبلی چھوڑنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے کچھ غور و فکر کرنی چاہئے تھی۔ شاید یہ ایک اچھا فیصلہ نہ ثابت ہو۔ عوام کی رائے اپنے حق میں ہموار کرنا، احسن مگر اسمبلی میں رہ کر اپنی آئینی حیثیت برقرار رکھنی چاہئے تھی اور حکومت پر اسمبلی کے اندر اور باہر سخت وقت دیا جا سکتا تھا۔ تحریک انصاف کا مقابلہ جن سیاستدانوں سے ہے وہ سیاست کے میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں، ایک دوسرے کو زک پہنچانے کے جو نسخے ان کے پاس ہیں وہ تحریک انصاف کے کھلاڑیوں کے تصور سے بھی بالاتر ہیں۔ بھٹو سے لے کر بے نظیر اور اس سے بھی قبل ایوب خان اور فاطمہ جناح کے انتخابات کے دوران جو مہمیں چلائی گئی وہ سب سیاست کی سیاہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس وقت تحریک انصاف عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے ۔ اداروں اور عدلیہ پر دباﺅ کے اشارے مل رہے ہیں، اسٹریٹ پاور کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا، کئی عوامل کارفرما ہو جاتے ہیں، بیرونی سازشوں کے شواہد اب غیر ملکی میڈیا کے ذریعے پاکستانیوں تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کا ردعمل بھی سامنے شدت سے آئے گا اور شاید اداروں اور عدلیہ کو یہ احساس ہونا شروع ہو سکتا ہے کہ سابق حکومت کو ہٹانے اور نئی حکومت کو تسلط کرنے کے سلسلے میں ان سے کوتاہیاں انجام پا گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن تاحال پرانے کسی بھی ریفرنس پر فیصلہ نہیں دے سکا ہے، عوامی ردعمل اگر شدت اختیار کرتا جاتا ہے تو یقینی طور پر پاکستان مشکل ترین حالات کا مقابلہ کرے گا۔ موجودہ حکومت کو دشواریوں کو شدید سامنا کرنا ہو گا۔ ان کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ کم و بیش حکومت کے ارکان کے علم میں ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف اپنی حکمت عملی طے کر چکے ہیں، وہ کسی بھی قسم کی مفاہمت سے گریز کریں گے۔ دنیا بدل کر صرف اخباروں کی حدود سے نکل کر موبائل فون اور سوشل میڈیا پر منتقل ہو چکی ہے۔ پاکستانی عالمی سطح پر ایک دوسرے سے منسلک ہو کر ایک دوسرے سے اتفاق اور تائید پر آسانی سے یکجا ہو جانے کے عمل سے واقف ہو چکے ہیں، اب کسی بھی فریق کے لئے کوئی بھی کام پوشیدہ رکھنا مشکل ترین امر ہے۔ سب کو ہوشمندی سے کام لینا ہو گا، ایک معمولی سی غلطی بھی ملک کی سالمیت کو بھیانک صورت حال سے دوچار کر سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں