Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 33

پاکستانی وائس رائے ۔ میر جعفر، میر صادق اور آئی ایم ایف

آئی ایم ایف اس کے قرضے اور اس کے نتیجے میں ایک ملک کی خودمختاری کو غلامی کے شکنجے میں کسنا، یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ اسے سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ بچوں کے لئے بھی سمجھنا اور سمجھانا اتنا ہی آسان کام ہے، اگر کوئی اسے سمجھنا چاہتا ہے تو پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس ملک میں کون آئی ایم ایف کے بروکر ان کے ایجنٹ یا پھر دلالوں کی حیثیت سے کام کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ بدقسمتی سے وہ اس ملک کے بڑے نامی گرامی سیاستدان یا پھر دوسرے معنوں میں اس بہری گونگی لنگڑی لولی قوم کے رہبر اور رہنما ہیں جنہیں اس ملک میں ایک بار نہیں بلکہ بار بار حکمرانی کرنے کا حق بھی حاصل ہے ان کے ناقدین اور مخالفین انہیں مختلف ناموں اور القابات سے پکارتے ہیں، انہیں دور حاضر کے ”وائس رائے“ بھی کہا جاتا ہے اور دور حاضر کے ”میر جعفر اور میر صادق“ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، اگر ذرا صبر و تحمل سے غیر جانبدار بن کر زمینی حقائق کی روشنی میں ان کا جائزہ لیا جائے تو ان کے مخالفین اور ناقدین کے یہ الزامات زمینی حقائق سے کسی حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔ وائس رائے انہیں اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان کے مستقل ٹھکانے اغیار میں ہیں، ان کا سارا بینک بیلنس ہی غیر ملکی بینکوں میں ہے۔ پاکستان میں ان کا کاروبار سیاست اور ان کی دلچسپی حکمرانی کی حد تک ہی محدود ہے۔ یہ قانون سازی میں شامل ہوتے ہیں مگر خود قانون کے تابع میں لائے جانے کو اپنی توہین خیال کرتے ہیں، اس لئے یہ ہر وقت قانون شکنی کے ہی مرتکب ہوتے رہتے ہیں، جس کا زندہ ثبوت تین بار کے وزیر اعظم کا لندن کے عالیشان محل میں روپوشی اختیار کرنا ہے۔ یہ ہی حال دوسرے وائس رائے نما سیاستدانوں کا ہے، اسی طرح سے مخالفین کی جانب سے ان پر ”میر جعفر اور میر صادق“ جیسے تاریخ ساز غداروں کے القابات تھوپے جاتے ہیں، وہ ان کا اپنے ملک کو قرضوں کے دلدل میں دھکیل کر آئی ایم ایف کو جزوی یا قلی طور پر ملک کے سیاہ سفید کا مالک بنانا ہے یعنی ملک کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دینا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو آئی ایم ایف کے پیمانے اور قائدے بدل جاتے ہیں اور جب کوئی اور عمران خان کی شکل میں حکمرانی کرتا ہے تو اس وقت آئی ایم ایف دو دھاری تلوار لئے مقابلے میں آجاتا ہے۔ آئی ایم ایف کو معلوم ہے کہ اس طرح کی حکومت ان سے لئے جانے والا قرضہ ملک کی فلاح و بہبود، عوام کی خوشحالی اور ملک کی ترقی پر لگائے گا جس نے آئی ایم ایف کی بنیادیں پاکستان میں کمزور پڑ جائیں گی، اس وجہ سے وہ انہیں قرضہ انتہائی سخت گیر شرائط پر دیتا ہے لیکن اس کے برعکس جب خود ان کے گماشتوں یعنی وائس رائے یا میر جعفر و میر صادق کی حکومت ہوتی ہے تو یہ آئی ایم ایف انتہائی فراخ دلی سے اپنی تجوریوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیتا ہے، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہاتھ دو اور دوسرے ہاتھ لو کے مصداق حکومت پاکستان ان سے قرضہ لے کر خود قرضے کے بوجھ تلے دب جائے گی اور ان کے بروکر یا دلال وہی رقم حوالہ ہنڈی کے ذریعے دوبارہ ان ہی کے ملکوں میں بھجوا کر ان کے بینکوں میں جمع کروادیں گے، یہ ہی خونی کھیل پچھلے 45 سالوں سے کھیلا جا رہا ہے، اسی وجہ سے ان کے ناقدین اور مخالفین انہیں میر جعفر اور میر صادق کے نام سے پکارتے ہیں۔
اب اس کا حل کیا ہے؟ یہ بھی چٹکی بجا کر حل کیا جا سکتا ہے، آئی ایم ایف ایک میر جعفر کی مار ہے اگر حقیقی معنوں میں پاکستان کا قانون ننگی تلوار بن کر ہر رشتے کی تمیز کئے بغیر حرکت میں آجائے تو آئی ایم ایف کے تابوت کو پاکستان سے نکال کر خود ان کے ملک میں دفن کیا جا سکتا ہے، پاکستانی عوام کو چاہئے کہ وہ حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بن کر غیر ملکی مصنوعات، فاسٹ فوڈ اور ڈرنگ کا فوری طور پر سوشل بائیکاٹ کرے اور ڈالروں کو گلے سے لگانے کے بجائے ترکی طرح سے قدموں کی ٹھوکر بنانے کا سلسلہ شروع کردے تو ڈالر بھی آئی ایم ایف کی طرح سے اپنی اوقات میں آجائے گا لیکن سب سے پہلے پاگل کو نہیں بلکہ پاگل کی ماں کو مارنے کے مصداق آئی ایم ایف کے گماشتوں، ان کے دلالوں اور ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کریں، انہیں انتخابات میں عبرتناک شکست دیں، اگر آپ لوگ واقعی حقیقی آزادی چاہتے ہیں تو۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں