حو ّ ا کی بیٹی 117

پاکستان بندوق کی نوک پر

الحمدللہ پاکستان کا بجٹ جس کے بارے میں متضاد رائے تھیں کہ پارلیمنٹ سے منظوری مشکل ہو گی مگر آناً فاناً بغیر کسی تگ و دو کے منظور ہو گیا۔ کئی دوستوں کا خیال تھا کہ بجٹ منظور نہیں ہوگا اور وزیر اعظم کو گھر جانا پڑے گا مگر تمام زبانیں گنگ ہیں اور بجٹ پاس ہو گیا۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ ”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے“ یوں ہماری اسٹیبلشمنٹ جو روز اوّل سے لے کر آج تک ملک کے تمام فیصلوں پر اثر انداز ہے کیونکر اپنے ہی سدھائے ہوئے گھوڑے کو ہارنے دے گی۔ پاکستان تو انگریزوں کی مسلط کی گئی بیوروکریسی اور فوجی آمریت سے آج تک چھٹکارا نہیں پا سکا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان دو اکائیوں نے عدالتی آمریت، ملا آمریت، میڈیا آمریت اور جمہوری آمریت کو بھی پال پوس کے جوان کردیا ہے اور یوں تمام آمر آج اپنی اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہے ہیں وہ ملک جو کہ قائد اعظم جیسے عظیم مسلمان نے ایک سچے جذبہ کے ساتھ اور اللہ کے ایک سپاہی کی حیثیت سے بنایا اسے کافر اعظم کہہ کر آہستہ آہستہ موت کے منہ میں دھکیل دیا اور پھر ان کے تمام رفیقوں کو ایک ایک کرکے ان کی آخری آرام گاہوں میں سلا دیا گیا اور ان کی تصاویر پر سیاست کا سلسلہ شروع کیا کہ جسے پاکستانی عوام آج بھی حب الوطنی کا علَم سمجھتی ہے۔ ان تمام سیاسی سوچ رکھنے والے منافقین کی فوج کو پاکستان کے عوام پر مسلط کردیا جو قیام پاکستان کے ہی مخالف تھے اور یوں پاکستان ان لٹیروں کے ہاتھوں آج تک لٹتا چلا آرہا ہے جو جمہوری چہرے عوام کو دکھائے گئے وہ دراصل جمہوری تھے ہی نہیں جو اصل حب الوطن تھے انہیں تو راستے سے ہٹا دیا گیا اور ملک اور قوم دشمن چند افراد کے ٹولے نے آج تک پاکستان کی لگام تھامی ہوئی ہے۔ پاکستانی فوج ایک حب الوطن فوج ہے جو شہادت کے جذبے سے سرشار ہے مگر کیا کیا جائے جنرل نیازی سے کمانڈرز کہ جو اپنی بیرکوں میں بیٹھے شراب اور شباب سے لطف اندوز ہو رہے ہوں اور ملک دو لخت ہو جائے مگر بے شرمی کی انتہا ہے کہ ہم نے کبھی ندامت ہی محسوس نہیں کی کہ ہم نے اللہ کی سرزمین پر اس کے نام پر بننے والے ملک کے ساتھ کیا کھلواڑ کیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جس کے ہاتھ میں بندوق ہو، وہی فیصلہ کرتا ہے اور اس بندوق نے بجٹ بھی بلا چوں چرا پاس کروا دیا۔ بجٹ کیوں نہ پاس ہوتا، جس بجٹ کا بڑا حصہ ہماری بندوق والی سرکار کا ہو تو وہ کیسے اور کیونکر اسے روکنے کی اجازت دے گی۔ المیہ یہ ہے کہ عوام بری طرح پھنس چکی ہے، ایک جانب وہ چور اچکے اور لٹیرے ہوں جنہیں سیاستدان بنا کر لایا گیا اور ان کے ساتھ مل کر لوٹ مار کی گئی اور پھر انہیں کرپٹ کہہ کر الگ کردیا گیا۔ روز اوّل سے ملک کو لوٹنے والے اور غدار صرف حب الوطن ہی ٹھہرے۔ کیسی بے بسی ہے کہ قائد اعظم جو بانی پاکستان تھے، کافر اعظم ٹہرے۔ محترمہ فاطمہ جناح غدار قرار پائیں اور جن قائدین نے پاکستان کے لئے اپنی تمام دولت اور وسائل لٹا دیئے، ان کا کہیں نام و نشان نہیں اور لوٹ مار کرنے والوں کی تعریفوں اور تصاویر سے تاریخ بھری پڑی ہے مگر تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے وہ کسی کو معاف نہیں کرتی۔
سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ صرف اور صرف بندوق والے ہی حل کر سکتے ہیں مگر کیسے اور کیونکر؟ پاکستان آج فوجی فاﺅنڈیشن کی لمیٹڈ کمپنی بن چکا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ملک کے لئے جو قربانیاں دیتا ہے ملک کی حکمرانی بھی اسی کو کرنا چاہئے، یوں ہمارے فوج کے کمانڈر فوجی اسٹریٹجی بنانے کے بجائے ملک کے تمام ادارے چلا رہے ہیں۔
رئیل اسٹیٹ کے سب سے بڑے ڈیلر بھی ہمارے فوجی جرنلز ہیں اور جو ریٹائرڈ ہیں وہ ایجنسیاں اور کارپوریشنز چلا رہے ہیں، یوں پورے ملک کی باگ ڈور چند فوجی جرنلوں اور بیوروکریٹس کے ہاتھ میں ہے۔ پارلیمنٹ جسے جمہوری کہا جاتا ہے دراصل ایسے اکثریتی ارکان پر مشتمل ہے جو ایمپائر کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں اور جیسے ہی اشارہ ملتا ہے۔ اسکرپٹ کے عین مطابق بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ ہمارے فوجی جرنلز ملک کی باگ ڈور چلائیں مگر خدارا اب تو پاکستان کے عوام کو انصاف دلوا دیں، اب تو کراچی سے پشاور تک عوام کو کاش پاکستانی بنانے کے لئے بندوق اٹھالیں۔ اب تک تو ہم نے صرف اور صرف قومیتیں اور فرقے بنانے پر کام کیا ہے۔ اے کاش اب ہم اپنے گناہوں کا کفارہ اداکردیں کہ آنے والا وقت بہت کڑا ہے۔ اب بجلی چوروں، چینی چوروں، آٹا چوروں اور ملک میں لوٹ مار کرنے والے ہر فوجی، ہر سویلین، مذہبی لبادہ میں چھپے منافقین اور میڈیا کا ماسک چڑھائے ملک دشمن افراد کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا جائے بلکہ سیدھا بندوق کی نوک پر رکھ کر ٹریگر دبایا جائے۔ یہی اس ملک کا مسئلہ ہے اور یہی پاکستان کے مسائل کا حل۔ بندوق کی نوک پر بجٹ تو آج بھی پاس ہو گیا اور آئندہ بھی شاید ہو جائے مگر زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ نہایت بھیانک ہو گا اور جس کی آمد آمد ہے۔
سو خدارا عقل کے ناخن لیں اور بندوق کو ذاتی مفادات کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی سلامتی کے لئے استعمال کریں اور اگر یہ ناممکن ہو تو پھر بندوق والوں کو چاہئے کہ وہ تمام سویلین کو موت کی نیند سلا کر پاکستان کو ”فوجی فاﺅنڈیشن کا پاکستان“ بنا لیں۔ کم از کم کوئی تو ہو جو اس ملک سے استفادہ حاصل کرے۔ ہم شکر ادا کریں گے کہ چلو ہمارے کلمہ گو ہی ہیں جو آج قائد اعظم کے جنازے پر بننے پاکستان کو آج تک کاندھا دیئے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں