منشیات کا جال 181

پاکستان میں بے روزگاری کی اہم وجوہات

پاکستان کی موجودہ حکومت کے لیے پہلے ہی کریشن جیسے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔ جو کے پاکستان کے ہر مسائل کی بنیادی جڑ ہے۔جس کے سبب وزیراعظم عمران خان کو بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان کی 50 فیصد عوام عمران خان کی حکومت سے خوش نظر نہیں آتی ہے۔۔جس کی اہم وجہ پاکستان میں بڑتی ہوئی مہنگائی، اور بے روزگاری ہے۔ پر سوال یہ ہے ان سب لوگوں سے یہ چیزیں پہلے کی حکومت میں کیا صفر شرح میں موجود تھی۔ بالکل نہیں سابق حکمران نے تین بار حکومت میں آنے کے باوجود مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح صفر تک لے کرآنے میں ناکام رہے تو یہ کیسے ممکن ہے۔۔ کوئی نیا حکمران ،حکومت میں آتے ہی۔۔ پورے کرپٹ نظام کو درست کر دے۔۔ سمندر میں اتر کر اس کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔عمران خان کے ساتھ بھی یہ ہی ہوا ہے۔ حکومت میں آنے کے بعد ان اندازہ ہوا ہے۔۔ پاکستان میں کریشن کی گہرائی کیا ہے، کریشن پاکستان کا سب سے بڑا بنیادی مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کی اہم ضرورت ہے۔۔اور۔ یہ ایک ہی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان میں کرپشن سے پاک حکمران آئیں اور آس پاس کے لوگ بھی کرپٹ نظام کی لپیٹ میں نہ ہو۔۔ اس طرح کا نظام جب ہی قائم ہوسکتا ہے۔ جب پاکستان کی نوجوان نسل اپنے بہتر مستقبل کے لیے اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھائی گی۔۔ آج پاکستان میں ہر ادارے میں کریشن موجود ہے۔ بہت کم ہی ایسے ادارے موجود ہیں۔۔ جو کر پٹ نہیں ہیں۔۔ ویسے تو پاکستان بہت سے اہم مسائل سے دو چار ہے۔ پر اس وقت پاکستان کی نوجوان نسل کا اہم مسئلہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جو کے پاکستان کی معیشت کے لحاظ سب سے بڑی اہمیت کے حامل ہے۔۔ اس میں موجود 40 فیصد نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں۔۔ اور تعلیمی یافتہ ہونے کے باوجود دوسرے کام کرنے پر مجبور ہیں۔۔ تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔۔۔ جب کراچی جیسے بڑے شہر کا یہ حال ہے تو دوسرے شہروں کا کیا ہو گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گ?ی ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح نو اعشاریہ ایک (9.1)فیصد ہو گ?ی ہے۔ اور یہ بے روزگاری پچھلے پندرہ سال کے دوران میں زیادہ ہوئی ہے۔۔۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیٹڈ نیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نوجوان مردوں اور خواتین کی شرح برابر ہے۔ جبکہ 70 فیصد نوجوان پڑھے لکھے ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ 29 فیصد کی عمر15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔ رپورٹ کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی 80 فیصد آبادی نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ 100 میں سے 64 نوجوان شہروں میں آباد ہیں 84 فیصد نوجوان پاکستان کے روشن مستقبل کی امید رکھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف 24 فیصد نوجوانوں کو سیاست دانوں پر اعتماد ہے۔ اس کے باجودہ 90 فیصد لڑکوں اور 55فیصد لڑکیوں کا کہنا ہے۔ کہ وہ آئندہ الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے۔ پاکستان کے روشن مستقبل لے لیے۔۔۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ کھیلوں کی سہولتیں صرف سات فیصد نوجوانوں کو حاصل ہیں۔ 85 فیصد انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ 48 فیصد کے پاس ذاتی موبائل فون بھی نہیں ہیں۔ ملک کی 33 فیصد نوجوان آبادی شادی شدہ ہے55 فیصد پنجاب اور 23 سندھ میں رہ رہے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے۔ کہ پاکستان میں صرف 39فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں۔ زیادہ تر مردوں اور خواتین کو روزگار کی تلاش ہے۔ پاکستان میں 77 فیصد نوجوان روزگار کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ 15 سے 29 سال کی آبادی ملک کی مجموعی لیبرفورس کا 41.6 فیصد ہے۔ جبکہ 40 لاکھ نوجوان ہر سال جاب مارکیٹ میں داخل ہو رہےہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہر سال دس لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 77فیصد نوجوان ذاتی سواری سے محررم ہیں۔ صرف 12فیصد کے پاس اپنی سواری ہے جبکہ محض ایک فیصد افراد ذاتی کار رکھتے ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے۔ اور آج بھی اس شہر کے لوگ چنگ جی، رکشوں اور بسوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پنجاب حکومت نے قدر ے بہتر کام کیا ہے۔ ملتان ،لاہور اور راولپنڈی میں میڑوبس منصوبے مکمل کیے گئے جبکہ ٹرین کے منصوبہ پر بھی کام کیا گیا ہے ۔
پاکستان میں سابق حکومت کے ساتھ موجودہ حکومت بھی اب تک تعلیم ادارے بہت اچھا کام کرنے میں نہ کام نظر آتی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں آج بھی تعلیمی ادارے میں اچھے تعلیمی نظام پر مشتمل اسکولوں سے محروم ہیں۔رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ترقی یافتہ شہروں میں لاہور اور راولپنڈی شامل ہیں لیکن ڈی جی خان ، راجن پور اور مظفرگڑھ کا شمار ہیومن انڈیکس میں سب سے نچلی سطح پر ہوتا ہے۔ تعلیم کے حوالے سے بھی لاہور اور راولپنڈی میں شرح تعلیم بلند اور رحیم یارخان ، مظفرگڑھ اور راجن پور کی پست ترین ہے۔ اس طرح صحت کے شعبے میں ترقی کی شرح میانوالی ، ڈی جی خان اور بھی کم ترین رہی ے۔
پاکستان نیشنل ہیومن ڈیویلمپنٹ کے مطابق ملک میں تعلیم اور روزگار کے اعدادوشمار تسلی بخش نہیں ہیں۔
پاکستان کے 36 فیصد نوجوان اپنے مستقبل سے نا امید ہیں۔ 16فیصد کی رائے ہے۔ کہ مستقبل میں کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ ایک سال، پانچ سال کی عمرکے بچوں کے لیے تعلیم 16 فیصد ، چھ سے دس سال کی عمر تک 40 فیصد گیارہ سے 12 سال کے درمیان کے لیےصرف نوفیصد اور 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے صرف چھ فیصد مواقع حاصل ہیں۔29 فیصد افراد کو تعلیم کی سہولتیں ہی میسر نہیں۔ اسکولوں میں داخلے کی شرح ایک فیصد بھی نہیں بڑھ رہی۔ انرولمنٹ کی موجودہ رفتار میں اضافہ نہ ہوا تو اسکولوں سے باہر بچوں کی شرح صفر کرنے کا ہدف پورا کرنے میں 60 سال لگ جائیں گے جبکہ 2030 تک تمام بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے انرولمنٹ کی شرح تین اعشاریہ آٹھ (3.8)فیصد سالانہ بڑھانی ہوگی۔ صوبوں کے ضمن میں پنجاب کا ایچ ڈی آئی صفر اعشاریہ سات تین دو (0.732)کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ جبکہ بلوچستان صفر اعشاریہ چار دو ایک (0.421)کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔ افسوس کی بات ہے۔ پاکستان کو آزاد ہوئے اتنے سال کے بعد بھی پاکستانی عوام بنیادی مسائل سے پریشان ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی منہگائی اور اس پر بے روزگاری پاکستانی نوجوان کا مستقبل برباد کر رہی ہے۔منہگائی، بے روزگاری کی اہم وجہ کریشن سے ہی وابستہ ہے۔۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی ، اس پر بے روزگاری سے دن با دن جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جب تک پاکستان میں کریشن کے خلاف درست کام نہیں ہو گا۔ مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کرنا نا ممکن ہی ہے۔ چاہے پٹرول ہو، سبزی منڈی ہو ، یا دودھ سپلائی ہو وغیرہ ہر جگہ ایک مافیا موجودہ ہے۔ کریشن سے پاک حکمران کے ساتھ ساتھ ان مافیا کے خلاف بھی کام کرنے کی اہم ضرورت ہے۔۔ نئے حکمران آنے سے ہی پاکستان کے نوجوان نسل کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے لیکن ان تمام تر صورت حال کے لیے ضروری ہے پاکستانی عوام کا اپنے بنیادی حقوق کے لیے یکساں ہو کر کام کرنا۔۔ جب ہی ہر کرپٹ مافیا ختم ہوگا۔۔ جس دن پاکستانی عوام کو اندازہ ہو جائے گا کہ یکساں ہو کر ایک قوم کی طاقت کیا ہوتی ہے اس دن پاکستان کی آنے والی نسل کا مستقبل روشن ہوگا۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں