پاکستان میں نظام کی بے بسی! 46

پاکستان میں نظام کی بے بسی!

مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2018ءمیں جب اقتدار چھوڑا تھا، اس وقت ان کے پچھلے ادوار میں ہونے والے بے تحاشہ اخراجات اور اختیارات کا ناجائز استعمال بطور چارج شیٹ عوام اور عدالتوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے عوام کے ٹیکسوں سے کشید کردہ سرمائے کو تماش بینوں کی طرح اڑایا۔ مسترد شدہ سیاست دانوں، بیوروکریٹس، فیملی ممبران اور صحافیوں کی ظفر موج کو دنیا بھر کی سیاحت کروائی گئی حتیٰ کہ عمرہ کے لئے خصوصی جہاز بھر بھر کے اپنوں کو لے جایا گیا۔ جس پر خطیر رقوم خرچ ہوئیں۔ جس پر کسی عدالت یا ادارے کے سر پر جوں تک نہ رینگی کیوں کہ یہ سب اس میں کسی نہ کسی طرح ملوث تھے۔
آصف زرداری اور نواز شریف نے دبئی اور لندن کے متعدد پرائیویٹ دورے کئے۔ اپنا علاج معالجہ سرکاری خرچ پر کرواتے رہے حتیٰ کہ ان کے بیرونی ملک دوروں کے دوران پی آئی اے کے جہاز انہی ایئرپورٹس پر کھڑے رہتے لہذا ان کی پارکنگ فیس کے علاوہ فیول کے لامحدود اخراجات حکومت کو برداشت کرنا پڑتے۔
عمران خان نے اپنی انتخابی مہم اور اس سے پہلے بھی یہ باتیں عوام کو کھول کھول کر بتائیں بلکہ آسان زبان میں سمجھائیں۔ جس کا اللہ کا شکر ہے کہ وطن عزیز کے بچے بچے کو تو علم ہو چکا ہے اور ان کی بد نامی دنیا بھر میں نا صرف پاکستانی کمیوٹی میں ہو رہی ہے، بلکہ دنیا کے پاور سینٹرز میں بھی اس بات کا چرچا ہوتا رہتا ہے۔ ان کو اندرون اور بیرون ملک لوگ گالیاع نکالتے ہیں، ان پر آوازیں کستے ہیں، ان کی عزت خاک کے برابر رہ گئی ہے۔
پچھلے دنوں عمران خان حکومت کو جس طرح سازش کرکے ہٹایا گیا اس کے پر تو آہستہ آہستہ کرکے کھل رہے ہیں اور عوام الناس میں ان کے خلاف شدید غم و غصہ بھرا ہوا ہے لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ بعداز حکومت خاں کے تمام جلسوں میں عوام کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ اس کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے لیکن عوام نے کسی سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو نقصان نہیں پہنچایا۔ ایک گملا یا پتہ تک نہیں ٹوٹا جب کہ نواز شریف کو نا اہل قرار دیئے جانے کے بعد اس کے جی ٹی روڈ مارچ کے دوران گوجرانوالہ کے قریب ان کی گاڑی کے نیچے ایک بچہ آگیا تھا اور وہ جانبر نہ ہو سکا، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جمہوریت کا پہلا شہید ہے اور مڑ کر کبھی ان کی فیملی کو نہیں پوچھا۔
خان حکومت کے پونے چار سال میں جتنا ممکن ہو سکا اس نے عوام کے ٹیکس کے پیسے کو بڑے دھیان کے ساتھ استعمال کیا اور کوئی فضول خرچی کسی جگہ نہیں کی۔ اگر خان بھی انہی کی طرز پر سیاست کرتا تو اس کی حکومت جاتی اور نہ یہ چور ٹولہ متحد ہو کر ایک اکثریتی پارٹی کی حکومت کو چلتا کرتے۔ عمران خان کو جو سزا ملی ہے وہ باقی وجوہات تو ہیں مگر اس نے سرکاری خزانے کو کسی پر خرچ نہیں ہونے دیا۔ پہلی دفعہ کسی حکومت نے معاشی میدان میں اگلی حکومت کے لئے بہتر خزانہ چھوڑا ہے۔
مگر صد افسوس کہ شہباز شریف اور ان کے حواریوں کا وہی طریقہ واردات ہے جو نواز شریف کا تھا۔ وزیراعظم ہاﺅس میں سیاست دانوں اور صحافیوں کو کھانے کھلانے اور اب موصوف عمرہ کے لئے سعودی عرب جارہے ہیں جس میں وہ تمام اتحادی جماعتوں کے ملزمان کو ساتھ لے جارہے ہیں اور راتوں رات ان کے نام ای سی ایل لسٹ سے خارج کردیئے گئے ہیں۔ اس اپوزیشن کو سپورٹ کرنے والے صحافیوں کی خوشامدی فوج ظفر موج بھی ساتھ جارہی ہے، اتنا بڑا ڈاکوﺅں کا گروپ گنگا اشنام کرنے جا رہا ہے کہ اس کے لئے پی آئی اے 777 بوئنگ مانگا گیا ہے۔ اس جہاز کی گنجائش تقریباً پونے چار سو افراد کو لے جانے کی ہے ان کو کسی عدالت، ادارے، میڈیا اور عمران خان جیسی واحد اپوزیشن کا ڈر نہیں ہے کیوں کہ چند مہینوں کی یہ حکومت کسی بھی وقت گر پڑے گی۔ اس کے لئے ہوم ورک شروع ہو چکا ہے، ان کو خدا کا خوف بھی نہیں ہے کہ یہ کیا کرنے جارہے ہیں۔ اللہ ان کو ہدایت دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں