114

پاکستان میں وینٹی لیٹرز کی گنجائش 4 گنا بڑھانے والا پرزہ تیار

کراچی: پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے پرزہ جات بنانے والی انجینئرنگ فرم ”الفا ربر اینڈ پلاسٹک ورکس “نے پاکستان میں دستیاب وینٹی لیٹرز کی گنجائش میں یک دم چار گنا اضافہ کردیا۔ اس فرم نے مقامی سطح پر میڈیکل گریڈ پلاسٹک سے ایک ایسا پرزہ تیار کرلیا ہے جسے میڈیکل کی اصطلاح میں Ventilator splitter / connector ventilator کہا جاتا ہے، اس پرزے کے ذریعے ایک وینٹی لیٹر سے نکلنے والےآکسیجن پائپ بیک وقت چار مریضوں کو لگائے جاسکتے ہیں۔
اس طرح ملک بھر میں دستیاب وینٹی لیٹرز کی گنجائش چار گنا بڑھائی جاسکتی ہے۔ یہ پرزہ پنجابآئی ٹی بورڈ نے ہنگامی بنیادوں پر ڈیزائن کیا۔ لاہور میں موٹرسائیکل کے پرزہ جات بنانے والی فرم الفا ربر اینڈ پلاسٹک ورکس نے یہ پرزہ دن رات کی محنت کرکے 72گھنٹوں میں تیار کرلیا جو اب ایک ہزار یومیہ کی تعداد میں تیار کیا جارہا ہے اور پنجاب کے مختلف سرکاری اور نجی میڈیکل یونٹس میں کورونا کے مریضوں کی زندگیاں بچانے کے لیے زیر استعمال ہے۔
امریکا کے بعد پاکستان دوسر ا ملک ہے جہاں یہ پرزہ تیار کیا گیا ہے اور کورونا کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار ثابت ہوگا۔ الفا ربر اینڈ پلاسٹک ورکس کے سربراہ اسامہ عثمان نے بتایا کہ پنجابآئی ٹی بورڈ ”پلان نائن “ نے لاک ڈاو¿ن کے دوران ان سے رابطہ کیا اور تھری ڈی پرنٹر پر تیار کیے گئے ایک ابتدائی نمونے کو تیار کرنے کی درخواست کی۔
اسامہ کے مطابق تھری ڈی پرنٹر سے یہ پرزہ 6گھنٹے میں بن رہا تھا اور اس پر بہت زیادہ لاگت آرہی تھی جبکہ اس کی لائف بھی بہت کم تھی ، انھوں نے اپنے انجینئرز اور ڈیزائنرزسمیت مولڈ کے کاریگروں کے ساتھ یہ پرزہ صرف 72گھنٹوں میں تیار کرلیا۔
یہ کام دن رات کام بلا توقف جاری رہا جس کے لیے پنجاب حکومت سے خصوصی اجازت لی گئی۔ پرزے کا ٹرائل لاہور فیروز پور روڈ پر واقع ہسپتال میں کیا گیا ابتدائی نمونوں کو مزید بہتر بنانے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے کامیاب قرار دے دیا ہے اور اب اس پرزہ کی پنجاب بھر میں سپلائی شروع کردی گئی ہے ، اسامہ عثمان کے مطابق ان کی فرم یومیہ ایک ہزار کی تعداد میں یہ پرزہ تیار کررہی ہے تاکہ استعمال کے بعد اسے ڈسپوز کرنے کی صورت میں بھی پورے ملک میں اس کی قلت نہ ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ پرزہ پر اٹھنے والی تمام لاگت بھی انھوں نے خود برداشت کی ہے اور یہ پرزہ بلامعاوضہ فراہم کیاجارہا ہے۔
انہوں نے پنجاب حکومت سے اس بات کو یقینی بنانے کی درخواست کی ہے کہ اس پرزہ کو صرف فلاحی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اس کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کی جائے اس مقصد کے لیے پرزہ پر فرم کا خصوصی نشان بھی کندہ کیا گیا ہے۔
وینٹی لیٹر کی استعداد بڑھانے والا یہ پرزہ وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کے ذریعے ملک بھر میں فراہم کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر حکومت پاکستان یہ پرزہ کورونا کی وباکا شکار ملکوںکو بھی فراہم کرسکے گی۔ اسامہ عثمان نے کہا کہ یہ پرزہ دنیا میں جہاں ضرورت ہوگی بلامعاوضہ فراہم کریں گے تاکہ انسانیت کی بقا کے لیے پاکستان کا نام پوری دنیا میں اونچا کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک بھر میں نجی ہسپتال اور این جی اوز ان سے رابطہ کررہی ہیں تاہم ان کی صرف ایک شرط ہے کہ اس پرزہ کی قیمت وصول نہ کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں