ویت نام کے بعد افغانستان سے امریکہ کی رسوائی اور واپسی 134

پاکستان کی بیٹی اُم رُباب کی فریاد!

سینکڑوں سال پہلے سندھ کی ایک بیٹی کی فریاد پر محمد بن قاسم اپنے لشکر کے ساتھ پہنچا اور اس نے تاریخ رقم کردی۔ نہ صرف فریادی کی داد رسی کی بلکہ برصغیر ہندوستان میں اسلام کی بنیاد رکھی۔
آج پھر اندرون سندھ کے ایک ضلع دادو کی تحصیل مہرکی ”اُمِ رُباب“ جس کی عمر بیس سال ہے نے ایوان اقتدار اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے فریاد کی ہے کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے۔
ماجرا کچھ یوں ہے کہ ”اُمِ رُباب“ کے بھائی کی شادی تھی۔ جنوری 2018ءکی سرد شام اس فیملی کے لئے خوشیاں لے کر آئی، گھر میں مہمانوں سے رونق لگی ہوئی تھی، ہر طرف جشن کا سا ماحول تھا، بہنیں اور قریبی رشتہ دار خواتین ڈھولک کی تھاپ پر شادی کے نغمے گا رہی تھیں۔ بچی ادھر سے ادھر دور رہے تھے، کھیلوں میں مصروف تھے، اگلے دن بارات تھی۔ ہر فرد خوشی سے نہال تھا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
سندھ کی چانڈیو فیملی کے موجودہ اسمبلی کے ایم پی اے نے ساتھیوں کے ساتھ اُم رباب کے دادا، والد اور چچا کو دن دیہاڑے قتل کردیا۔ خوشیوں بھرا گھر ماتم کدہ بن گیا۔ ام رباب کی فیملی کی سندھ کے ان سرداروں اور وڈیروں سے کوئی دشمنی نہ تھی، صرف ان کے سامنے ان کی فیملی غلامی قبول نہیں کررہی تھی۔ یہ بلوچ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک پڑھی لکھی فیملی ہے۔ ام رباب نے ان وڈیروں کے خلاف سر پر کفن باندھا ہوا ہے اور انصاف کی تلاش میں عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے۔ اب تک یہ بچی دو سو سے زائد پیشیاں بھگت چکی ہے۔ ہر پندرہ دن بعد کی تاریخ ڈال دی جاتی ہے۔ یہ بچی عدالتوں کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ننگے پاﺅں جاتی ہے تاکہ اس کی گندی جوتیوں سے عدالت کا وقار مجروح نہ ہو مگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
ام رباب کا کہنا ہے کہ ریاست مدینہ میں وہ انصاف کے حصول کے لئے ماری ماری پھر رہی ہے لیکن انصاف اس سے کوسوں دور ہے اس کا کہنا ہے کہ اب وہ تھک چکی ہے مگر ہار نہیں مانی۔ اس نے کراچی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے بھی ملاقات کرکے اپنی داد فریاد سنائی مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے خدشہ ہے کہ سردار مجھے گولی مار دیں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو میں اللہ کے پاس جا کر ان لوگوں کی شکایت کروں گی جن کے ہاتھ میں انصاف مہیا کرنا تھا اور جو برسر اقتدار تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
ام رباب کی فیملی کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہ واقعات مملکت خداداد میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن لوگوں کو انصاف نہیں ملتا۔
ماڈل ٹاﺅن لاہور کا واقعہ سب کے علم میں ہے کہ آج کئی سال گزر جانے کے باوجود مظلوم دربدر ہیں، سابقہ حکومت کے کرپٹ سیاستدان کس طرح اس واقع سے لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے۔ حتیٰ کہ مظلوموں کے خلاف ایف آئی آر کرادی گئی۔ اس طرح کا اپاہج نظام انصاف کے خلاف عمران خان نے اپنے جلسوں میں علم بغاوت بلند کیا اور قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ قانون سب کے لئے برابر کریں گے۔ سستا اور فوری انصاف کا راستہ ہموار کریں گے۔ لیکن حکومت اور اپوزیشن کی دھینگا مشتی میں کوئی خاطرخواہ قانون سازی نہیں ہو سکی ہے اس میں سب سے بڑی رکاوٹ پی ٹی آئی حکومت کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اکثریت کا نہ حاصل ہونا ہے۔ جہاں تک ذاتی طور پر عمران خان کا تعلق ہے تو وہ بڑی بڑی تبدیلیاں کرنا چاہتا ہے۔ مگر ایوانوں میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے مجبور ہے۔ آئندہ آنے والے سینیٹ انتخابات میں قوی امکان ہے کہ موجودہ حکومت کو سینیٹ میں سادہ اکثریت حاصل ہو جائے گی جس سے قانون سازی کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
ساری قوم وزیر اعظم، چیف جسٹس صاحبان، چیف منسٹر سندھ اور بلاول بھٹو سے اپیل کرتی ہے کہ اس واقعہ کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس مظلوم خاندان کو جلد از جلد انصاف مہیا کیا جائے وگرنہ روز قیامت آپ کے گریبان ہوں گے اور ان مظلوموں کے ہاتھ اور وہ دن بڑا بھاری ہو گا۔ اس دن کی جماعت اور جوابدہی سے بچنے کے لئے تمام مظلوموں کو انصاف مہیا کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں