اسلام آباد کی آل پارٹیز کانفرنس کا احوال! 143

پرائم منسٹر ٹروڈو کے خلاف نیا اسکینڈل “WE” Charity Scandal

پرائم منسٹر جسٹن ٹروڈو نے 2015ءمیں وزیر اعظم بننے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ان کی سیاست روایتی طریقوں سے ہٹ کر ہو گی لیکن ان کے دور حکومت میں یہ تیسرا اسکینڈل منظرعام پر آیا ہے۔ اس سے پہلے کینیڈا کے کسی وزیر اعظم پر کسی کو نوازنے کا مالیاتی اسکینڈل نہیں ہے۔
”وی“ چیرٹی گلوبل لرننگ سینٹر جس کا مرکزی آفس ٹورنٹو میں ہے، یہ تنظیم 1995ءمیں معرض وجود میں آئی، اس کے کو۔فاﺅنڈرز ”کریگ“ (Craig) اور ”کیل برگر“ (Kielburger) ہیں۔
“WE” بنیادی طور پر انسانی حقوق سے متعلق چار شعبوں میں مختلف ممالک میں کام کرتی ہے جس میں تعلیم، صاف پانی، صحت، خوراک اور کمزوروں کو معاشی مواقع فراہم کرنا ہے۔
“WE” نہ صرف اندرون ملک نوجوانوں کے لئے کام کرتی ہے بلکہ یہ امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ افریقہ، ایشیا اور وسطی امریکہ کے ممالک میں بھی فعال کردار ادا کررہی ہے۔ یہ تنظیم انڈیا، کینیا اور ایکواڈور میں بھی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ یہ تنظیم طالبعلموں کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقوں کے لئے خوراک اور کپڑے وغیرہ پہچانے کا کام لیتی ہے۔ یہ تنظےم اپنے ڈونرز کو قائل کرتی ہے کہ فلاں ملک میں ہمیں پینے کا صاف پانی مہیا کرنا ہے اور بچوں کے لئے اسکول تعمیر کروانے ہیں۔ لہذا وہ چیرٹی کریں۔
جسٹس ٹروڈو کے خلاف اپوزیشن نے ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں جن میں ”بل مورنو“ وزیر خزانہ اور دوسرے حکومتی اراکین اور بیوروکریسی کی ای میلز بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن نے نو سو ملین ڈالر سے زائد کی گرانٹ مختص کئے جانے کے انکشافات کئے ہیں۔ اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ “WE” کے ساتھ ٹروڈو اور بل مورنو فیملی کے قریبی قریبی تعلقات ہیں اور انہوں نے اس سے مالی فائدے حاصل کئے ہیں۔
اپوزیشن کا مزید کہنا ہے کہ ٹروڈو کی والدہ ”مارگریٹ“ بیوی ”صوفی“ اور بھائی ”الیگزینڈر“ کے اس تنظیم کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ہیں جو کہ conflict of interest کی تعریف میں آتے ہیں۔ یہ بات Ethics Commissioner ماریو ڈائیون “Mario Dion” نے کہی ہے۔
الزام ہے کہ پچھلے چار سال کے دوران ”مارگریٹ ٹروڈو“ نے “WE” کے مختلف چیریٹی فکشنز میں بطور اسپیکر بولنے اور شرکت کرنے کے عوض دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر وصول کئے ہیں جب کہ الیگزینڈر ٹروڈو نے اسی کام کے عوض بتیس ہزار ڈالر وصول کئے ہیں۔ یہ رقوم 2017-18ءمیں ہونے والے چیریٹی شوز میں شرکت کرنے پر وصول کی گئیں۔
سابق وزیر خزانہ بل مورنو پر الزام ہے کہ اس نے اکتالیس ہزار ڈالر کی رقم وصول کی ہے جب کہ اس کی ایک بیٹی اس تنظیم کے پے رول پر ہے۔ اس اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد ٹروڈو اور بل مورنو کو میڈیا کی شدید نقطہ چینی کا سامنا ہے۔ بل مورنو نے دل برداشتہ ہو کر وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جب کہ ٹروڈو کو Ethics Commissioner کے سخت سوالات کا سامنا ہے۔ “WE Scandal” کی لائیو تحقیقات کے دوران وزیر اعظم کو اپوزیشن جماعت کے سخت اور دو ٹوک سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کا وزیر اعظم کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
“WE” کے لئے مختص کی گئی 900 ملین ڈالر کی گرانٹ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران پوسٹ سیکنڈری طالبلعموں کو چیرٹی کے کاموں میں معاونت کرنے پر 10 ڈالر فی گھنٹہ دی جاتی تھی جو کہ کرونا وائرس کے باعث منسوخ کردی گئی تھی لہذا یہ گرانٹ ابھی استعمال نہیں ہوئی اور شدید دباﺅ اور نقطہ چینی کے بعد اس کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر وہ یہ اسکینڈل منظرعام پر نہ لے کر آتے تو یہ گرانٹ چیریٹی تنظیم کو منتقل کر دی جاتی۔ جس سے ملکی خزانے کو بہت بڑا نقصان ہوتا اور عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ کرپشن کی نظر ہو جاتا۔ “WE” ایک چیریٹی تنظیم ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے مگر الزام یہ ہے کہ ٹروڈو اور مورنو فیملی کے ان کے ساتھ ذاتی مراسم ہیں اور انہیں نوازنے کے لئے یہ گرانٹ دی جارہی تھی۔ جس کے پلیٹ فارم سے ٹروڈو کی والدہ، بیوی اور بھائی نے مالی فوائد حاصل کئے ہیں۔
دنیا بھر میں قائم NGO’s اور چیریٹی تنظیموں کو موصول ہونے والے فنڈز کی شفافیت پر سوال اٹھتے رہتے ہیں، چاہے یہ تنظیمیں دنیا کے کسی ترقی پذیر ملک میں ہوں یا ترقی یافتہ ملک میں۔ غریب اور نادار لوگوں کی مدد کے بہانے پرائیویٹ لوگوں سمیت بڑے بڑے ممالک اور اداروں سے خطیر رقوم وصول کی جاتی ہیں اور اس میں سے کچھ خرچ کردیا جاتا ہے اور کچھ جیبوں میں ڈال لیا جاتا ہے۔ یہ پریکٹس تمام ممالک میں رائج ہے لیکن ان تنظیموں میں صاف اور شفاف طریقے سے کام کرنے والی بھی ہیں جن پر لوگ اور ادارے اعتماد کرتے ہیں اور انہیں آنکھیں بند کرکے چیریٹی کرتے ہیں۔
وزیر اعظم کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان کے خلاف جو فرد جرم عائد کی گئی ہے اس سے وہ انکاری ہیں اور انہوں نے اپنے دفاع میں بہت کچھ کہا ہے اس کے علاوہ لبرل پارٹی کے سرکردہ ایم پی بھی ٹروڈو کی حمایت کے لئے میدان میں آگئے ہیں۔
Ethics Commissioner اس کی انکوائری کے سربراہ ہیں اور اس میں وہ مختلف گواہوں کے بیانات قلمندر کررہے ہیں۔ دونوں طرف سے بھرپور دلائل دیئے جارہے ہیں۔ سماعت ابھی جاری ہے، اس کے حتمی فیصلے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس سے پہلے LAVAL اسکینڈل میں بھی ٹروڈو سرخرو ہو چکے ہیں۔ دیکھئے اس بار کیا ہوتا ہے۔ اس میں مجھے صرف Conflict of Initiate نظر آتا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ انکوائری چل رہی ہے کیوں کہ گرانٹ منسوخ ہو چکی ہے اور جہاں تک سوال ہے کہ ٹروڈو کی والدہ، بیوی اور بھائی نے “WE” کے چیریٹی شوز میں بطور اسپیکر شرکت کرکے رقوم وصول کی ہیں، یہ تو پوری دنیا میں عام پریکٹس ہے کہ با اثر افراد لیکچر دے کر یا Motivational گفتگو کے عوض فیس وصول کرتے ہیں۔ وہ لوگ اپنی Skill کے عوض پیسے وصول کرتے ہیں لیکن یہاں چونکہ تینوں افراد وزیر اعظم کے فیملی ممبران ہیں اس لئے معاملہ کافی حساس ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں