یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں ہنود 111

پنجاب اور پنجابی عوام

کہتے ہیں ایک ظالم اور بے رحم سپاہی نے ایک درویش کے سر پر پتھر دے مارا۔ درویش نے اس کی طرف دیکھا اور اسے صاحب اختیار اور طاقت ور پایا تو اس وقت خاموش ہو رہا۔
بیان کیا جاتا ہے کہ کچھ عرصے بعد اس ظالم سپاہی پر اللہ کا قہر نازل ہوا اور وقت کا بادشاہ کسی بات پر اس سے ناراض ہو گیا اور اس کو کنویں میں قید کردیا۔
اتفاق سے ایک دن وہ درویش اس کنویں کے قریب سے گزرا جس میں سپاہی بند تھا۔ درویش نے اپنے دشمن سپاہی کو اس حالت میں دیکھا تو وہی پتھر اپنی جھولی سے نکالا اور سپاہی کے سر پر دے مارا۔
سپاہی درد سے بلبلا اٹھا اور منہ اٹھا کر درویش سے کہا ”بندئہ خدا تو نے ناحق مجھے کیوں مارا؟“
درویش نے جواب دیا کہ میں نے تجھے ناحق نہیں مارا۔ مجھے پہان میں وہ ہی ہوں جس کے سر پر تو نے بے وجہ پتھر مارا اور یہ پتھر بھی وہ ہی ہے جو میرے سر پر لگا تھا۔ اس وقت تو صاحب اختیار اور طاقت ور تھا اور میں مجبور و بے کسی۔ اب خدا نے تجھے اس حالت کو پہنچایا تو بدلہ اتارنے کا موقع ملا۔
ہاتھ میں نا اہل کے گر ہو زمام اقتدار
تو اگر عاقل ہے شیوہ صبر کا کر اختیار
پنجہ و فولاد اگر رکھتا نہیں خاموش رہ
عافیت ہے ظلم سہنے میں بُروں کو کچھ نہ کہہ
ہاں اگر تقدیر ظالم کو کرے خوار و زبوں
توڑ اس کی ہڈیاں بڑھ کر، بہا دے اس کا خوں
پچھلے دنوں میڈیا پر ابصار عالم کی تحریر کی گونج سنائی دی جو انہوں نے پنجاب پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے تحریر کی۔ اس پر کچھ نے اپنے اپنے خیالات کا بھی اظہار کیا، کچھ نے ان کے خیالات کی بھرپور انداز میں تائید کی۔ کچھ حلقے ان کی مخالفت پر اتر آئے، اس طرح کے خیالات موجودہ زمانے میں میڈیا کی ترقی کے باعث فوراً لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ پچھلے دور میں ایک کتاب بھی اس ہی طرح کی موضوع کے حوالے سے تحریر کی گئی تھی اس میں صرف ایک طرف کے فریق کے افکار اور خیالات یا نظریات کی وکالت کا انداز اختیار کیا گیا تھا۔
پنجاب کا مقدمہ۔ یہ کتاب ذوالفقار علی بھٹو کی پنجاب کے الیکشن میں بھرپور کامیابی کے بعد ان کے وزیر اعلیٰ حنیف رامے نے تحریر کی تھی۔ حنیف رامے کی شخصیت ایک سیاست داں سے زیادہ مفکر، رائیٹر اور فنکار کی حیثیت سے پورے پاکستان میں پہچانی جاتی تھی۔ وہ ایک سیاستدان سے زیادہ اپنی اس طرح کی دوسری خصوصیت کی وجہ سے ایک عرصے تک عام لوگوں کے ذہنوں میں ایک بھرپور مقام قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب پاکستان کے عوام کو پہلی بار حق رائے دہی کا آزادانہ اور منصفانہ موقع حاصل ہوا تو انہوں نے پنجابی فکر اور سوچ سے بالاتر ہو کر اس انتخاب میں ایک غیر پنجابی سندھی ذوالفقار علی بھٹو کو بھرپور انداز میں کامیاب کروا کر یہ ثابت کیا کہ پنجابی پر تعصبی ہونے کا جو الزام لگایا جاتا ہے وہ بڑی حد تک غلط ثاب ہوا جس کی وجہ پنجاب کی وکالت کرتے ہوئے اس کی صفائی میں حنیف رامے نے پنجاب کا مقدمہ نامی کتاب تحریر کی اور ثابت کیا کہ جب بھی پنجابی کو آزادانہ اظہار رائے کو موقع حاصل ہوا اس نے اپنے اوپر متعصب ہونے کے الزام کو غلط ثابت کیا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد جو تاثر پنجاب کے بارے میں قائم ہوا اس کی نفی پہلی بار ذوالفقار علی بھٹو کو پنجاب کی بھرپور حمایت کرکے یہ ثابت کیا کہ اس کے بارے جو عمومی تاثر قائم کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔
مگر جب پنجابی عوام نے یہ دیکھا کہ ان کی اس بھرپور حمایت کا غلط استعمال کرکے باقی قومیتوں اور بالخصوص بنگالیوں کے حقوق پر کس طرح ڈاکہ زنی کی گئی اور بنگالیوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے صوبوں خاص طور پر بلوچوں کے ساتھ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جو سلوک روا رکھا گیا اس سے پنجاب کے حصے میں اس ہی طرح کی گالی سے ہی جواب ملا۔
جب بھی پنجابی کو گالی پڑتی تو سمجھا جاتا کہ تمام پنجابی اس میں شامل ہیں۔ پنجاب کو ہر طرح کی خرابی کا ذمہ دار سمجھنے کی جو روایت قائم ہوئی اور ابتدائی طور پر فوج کی وجہ سے اس کو مورد الزام گردانا گیا۔
لیاقت علی خان کی شہادت کے پیچھے فوج اور کچھ حد تک بیوروکریسی کے اس طقبہ کو سمجھا گیا جس میں زیادہ تر پنجابی شامل ہوتے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے پنجابی کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر الزام تراشیاق بہت زیادہ ہوتی رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے معاشرے کی سمت مختلف بدلتی چلی گئی جس کی وجہ سے معاشرہ بد سے بد حالی تک گرتا چلا گیا اس تمام خرابی کا ذمہ دار مظلوم پنجابی کو گردانہ گیا کیونکہ اس کو فوج کا حمایتی اور پیروکار سمجھا جاتا تھا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پنجاب کو ہی صرف ہر خرابی کا ذمہ دار ٹھہرانے کی روایت غیر منصفانہ تھی۔ حکمران پنجابی کی وطن سے بے تحاشہ محبت کو ہی استعمال کرکے اپنے مخالفین کو نشانہ بناتے اور الزام پنجابی پر آتا اور نشانہ بننے والی دوسری قومیتیں بھی ان حکمرانوں کو ذمہ دار سمجھنے کے بجائے عام پنجابی کو ہی مورد الزام ٹھہراتے۔ اس طرح اصل طبقے ہر طرح سے مختلف ادوار میں ان معصوم پنجابی کو اپنی ڈھال بنا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کرتے رہے اس طرح تین غیر پنجابی وزیر اعظم کی لاشیں جب راولپنڈی سے دوسرے صوبوں کو وصول ہوئیں تو ذمہ دار عام پنجابی کو سمجھا گیا۔
اس تاثر کو قائم کرنے کے لئے اس سوچ کا سہارا لینا ضروری سمجھا جاتا کہ فوج کا ہمدرد اور پیروکار عام پنجابی ہے حالانکہ حاکم اعلیٰ اور نچلے درجے کے عام لوگوں کے درمیان بہت بڑا خلاءتھا جس کو حکمراں ہر دور میں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے اسٹیبلشمنٹ کے پیروکار بڑی تعداد میں پنجابی تھے لیکن تمام پنجابی فوج کے طرف دار نہیں تھے۔ جس طرح کہا جاتا تھا کہ تمام طالبان پختون نہیں مگر تمام پختون طالبان نہیں۔ اس ہی طرح ایم کیو ایم میں تمام مہاجر ہیں مگر تمام مہاجر ایم کیو ایم میں نہیں ہیں لیکن ہمارے معاشرے کی روایت اس طرح سے بن گئی ہے کہ وہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں اس ہی طرح تمام پنجابی بھی اس طرح کے تاثرات کے شکار ہو گئے۔
پچھلے دور میں جب بھی پنجابی کو موقع ملا اس نے اس آمروں کے خلاف کھل کر اپنی رائے کا اظہار جس کی بعد میں ان کو بڑی سزا ملی سب سے پہلے انہوں نے بھٹو کے جوشیلے نعروں سے متاثر ہو کر اس کو پورے پنجاب سب سے زیادہ اپنی آنکھوں پر بٹھایا۔ دوسری بار جب بے نظیر نے ضیاءکے خلاف اپنی مہم سندھ کے بجائے لاہور سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس نکال کر اپنے پنجابی حکمرانوں کے خلاف اعلان بغاوت بلند یا جس کی پاداش پہلے بھٹو کو منتخب کرنے کے جرم میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار عام پنجابی کو ٹھہرایا گیا دوسری بار بے نظیر کی حمایت کے جرم میں ان پر ضیاءالحق کو مسلط کیا گیا جس کا ازالہ اب تیسری موقع پر موجودہ دور میں پنجابی کھل کر جو اعلان بغاوت مریم نواز شریف کی قیادت میں متحد ہو کر اپنے ہی پنجابی حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہو کر کررہے ہیں۔
اس موقع پر خان عبدالغفار خان کے فرزند خان عبدالولی خان کا موقولہ انے زمانے میں بہت مقبول ہوا تھا کہ ”پاکستان میں جب بھی کوئی بنیادی تبدیلی آئی وہ عام پنجابی کی حمایت سے پنجاب سے وارد ہوگی“۔
موجودہ دور میں پنجابی اس درویش کی مانند کسی طرح استعماری قوتوں کے سر پر پتھر مار کر اپنا پرانا قرض چکار ہے ہیں یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ یعنی جو خاندان ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا اعلیٰ کار رہا آج اس خاندان کی نوجوان قیادت نے کسی طرح سے ان حکمرانوں کو چیلنج کیا جس کی حمایت ان کے بڑے بہت عرصے تک کرتے رہے۔ یہ بھی تاریخ کا ایک سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو بھی درویش کی طرح ظالم حکمراں پر پتھر مارنے کے لئے معمور کرے اس خاندان کو ہی اس کی تلافی کے لئے استعمال کرے۔
آج مریم نواز اور حمزہ شہباز تاریخ کے چہرے پر لگی سیاہی کو دھو رہے ہیں اس کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ہی بہانے پاکستان کے حالات میں وہ بنیادی تبدیلی پیدا کرے جس کے باعث پاکستانی عوام بھی ان نعمتوں سے معمور ہو سکیں جس کے انتظار میں گزشتہ بہتر سال سے غربت اور افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں اور اس خواب کی تعبیر بھی مل جائے جس کے لئے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں اور خصوصاً معصوم پنجابیوں نے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں