دیکھتا جا ، شرماتا جا۔۔۔ مگر کیا؟ 33

پہلے پاکستان اور کچھ نہیں!

امپورٹڈ حکومت کے وزیر اعظم شہباز شریف کو چین نے اپنے ملک میں آنے سے روک دیا ہے۔ پاکستان کے دیرینہ دوست پڑوسی ملک کا اس طرح کا ناروا سلوک کسی وزیر اعظم سے زیادہ ملک کی توہین ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے، سیاسی معاملات سیاسی انداز میں ہی حل کئے جانے چاہئے، دوسرے ہتھکنڈے جمہوریت سے زیادہ ملک کی رسوائی کا باعث بنتے ہیں، اس بدلتی ہوئی صورت حال کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ چین جیسے پاکستان کے سب سے زیادہ قریبی دوست کو یہ انداز اپنانا پڑا۔ سب کو اس صورتحال کا اچھی طرح سے فہم و ادراک ہے کہ پاک چین تعلقات کا دشمن کون ہے اور کون سی پیک کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے؟ کون اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان میں موجود چائنیز کو نشانہ بنا کر ان کے خون سے ہاتھ رنگ رہا ہے؟ جن کے مال و جان کو تحفظ دینا پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر موجودہ امپورٹڈ حکومت جو دراصل امریکہ کی اپنی حمایت یافتہ حکومت ہے اس حکومت میں پاکستان میں موجود چائنیز خود کو سرکاری سطح پر ہی غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اور خود چائنیز حکومت بھی کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ پر ایک بھرپور احتجاج حکومت پاکستان کے خلاف کرچکی ہے، اپنے اس احتجاج میں وہ صرف یہ کہنا بھول گئے کہ موجودہ حکومت خود ملک میں موجود چائنیز کے قتل میں ملوث ہے جس کے بعد ہی چین کی حکومت نے پاکستان میں موجود اپنے عوام کو چین واپس آنے کا حکم دے دیا تھا۔ جس کے بعد ہی چین کی حکومت نے یہ سخت ترین قدم اٹھایا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی اپنے ملک کا دورہ کرنے سے منع کردیا۔ اس پیغام سے یقیناً پاک چائنا مخالف لابی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہوگی اور وہ جشن منا رہے ہوں گے لیکن یہ صورتحال اب پاکستان کے اداروں کی اپنی حب الوطنی پر سوالات کھڑے کررہے ہیں کہ جو ادارے اس سازش میں براہ راست یا بالواسطہ ملوث تھے انہوں نے ایسا کرکے اپنے حلف کی پاسداری کی ہے، اس ملک سے وفاداری کی ہے یا پھر وہ غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ چین جانے والے اعلیٰ سرکاری قیادت کی یقین دہانیوں کو بھی چین کی حکومت نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ انہیں اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اس طرح کی غیر ملکی سازشیں اداروں کی شمولیت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
چین کے اس طرح کے ردعمل سے یقیناً ادارے والوں کو بھی اپنے قد کاٹھ کا علم ہو گیا ہو گا، سارے لوگ ان کے سیاستدانوں کی طرح سے بکاﺅ مال نہیں ہوتے کہ جنہیں ڈرا دھمکا کر ان سے اپنا کام نکلوا دیا جائے۔ غرض جو کچھ وطن عزیز کے ساتھ اس وقت خود اپنوں کے ہاتھوں سے کیا جارہا ہے اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے، شاید اسی کو کہتے ہیں ”گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ“ میں آج برمال یہ کہتے ہوئے عمران خان کا پوری پاکستانی قوم کی جانب سے شکریہ ادا کررہا ہوں کہ انہوں نے پاکستانی قوم کی آنکھیں کھول دی انہیں دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرادی اور یہ ثابت کروادیا کہ پاکستان کو ہمیشہ دشمنوں سے زیادہ خود اپنوں میں موجود دشمنوں کے ایجنڈوں یعنی میر صادق اور میر جعفروں نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، وہی غداروں نے آج تک ملک میں جمہوری طور طریقوں کو قبول نہیں کیا بلکہ اقتدار اور اس میں اپنی غیر مشروط شرکات داری کو اپنے باپ دادا کی میراث سمجھا ہے، پاکستان کی تباہی اور بربادی میں پاگل کو نہیں پاگل کی ماں کو مارو کے مصداق سیاستدانوں سے زیادہ خود ان ادارے والوں کا ہی ہاتھ ہے جو ہر لوٹ مار میں برابر کی شراکت داری ہوتی ہے مگر ان کے دامن پر کسی کو کوئی دھبہ تک نظر نہیں آتا۔ عمران خان انہیں اس لئے کھٹک رہا ہے کہ وہ انہیں ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کررہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس بار تو ادارے والے پورے طرح سے ننگے ہوگئے، ملک کا بچہ بچہ ان کے غلط کردار سے واقف ہو چکا ہے کہ کس طرح سے ان لوگوں نے ملک کے ساتھ ملک کی ترقی اور اس کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، قوم انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی، بلکہ پاکستانی قوم ترکی کی طرح سے انقلاب کی راہیں نہ صرف دیکھ رہی ہیں بلکہ اس کے لئے دعاگو بھی ہیں، اس لئے ہر محب الوطن پاکستانی کے لئے سب سے پہلے پاکستان ہے اس کے بعد ادارے ہیں، ملک ایک سیاستدان قائد اعظم نے حاصل کیا تھا کسی اور نے نہیں۔۔۔!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں