بال جسٹس فائز عیسیٰ کے کورٹ میں 124

پی آئی اے اور دیگر ملکی اداروں کی حالتِ زار۔۔۔ کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

مجھے یاد ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن ایک ایسا ادارہ تھا جو کہ پاکستان کی آن، بان اور شان تھا۔ اس کا عملہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک منفرد حیثیت رکھتا تھا۔ ہمارے پائلٹ پوری دنیا میں شاندار پروفیشنلز کی حیثیت سے جانے اور مانے جاتے تھے۔ ہمارے فضائی میزبان اور دیگر عملہ انتہائی پروفیشنل اور اپنے کام میں مہارت رکھتا تھا۔ ہمارے ایئرکرافٹ انجینئرز دنیا بھر کی ایئرلائنز کی کال پر انہیں ٹیکنیکل سپورٹ مہیا کرتے تھے۔ ہمارے پی آئی اے کے ٹریننگ سینٹرز غیر ملکی ایئر لائنز کے عملہ کو تربیت فراہم کرتے تھے۔ حتیٰ کہ مڈل ایسٹ کی کئی ایئرلائن آج بھی وہ وقت نہیں بھولی ہوں گی کہ جب وہ مرہون منت تھیں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی اور جن کی آج کامیابی کا سہرا ماضی کی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کو نہ دینا سراسر زیادتی ہو گی۔ مگر پھر کیا ہوا۔۔۔
جس طرح ملک گندی سیاست کا شکار ہوا، اسی طرح ملک کے دیگر ادارے اور کارپوریشنز بھی اقربا پروری کی نذر ہوتے چلے گئے۔ ہماری فوج اور سیاستدانوں نے جس طرح ملک لوٹا اسی طرح دیمک کی طرح ملک کے تمام اداروں کے وسائل کو بھی چاٹ لیا گیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن بھی محفوظ نہ رہ سکی اور اسے بھی پوری طرح مجروح کیا گیا۔ وہ ایئرلائن جس کے دنیا بھر میں اسٹیکس تھے تباہ کردیئے گئے۔ پی آئی اے کے کپتان بھی فرعون بن گئے اور ادارے میں بیٹھے اعلیٰ افسران نے بھی اس ادارے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ حیرت یہ ہے کہ ہم جس درخت کی ٹہنی پر بیٹھتے ہیں اسی کو کاٹتے ہیں اور یہ سوچے سمجھے بغیر کہ آخرکار اس کا نقصان اٹھانے والے بھی ہم ہی ہوں گے۔ مگر نہ جانے کب ہماری سوچ اور سرشت میں سسٹم سے بغاوت کی آگ ٹھنڈی ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں دیکھیں تو پی آئی اے کا عملہ شدید دباﺅ میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے، گڑبڑ ہر طرف ہے، اگر بحیثیت پاکستانی ہم اپنا جائزہ لیں تو ہم دنیا بھر میں مختلف ایئرلائن سے سفر کرتے ہیں مگر جب پی آئی اے پر بیٹھتے تھے تو راجہ اندر بن جاتے ہیں اور فضائی عملہ کو اپنے گھر کے ملازم سمجھ کر ان کی بے عزتی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔ دوسری جانب لوگوں کے مزاج کے سبب عملہ کا ردعمل بھی انتہائی سخت ہو چکا ہے اور ایک ہی ملک کے رہنے والے ایک دوسرے سے خائف سے نظر آتے ہیں شاید یہی مزاج ہمارا نیشنل کلچر بن گیا ہے اور یوں معاملات بہتری کی جانب بڑھنے کے بجائے خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ دوسری جانب کسی بھی ادارے میں اگر انتظامیہ کی جانب سے عملہ کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو عملہ میں بے چینی پھیلنا لازمی امر ہے اور اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عملہ کے اکثر ارکان غیر ممالک میں غائب ہونے میں ہی اپنے مستقبل کو محفوظ خیال کرتے ہیں کیونکہ انہیں غیر یقینی کی صورتحال سے ہر روز دوچار ہونا پڑتا ہے۔
ہم بحیثیت پاکستانی غیر ملکیوں سے زیادہ اپنے ہم وطنوں سے عدم تحفظ کا شکار ہیں، مجھے یاد ہے کہ گزشتہ برس ہمارے ہی ایک ممبر پارلیمنٹ نے فلور پر کھڑے ہو کر پاکستانی پائلٹس کے لائسنس پر سوال اٹھا دیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی آئی اے پر کئی ایک ملکوں نے پابندی عائد دی اور اب پی آئی اے صرف چند ممالک تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہی حال پاکستان جانے والے پاکستانیوں کا ہے کہ انہیں پی آئی اے کے علاوہ دیگر ایئرلائنز کا انتخاب کرنا پڑے تو انہیں Connection کا متحاج ہونا پڑتاہے کہ چند برسوں قبل دنیا کی جو بہترین ایئرلائنز پاکستان کے لئے سروسز مہیا کرتی تھیں آج اپنے جہازوں کو پاکستان لے جانے میں محفوظ خیال نہیں کرتیں اور نہ ہی ہم نے اس بات کی پرواہ کی کہ ہم اپنے دامن سے اس داغ کو دھو کر اپنا Status واپس بحال کرلیں۔
سجھ میں نہیں آتا بحیثیت قوم ہماری غیرت اور حمیت صرف اور صرف نعروں تک ہی کیوں محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہاں میں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ پی آئی اے کی انتظامیہ کی فرعونیت بڑھتے بڑھتے آج اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور عملے کو ایسے رویے کا سامنا ہے کہ جیسے وہ ملک کی کسی کارپوریشن کے نہیں بلکہ کسی سیٹھ کے ذاتی ملازم کی حیثیت سے کام کررہے ہیں، کچھ عرصہ قبل بہ جنبش قلم ایک فیصلہ کیا گیا اور عملہ کو حکم دیا گیا کہ انہیں Surface Travel کے ذریعہ اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر بھیجا جائے گا اور عملہ کے ارکان کی مجال کہاں کہ اُف بھی کرسکیں۔ ایک زمانہ تھا کہ پی آئی اے کی یونین ہوا کرتی تھی جو ایمپلائز کے مسائل پر آواز اٹھاتی تھی مگر آج تو وہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ یونین کے اپنے معاملات پر بھی ایک سوالیہ نشان اٹھتا ہے مگر کچھ نہ کچھ معاملات حل ہو جایا کرتے تھے اور انتظامیہ بھی کوئی فیصلہ کرنے سے قبل ہزار بار سوچتی تھی مگر آج ہر شخص مطلق العنان گھوڑنے کی طرح دوڑا چلا جارہا ہے اور پی آئی اے کا عملہ بری طرح پس رہے ہیں۔ Surface Travel کے نتیجہ میں پی آئی اے کا عملہ حادثہ کا شکار ہو رہا ہے، اس سوچ میں مبتلا ہے کہ وہ کہاں جا کر اپنی فریاد بلند کرے، اس ملک کا ہر ادارہ صرف ایک ہی ادارے کے ماتحت کردیا گیا ہے اور آج میڈیا، جسٹس سسٹم اور عوام زبان بندی پر مجبور کردیئے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ زبان بندی اور یہ خاموشی کیا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہیں۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو اس ایک ادارے میں بیٹھے لوگ جو نادانستگی میں اسی پیڑ کو کاٹ رہے ہیں جس کی ایک ٹہنی پر وہ بیٹھے ہیں تو پھر وہ خود کو کس طرح محفوظ رکھ سکیں گے اور آنے والے خوفناک طوفان کا ذمہ دار کون ہوگا؟ عوام، میڈیا، ججز، ملا، حکمران یا پھر اپنے سینوں پر ستارے سجائے ہمارے جنرل صاحبان؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں