اب کی باری میاں صاحب کی باری 173

پی آئی اے کے لاڈلے داماد

پنڈارا بکس کھل ہی گیا جب شہری ہوا بازی کے وزیر نے پی آئی اے کے حادثہ کی رپورٹ کے بعد اسمبلی میں انکشاف کیا کہ پاکستان کے تقریباً دو سو ساٹھ پائیلٹوں کی دستاویز مشتبہ ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کے سند یافتہ تمام پائیلٹوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا اور بعض ملکوں نے پاکستانی پائیلٹوں کو جہاز اڑانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کے یورپ اور بعض مغربی ممالک نے قومی ایئر لائن پر مخصوص عرصہ تک کی پابندی بھی عائد کردی۔
اس سے ایک طرف پاکستان کی قومی ایئرلائن کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا بلکہ ملک کو اس مشکل دور میں زرمبادلہ کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا اس میں پاکستان کی شہری ہوا بازی کے محکمہ سی اے اے کی ناقص کارکردگی نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ بلکہ ان مفرور پائیلٹوں کی وجہ سے ان کے ان تمام مخلص ساتھیوں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے۔
پائیلٹوں کی تنظیم نے گزشتہ طویل عرصہ سے پورے ادارے کو ایک طرح سے یرغمال بنایا ہوا تھا۔ ان کے بے جا مطالبات کے سامنے پی آئی اے کی انتظامیہ ہمیشہ بے بس نظر آئی تھی۔ یہ پائلٹ اپنی ذات کے لئے ایسی مراعات حاصل کر لیتے تھے جس کی وجہ سے انتظامیہ کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑتا تھا بلکہ مسافروں کی تکلیف میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہو جاتا۔ انتظامیہ سے بے پناہ مراعات حاصل کرنے کے علاوہ یہ ہر پرواز کے دوران اپنی من مانی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے اور جس نے ان کی من مانیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کی ذرا سی بھی کوشش کی اس کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے تھے یہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملکی مفاد کو بھی نظر انداز کر دیتے اسی طرح کافی عرصہ پہلے کی بات ہے جو ذاتی مشاہدات پر مبنی ہے جس سے اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی وجہ سے ادارے اور ملک کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا۔
ہڑتال اپنے عروج پر تھی، دوکانیں بازار کاروبار سب بند تھا۔ کسی کو باہر نکل نے کی ہمت نہ تھی سب اپنے اپنے گھروں میں مقید تھے یا اپنی اپنی فیملی کے ساتھ وقت بتانے میں مشغول۔ مگر مجھے رات کی ڈیوٹی پر ائرپورٹ پہنچنا ضروری تھا اس لئے میں وقت سے پہلے ہی تیار ہونا شروع ہو گیا تمام گھر والے بضد تھے کہ شہر کے حالات بہت خراب ہیں آپ گھر سے باہر نہ نکلیں چھٹی کر لیں مگر مجھے ڈیوتی پر پہنچنا لازمی تھا اس لئے میں گھر سے تیار ہو کر نکلا تمام راستے ویران تھے سناٹا چاروں طرف اور خاموشی کا شور ہر جانب۔
کسی نہ کسی طرح ڈیوٹی پر پہنچا۔ جلدی پہنچنے کا فائدہ یہ ہوا کہ جانے والی شفٹ کے چند افسروں اور اسٹاف کو اپنے ساتھ رات کی ڈیوٹی پر روکجانے پر راضی کر لیا۔ اپنی شفٹ کے افسروں اور اسٹاف کا انتظار شروع کیا۔ وقت بہت ہی کم تعداد میں وہ حاضر ہوتے آنے والے اور جانے والے دونوں کو ملا کر مطلوبہ تعداد سے بیس فیصد ہی عملہ حاضر تھا۔ پرواوں کا شیڈول ملا، معلوم تمام پروازوں کی روانگی مقرر ہے۔
ہر شعبہ سے آوازیں آنے لگیں کہ عملہ چاہئے کسی نہکسی طرح حالات کے مطابق ڈیوٹیاں مقرر کردیں پھر آواز آئی کہ جہاز اڑانے والے عملے کے لئی معمور اٹینڈینٹ کی تعداد بھی پوری نہیں۔ اپنے باقی عملہ سے مزید کچھ لوگوں کو کم کرکے ان کی تعداد پورا کیا گیا۔ یہ زمینی عملہ جہازوں کے پائلٹوں اور دیگر عملہ کے لئے معمور تھا تاکہ جب پائلٹ جہازوں پر جب جائیں یا واپسی پر ان کو اپنا ذاتی سازوسامان خود نہ اٹھانا پڑے، یہ ہی وجہ تھی جیسے ہی جہاز لینڈنگ کے بعدپارک ہوتا تو کپتان اور اس کا عملہ خالی ہاتھ نیچے اتر آتا۔ پھر بیگیج اٹینڈینٹ کے اندر داخل ہوتے جہاز کے عملہ کا ذاتی سامان اندر سے اٹھا کر ایئرپورٹ کے باہر عملہ کے لئے مخصوص گاڑیوں میں رکھوا کر رخصت کرتا اس ہی طرح جب یہ ہوائی عملہ کسی جہاز سے روانہ ہوتا تو ان کا ذاتی سامان ایئرپورٹ کے باہر کھڑی ہوئی ان کی گاری سے اتار کر جہاز کے اندر پہنچاتا۔
یہ ہی نہیں زیادہ دورانیہ کی پرواز پر یہ ہی عملہ اضافی تعداد میں مقرر ہوتا جو کہ آدھے راستے جہاز کی سب سے اعلیٰ درجہ کی نشستوں پر سفر کرتے، دوسرے شہر میں بھی سب سے اعلیٰ درجہ کے ہوٹلوں سے کم درجہ پر رہنے پر آمادہ نہیں ہوتے، عام عاملے سے دس گناہ زیادہ الاﺅنتس تنخواہ کے علاوہ وصول کرتے یہ لوگ بیرونی ملکوں میں جا کر فوری طور پر اس ہی پرواز کو اڑا کر لے جانے پر بھی آمادہ نہیں ہوتے تھے وہ دوسری پرواز کا انتظار کرتے جو کہ اکثر دو یا تین یا ہفتہ بھر تک وہ غیر ملکی اعلیٰ درجہ کے ہوٹلوں قیام کرتے اور وہاں موجود مقامی زمینی عملہ سے نئی نئی فرمائشیں کرتے اس مقامی عملہ کو ہدایات ہوتیں کہ ان پائلٹوں کی تمام ضروریات یا خواہشات کو تکمیل پذیر کریں یہ ہی وجہ تھی کہ وہ ایئرلائن میں داماد کے لقب سے پکارے جانے لگے۔
پچھلی حکومت نے اپنے ایک منظور نظر اس ہوائی داماد کو ایئرلائن کا سربراہ مقرر کیا وہ بیک وقت ہوائی داماد کی سہولیات سے بہرہ مند ہوتا اور ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے بھی مراعات حاصل کرتا۔ لیکن اس دوران ایک اچھا قدم ادارے کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے یہ اٹھانا پڑا کہ ترکی کی قومی ایئرلائن سے کوڈ شیئرنگ کا معاہدہ طے کیا۔ ترکی کی قومی ایئرلائن ہماری ایئرلائن سے چار گنا بڑی تھی مگر اس نے دوست ملک کی حیثیت سے معاہدے پر دستخط کئے جس کے تحت اس کے تمام جہاز مغرب سے تمام مسافروں کو اپنے جہازوں سے پاکستان پہنچانا تھا یعنی پاکستان تک تمام مغربی ملکوں کے مسافروں کو لانے اور پہچانے کی ذمہ داری ترکی کی قومی ایئر لائن کی تھی۔ ان تمام مسافروں کو پاکستان سے مشرقی ملکوں تک لانے اور لے جانے کی ذمہ داری پاکستان کی قومی ایئرلائن کی تھی یعنی امریکہ، کینیڈا، یورپ سے مسافر ترکش ایئرلائن سے آئیں گے اور جائیں گے پاکستان سے آگے مشرق بعید یعنی چین، جاپان، سنگاپور، آسٹریلیا پاکستان کی قومی ایئرلائن سے روانہ ہوں گے اور وہاں سے واپسی پر بھی یہ ہی قومی ایئرلائن کی ذمہ داری ہوتی۔ اس سے قومی ایئرلائن کو پانچ گنا زیادہ فائدہ حاصل ہوتا یعنی کم خرچ بالا نشیں۔
مگر ان دامادوں نے اس قومی ایئرلائن کو فائدہ پہنچانے والے اس معاہدے کے خلاف ہنگامی شروع کروا دیئے پھر اپنے ساتھ زینی عملہ کو شامل کر لیا جس سے زمینی عملہ کو کچھ فائدہ نہیں تھا مگر اس ہوائی دامادوں کو اپنی ذاتی مراعات کی خاطر اس معاہدے کی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر شامل ہونا پڑا تھا ۔ مغربی ممالک میں ان کی اولادیں جو شاہانہ انداز میں زندگی گزار رہی تھیں وہ بھی ان مراعات سے محروم ہو جاتیں کیونکہ وہاں سے ترکش ایئرلائن ان کی فرمائشیں پوری کرنے کی روادار نہیں تھی اور مقامی طور پر ان دامادوں کے ناز نخرے صرف قومی ایئرلائن ہی اٹھا سکتی تھی۔ قومی ایئرلائن کو اس معاہدے سے بے پناہ فائدہ حاصل ہوتے اس کے برخلاف ان دامادوں کو بھی مراعات سے محروم ہونا پڑتا جو کہ ان کا ذاتی نقصان ہوتا اس سے زیادہ نقصان ان خلیجی ممالک کی ایئرلائنوں کو ہوتا جو کہ قومی ایئرلائن کے خسارہ میں جانے کی وجہ سے تیزی سے ترقی کررہی تھیں انہوں نے بھی اس ہنگامہ آرائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ کہا یہ جاتا ہے کہ اس سازش میں ان ممالک کے مقاصد بھی شامل تھے۔ جس طرح پاکستان میں ڈیم بنانے سے روکنے میں پڑوسی ممالک کی سازشیں اب ظاہر ہو رہی ہیں یعنی ہمارا وطن جتنا کمزور ہو گا اتنا ہی اس کا فائدہ ان ممالک کو ہو گا اس ہی طرح جتنی کمزور قومی ایئرلائن ہو گی اس کا فائدہ ان خلیجی پڑوسی ممالک کی ایئرلائنوں کو ہوگا اس سازش میں ان دوست دشمن ممالک کی مدد پاکستان کے تمام مراعات یافتہ طبقے جس میں ملک کے اور ایئرلائن کے داماد شریک تھے۔ اس ملک اور ایئرلائن کو بچانے والے ہم جیسے مخلص لوگ پاکستان میں اور ایئرلائن میں ہر طرح کے حالات میں قربانی دیتے رہیں گے اور مراعات کو ٹھکراتے رہیں گے۔ مراعات صرف دامادوں کے لئے ہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں