پی ٹی آئی اور فوج میں تصادم کرانے کا منصوبہ 48

پی ٹی آئی اور فوج میں تصادم کرانے کا منصوبہ

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) عمران خان نے گزشتہ روز عوام سے کئے گئے ویڈیو خطاب میں کہا کہ پی ٹی آئی کا کریک ڈاﺅن شروع کردیا گیا ہے اور شہباز گل کی گرفتاری حکومت کا پہلا وار ہے۔ عمران خان نے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج حکومت میں ہیں ان کے کیسز کا کیا ہوئے؟ ان کی گرفتاریاں کیوں نہیں ہوئیں؟ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران نواز شریف، مریم نواز اور خواجہ آصف کے کلپ بھی چلائے جن میں وہ فوج کو مغلظات بکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا ان بیانات کے باوجود ان چوروں اور ڈاکوﺅں سے وہ سلوک نہیں کیا گیا جو پی ٹی آئی کے شہباز گل کے ساتھ کیا گیا۔ انہوں نے حکومت کے اس موقف کو بھی رد کردیا جس میں عمران خان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ملک میں عوام اور اداروں کے درمیان نفرتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے خلاف نہایت خطرناک منصوبہ بنایا گیا ہے اور پلاننگ کے تحت پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان نفرتوں کو بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ وہ نواز شریف اور زرداری جو کل تک چور تھے آج ہمارے خلاف کیسز بنا رہے ہیں اور ہمارے کارکنوں اور لیڈرز کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ مجھ پر الزام ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے پیسہ لینا ناجائز ہے۔ الیکشن کمیشن نے موجودہ حکومت کی کرپشن پر بازپرس کرنے کے بجائے ہمیں کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی کو الیکشن سے روکا جائے اور نواز شریف کو واپس لا کر الیکشن میں جتوایا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو ملک کا خدا حافظ۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان نے شہباز گل کے انٹرویو کی تائید کی ہے اور فوج میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے خطرناک ہے۔ لگتا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کسی بھی صورت میں پی ٹی آئی کو 13 اگست کو ہونے والے جلسہ سے روکا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں