تھیٹر پلے ”دی جاب“ کا تجزیہ 89

ڈپریشن / سٹریس اور لاک ڈاﺅن

جوں جوں زندگی ایک ہاتھ میں سمٹتی جارہی ہے اصل میں زندگی کی ڈور ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے۔ آنکھوں کے وڑن کو ہر چیز میسر ہونے لگی تو سوچ، احساس کا وڑن تنگ ہوتا گیا۔ محبت، دوستیاں ظاہری طور پہ ساتھ ساتھ نظر آنے لگیں تو تنہائی اور بڑھنے لگی۔ پہلے صرف اپنی باتیں ہواکرتی تھیں ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ہر چیز تک پہنچ بھی محدود تھی۔ اک طرف یہ سب لامحدود ہوا تو بہت کچھ اندر دبتا رہ گیا۔ اپنی باتیں بیچ میں دب گئیں۔ ہم بس دیکھتے چلے جانے میں مصروف ہیں اور کبھی کبھی لگتاہے اس دور کی حقیقتیں شاید یہی رہ گئی ہیں
اس ڈیجیٹل دور کے سٹریس ، ہیجان کے عالم سے نبرد آزماہوتے ہوتے ہم کرونائی تباہ کاریوں کے دور میں چلے آئے۔ جن بزرگوں نے پہلے جنگ یا وبا کا دور دیکھا ہوگا ان کا خوف تو ہم سے سوا ہی ہوگا لیکن میرا نو سالہ بیٹا مجھ سے کہتا ہے “ ہماری زندگی کتنی عجیب ہے ہم نے کرونا کی وبااور اس سے پھیلنے والی اموات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ بھی اتنی سی عمر میں “ میں نے کہا لیکن یہ سب تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ دیکھا تو کہنے لگا” مگر آپ نے اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی اموات تو نہیں دیکھی تھیں نا” اس کی بات سب کے ایسا لگا جیسے کوئی انتہائی بھیڑ میں تنہا کھڑا گھبرا رہا ہو
ایک دوست نے فون کرکے بتایا کہ اسے بہت سٹریس ہے اس کی بہت طبیعت خراب رہتی ہے۔ اچھی خاصی خوبصورت /جوان لڑکی۔ میں نے پوچھا کہ کس چیز کا سٹریس۔ کہنے لگی موت کا۔ “ مجھے لگتاہے میں بیٹھے بیٹھے مر جاو¿ں گی “ اتنی جواں عمری میں ایسی باتیں نہیں کرتے “ میں نے ہنستے ہوئے کہا لیکن اس کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ یہ اردگرد واقع ہونے والی اموات نے ہر انسان کو کسی نہ کسی طرح ڈسٹرب کیا ہے اس کا نروس بریک ڈاو¿ں ہوا تھا اور وہ بہت مشکل حالات سے دوچار تھی
لیکن دیکھا جائے تو یہ مسئلہ ان ملکوں میں زیادہ پیش آرہاہے جنھوں نے زیادہ سخت پالیسیاں ترتیب دے دیں۔ اگر یہاں کینیڈاکی بات کی جائے تو یہاں پر زیادہ تر آبادی دنیا بھر سے امیگریشن پہ آئے ہوئے لوگوں کی ہے۔ جن کے نہ تو یہاں پر کوئی خاص رشتے دار ہوتے ہیں۔ نہ پرانے دوست، احباب۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم بہترین طرزِ زندگی میں ایک خلائی اور مشینی مخلوق کی طرح زندگی بسر کررہے ہیں۔ مجھ جیسے لوگوں کےلئے تنہائی اور کنارہ کشی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ خلائی اور مشینی ہونے پہ بھی کوئی اعتراض نہیں مجھے لیکن میں بھی تنگ پڑجاتی ہوں۔ ہر کسی کو اپنے اردگرد اپنے پسندیدہ لوگ چاہئیں اور ہم دیارِغیر والوں کی مجبوریاں کہ ایسا ہونہیں پاتا۔ اور یہ بات بہت کم لوگ سہہ پاتے ہیں۔ اسی لئے ان ملکوں میں ڈپریشن/سٹریس چہروں تک سے عیاں ہونے لگتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ عوام کو ضروری ہدایات دے کر تھوڑا ریلیف بھی دے۔ ویکسین کی فراہمی تیز تر ہونی چاہئے۔ بہت سارے مسائل ہیں اور یہ تمام تر پبلک مقامات پہ سناٹا اور بھی جان لیوا ہے
پچھلے سال نائیگرا فال پہ ڈرائیو کرتے بارہا دل کانپنے لگتا تھا سڑکوں کا خالی پن دیکھ کر کہ یہاں سے تو گاڑی گزارنی مشکل ہوجاتی ہے اور کجا ہر سگنل پہ ہم اکیلے کھڑے ہوتے ہیں مجھے وحشت کا اصل معنی اس دن سمجھ آیا جب ایک سرخ اشارے پہ کھڑے میں نے نائیگرافال کی بے انتہا پر رونق سڑک کو سیاہ بادلوں سے ڈھکے ہوئے دیکھا۔ چند لمحوں کیلئے مجھے ہر چیز صرف سیاہ ہی لگتی رہی۔ یہ شاعری والی وحشت سے بالکل ہٹ کے تھی کہ اس میں کرب تھا، بے بسی تھی اور جا بجا بکھری ہوئی موت تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں