Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 52

کرپشن اور مہنگائی

غربت کسی نا کسی پیمانے پر دنیا کے ہر ملک میں ہوتی ہے۔لیکن وجوہات مختلف ہوتی ہیں قدرتی وسائل میں کمی ،جغرافیائی ماحول اور کچھ دوسرے محرکات کے باعث پیداوار میں کمی یا نا ہونے کے برابر اور اگر اس میں سے بھی کوئی وجہ نا ہو تو بد عنوانی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ملک کی تمام دولت اگر چند گھرانوں کے درمیان رہے یا پھر بد عنوان اور راشی تعداد میں بڑھ جائیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی معاشرے کی صفائی اور قانون کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ قانون اگر ایمان دار ہو تو ہر خاص و عام کو سکون اور آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ورنہ بے سکونی اور افراتفری مقدر بن جاتی ہے۔ایک غریب آدمی اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے فروٹ یا سبزی کا ٹھیلہ لگاتا ہے اور اس سے جو تھوڑا بہت منافع کماتا ہے اس سے اپنا گھر چلانے کے علاوہ کچھ بچت بھی کرلیتا ہے اور حالات سے جنگ کرتے ہوئے محنت اور کوشش سے اپنے حالات بدل بھی لیتا ہے۔لیکن جب ایک بے غیرت قسم کا پولیس والا ہاتھ میں چھڑی لئے روز اس کے سر پر سوار رہتا ہے اور اس سے بھتے کے علاوہ جو چاہتا ہے ٹھیلے سے اٹھالیتا ہے۔تو اس ٹھیلے والے کے لئے بچت تو کیا گھر چلانا بھی مشکل ہوجاتا ہے اور جب اپنے بچوں کی بھوک دیکھی نہیں جاتی تو پھر اس کا ذہن بے ایمانی کی طرف مائل ہوجاتا ہے ترازو میں ہیر پھیر زیادہ منافع میں بیچنا اور کسی بھی حرام کی کمائی کی طرف اس کے قدم مجبورا” اٹھ جاتے ہیں۔ وہ ذہنی دباو¿ کا شکار ہوجاتا ہے حق و حلال سے کمانے کی وجہ سے ٹھیلہ لگایا تھا لیکن ملکی قانون نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔کیونکہ یہ بھتّہ بھی اس طرح لیا جاتا ہے جیسے قانون میں شامل ہو ۔یہ تو ایک معمولی سپاہی کی بات ہے جیسے جیسے عہدہ بڑھتا جاتا ہے اس بھتّے کا حجم بھی بڑھتا جاتا ہے جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی وردی کے ساتھ ہوتی ہے۔قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں لاقانونیت اور نا انصافی معاشرے کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے اچھے معاشرے کی تشکیل قانون کی بالا دستی میں پوشیدہ ہے۔ نا انصافی بے ایمانی بے اطمینانی اور جرائم کو جنم دیتی ہے۔
ایک ایسے غریب آدمی کی زندگی بے شما ر امتحانات سے گزرتی ہے جس کا کوئی پولیس افسر جاننے والا نا ہو اور نہ ہی اس کے تعلقات کسی ایم این اے یا ایم پی اے سے ہوں۔ لہذا وہ مر مر کر جیتا ہے اور جس شخص کے تعلقات ہوں وہ تمام الزامات سے بری ہوجاتا ہے چاہے قتل کرے چوری یا کسی غریب پر ظلم کسی بھی بڑے عہدے دار سے اس کے تعلقات اسے ہر سزا سے مستثنی’ قرار دیتے ہیں۔کچھ اچھے لوگ بھی ہیں لیکن وہ سسٹم سے مجبور ہیں۔ملک میں درپیش تمام مسائل کی جڑ نا انصافی اور قانون سے کھلواڑ ہے۔تریپن سال سے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی قانون کے رکھوالے ہی قانون سے کھیل رہے ہیں پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد ایک عام خیال یہ تھا کہ اب عوا م سکون کا سانس لیں گے لیکن معاملہ اس کے برعکس نکلا نا تو لاکھوں لوگوں کو مکان دینے کا وعدہ کرنے کی ضرورت تھی نا نوکریوں کی اور نا ہی مہنگائی ختم کرنے کا دعوی’ کرنا تھا بلکہ صرف قانون کے رکھوالوں کے گلے میں پٹّہ ڈالے کی ضرورت تھی۔تمام مسائل حل ہوجاتے۔
مہنگائی کا رونا رونے والے کون لوگ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے کوئی تعلقات نہیں ہیں نا ہی اوپر کی آمدنی کا کوئی راستہ ہے۔اگر جائزہ لیا جائے تو ملک کے ہر شہر میں موجود لاکھوں پولیس والوں پر کیا مہنگائی کا کوئی اثر پڑے گا اوپر کی آمدنی وارے نیارے۔ انکم ٹیکس ،امیگریشن ،کسٹم ،بجلی اور اس جیسے محکموں کے ملازمین جو تنخواہ کے لئے نہیں بلکہ اوپر کی آمدنی کے لئے یہ نوکریاں کرتے ہیں کیا ان پر کوئی اثر پڑے گا بالکل بھی نہیں تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام رشوت خوروں کا قلعہ قمع کیا جائے۔ مہنگائی ختم ہوجائے گی۔پولیس کی سرپرستی میں ہونے والے جرائم کی ایک مثال دیکھئے۔ ملتان کے علاقے بستی ملوک کی حد میں موضع رانا وائن ہے یہاں ایک غیر قانونی پرانے ٹائر جلاکر تیل نکالنے کی فیکٹری کی اطلاع جناب ریاض بخاری سے موصول ہوئی یہاں غریبوں کی بستی ہے اور اناج کی فصلیں ہیں اس غیر قانونی فیکٹری سے خاج ہونے والا دھواں زہریلا اور جان لیوہ ہے اس کے باعث لوگوں کا سانس لینا مشکل ہورہا ہے اور بیماریاں پھیل رہی ہیں اس کے علاوہ فصلوں کو بہت نقصان پہونچ رہا ہے۔ اس فیکٹری کے مالکان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ان کے تعلقات تھانہ بستی ملوک کے پولیس افسران وہاں کے ایم این اے اور کچھ دیگر افسران سے ہیں۔اس سلسلے میں میں نے ڈی جی خرّم شہزاد لاہور ،ظفر اقبال محکمہ ماحولیات ملتان اور تھانہ بستی ملوک میں فون پر بات کی اور انہوں نے چیک کرنے کی بات کرکے کچھ نا کیا جبکہ یہ بات سب کے علم میں ہے اور جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کی جارہی ہے۔ اس فیکٹری کے مالکان ہیں۔
عبد الصمد مڑل ولد عبدالمہادی مڑل،مشتاق گل ولد حاجی سعید گل ،شوکت حسین ولد طالب حسین یہ لوگ علاقے کے لوگوں کے احتجاج پر ان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور پولیس ان مجرموں کا ساتھ دیتی ہے۔ اس سلسلے میں میں نے حکومت کے سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کی تھی جس کے بعد اپریل میں فیکٹری بند ہوگئی تھی لیکن چار مہینے بعد دوبارہ کھول دی گئی۔ جب تک اس طرح کے واقعات پر نوٹس نہیں لیا جاتا بدمعاشی کو ختم نہیں کیا جاتا حالات کا سدھرنا نا ممکن ہے جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعروں سے حکو متیں نہیں چلائی جاتیں۔انصاف مہیا کرنا ہی ایک کامیاب حکومت کا مقصد ہوتا ہے۔ حیرت ان لوگوں پر ہے جو اپنے سیاسی لیڈر کو انصاف دلانے سیاسی پارٹی کے ساتھ انصاف نا ہونے کا نام لے کر دور دراز مقامات سے سفر کرکے اسلام آباد میں دھرنا دینے پہونچ جاتے ہیں۔ لاٹھیاں اور گولیاں کھاتے ہیں لیکن اپنے حق کے لئے اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر ایک انچ آگے نیںد بڑھتے۔ اگر لوگ چاہیں تو اس علاقے کے لوگوں کا ساتھ دینے کے لئے ایک بڑی تعداد میں وہاں جاکر فیکٹری بند کرواسکتے ہیں لیکن یہ لوگ ایسا نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں