پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم سے اتحاد ختم! 22

کس کا ہوا ”آر یا پار“ حکومت یا پی ڈی ایم؟

حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے مبصرین اور قارئین اس سوال کے نتیجے تک بہت آسانی سے پہنچ گئے ہوں گے۔ ستمبر سے معرض وجود میں آکر مارچ میں ریزہ ریزہ ہو جانے والی پی ڈی ایم کا ہو چکا ہے ”آر یا پار“۔ اس میں کوئی دو آراءنہیں ہیں۔ پچھلے چھ سات ماہ میں مجرم نواز شریف اور ملزم آصف زرداری نے بیماری کا بیانہ بنا کر دونوں سیاسی بونوں کو آگے لگا رکھا ہے اور اس توقع پر بیٹھے ہیں کہ یہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مل کر عمران خان حکومت کا تختہ اُلٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مریم اور بلاول کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں اس میں انہوں نے حکومت کے گھر جانے کی بہت ساری تواریخ دی ہیں مگر ہر بار ان کو منہ کی کھانی پڑی۔ فوج سے ان کو کورا جواب مل گیا۔ عدالتوں سے کچھ ریلیف ملا اور کچھ نہ ملا۔ مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی تو برملا کہتے پھرتے ہیں کہ ہم عمران خان کی حکومت ختم نہیں کرنا چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنی مدت پوری کرے لیکن عوام سے کئے گئے وعدے بھی پورے کرے اور ان کا سب سے اولین مطالبہ صرف اور صرف مریم صفدر کو لندن بھجوانا ہے۔
حکومت پر سارا پریشر اسی مقصد کے تحت ڈالا جارہا تھا مگر عمران خان کا مصمم ارادہ ہے کہ اس بار وہ کسی دھوکے میں نہیں آئے گا جس طرح نواز شریف جعلی میڈیکل رپورٹس پر چکر چلا کر لندن میں چھپ بیٹھا ہے۔ بلاول کی ساری جدوجہد صرف اور صرف تجربہ حاصل کرنے کی ہے وگرنہ اسے معلوم ہے کہ وہ نہ تو وزیر اعظم بن سکتا ہے اور نہ ہی پیپلزپارٹی کو کھویا ہوا مقام حاصل کروا سکتا ہے۔ عمران خان نے پچھلے کچھ سالوں کی شدید محنت اور تگ و دو کے بعد لوگوں کو اس قدر شعور دے دیا ہے کہ یہ دونوں خاندان ذلالت اور رسوائی کی کھائی میں غوطے کھا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ خان نے قوم کا سویا ہوا ضمیر جگا دیا ہے۔
قوم اچھی طرح جان چکی ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ مریم اور بلاول کے کھوکھلے سیاسی دعوے کافور ہو چکی ہیں ایک بار پھر ثابت ہو چکا کہ بلاول مریم سے جتنے مرضی مذاکرات کرلے لیکن آخری فیصلہ آصف زرداری کا ہی ہوتا ہے۔ مریم نے لاڑکانہ اور نوڈیرو جا کر بھٹو اور بے نظیر کی قبروں پر جو ناک رگڑی ہے اس کا حساب اس خاندان کو اپنی عوام اور پارٹی کو دینا ہوگا۔ یہ سب کچھ نواز شریف اینڈ کمپنی بغض عمران خان میں کررہا ہے۔ وہ حکومت ختم کرنے کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔ اس کی معاونت فضل الرحمن کررہا ہے جو کہ خود بھی اس سسٹم کا حصہ نہیں ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ جب یہ دوپہر کا قیلولہ کرکے اٹھیں تو عمران خان حکومت ختم ہو چکی ہو مگر یہ مذاق نہیں ہے۔ عمران خان جب وزیر اعظم نہیں تھا تو ان کے لئے بہت بڑی دردسر تھا اور اب تو وہ وزیر اعظم ہے، وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط بھی ہو رہا ہے اور تجربہ بھی حاصل کرتا جا رہا ہے اور عوام عمران خان سے کسی بھی قسم کے غلط فیصلے کی توقع نہیں رکھتے اگر کوئی کمزور فیصلہ ہوا بھی ہے تو اس میں اس کی مجبوری نظر آتی ہے وگرنہ سہواً عمران خان قوم کے حق میں بُرا نہیں ہے اور ان شاءاللہ تاریخ بتائے گی کہ عمران خان حکومت میں اٹھائے گئے اقدامات کس قدر دور رس اہمیت کے حامل تھے اور قوم اس سے استفادہ کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں