تحریک انصاف حکومت تنقید کی زد میں 38

کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات

پچھلے ہفتے پاکستان میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے نتائج نے بشمول تحریک انصاف تمام سیاسی جماعتوں کو امید و نا امیدی کے میدان میں لاکھڑا کیا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات سب سے نچلی سطح پرشمار کئے جاتے ہیں پھر اس سے اوپر بلدیاتی، صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے درجے آتے ہیں۔ ان نچلی سطحوں کے انتخابات میں عموماً ووٹروں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ بمشکل رائے دہندگان کی ایک تہائی تعداد اپنا یہ حق استعمال کرتی ہے۔ اس دفعہ کے انتخابات میں بھی یہ ہی صورت حال دیکھنے میں آئی۔ کنٹونمنٹ کی شماریاتی آبادی ویسے بھی تھوڑی تصور کی جاتی ہے اور اس میں سے بھی رائے دہندگان کی تعداد قلیل ہونا قومی سطح پہ انتہائی مختصر اعداد و شمار ہیں مگر اس وقت ان مختصر اعداد و شمار نے ایک مباحثہ اور فکر کی فضا نے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
2018ءکے الیکشن میں برتری پانے والی جماعت تحریک انصاف سندھ اور پنجاب کے میدان لگوانے کے نشانات دے رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب اور بلوچستان سے غائب اور ن لیگ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے میں بہت ہی محدود نشستیں حاصل کر سکی ہے۔ قومی سطح پر تحریک انصاف 63، ن لیگ 59، پی پی پی 17، ایم کیو ایم 10 اور دیگر جماعتوں نے 11 نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ 52 کی کثیر تعداد ان کامیاب امیدواروں کی ہے جنہوں نے آزادانہ طور پر انتخابات لڑنے کو ترجیح دی۔ آزاد کامیاب امیدواروں کی یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ عوام اب سیاسی جماعتوں سے بدّ دِل ہو چکے ہیں۔ غیر جماعتوں سے امیدیں باندھنا شروع کررہے ہیں۔
ن لیگ اس وقت پنجاب میں اپنی فتح کو آئندہ آنے والے انتخابات کے نتائج کا عکس قرار دے رہی ہے۔ پی پی پی سندھ میں قدم جمانے کے بعد آگے کی طرف بڑھ رہی ہے اور یقینی طور پر آئندہ کے قومی انتخابات کی تیاریوں میں قدم رکھ چکی ہے مگر فی الحال اس کی حیثیت ایک صوبائی جماعت کے طور پر نظر آتی ہے مگر پھ ربھی سندھ میں اس نے تحریک انصاف کو برابر کا مقابلہ دیا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس دفعہ بھرپور طور پر اپنے کو واپس انتخابی دھارے میں کامیابی سے شامل کیا ہے۔ تحریک انصاف اپنے ووٹروں کو بہت ساری توقعات اور امیدیں دے کر اقتدار میں آئی تھی عوام جس تبدیلی اور بہتری کے انتظار میں تھے وہ نہ صرف پوری نہ ہو سکیں بلکہ بد انتظامی اور مہنگائی نے عوام کو مایوسی کی انتہا تک پہنچایا ہے۔ 2018ءمیں سندھ میں اکثریت حاصل کرنے والی تحریک انصاف سندھ اور خاص طور پر کراچی کے لئے صرف منصوبوں اور پیکیجز کا ہی اعلان کرتی رہی۔ وزیر اعظم گزشتہ پورے سال میں کراچی میں صرف چار گھنٹے ہی موجود رہے۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کا انتخاب بھی عمران خان کا ہی فیصلہ تھا۔ وہ آج اسی شدومد کے ساتھ اس کی تائید میں کھڑے ہیں جب کہ انتظامی طور پر پانچ چیف سیکریٹری اور چھ آئی جی پولیس تبدیل کئے جا چکے ہیں۔ بیوروکریسی سے بھی حکومت کو شکایتیں ہیں کہ وہ ان کے احکامات کی پاسداری سے ما نع ہے۔ تحریک انصاف 22 سال کی جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئی تھی۔ 2018ءمیں اسے پوری امید تھی کہ وہ حکومت قائم کرسکے گی پھر اس کی تیاری اور منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی؟ ایسا کیوں ہوا کہ مختلف شعبوں سے متعلق ماہرین کو یہ ذمہ داری نہیں سونپی گئی کہ وہ تفصیلی طور پر آنے والے وقتوں اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکمت عملی تیار رکھیں اور حکومت ملنے کے ساتھ ان کا آغاز کیا جا سکے۔ تحریک انصاف میں شامل اور ذمہ داری اٹھانے والے چہرے یا وزراءاور مشیران میں سے زیادہ تر نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر پہلی دفعہ سیاست میں شامل ہوئے ہیں اور متعدد اچھے تعلیم یافتہ اور بیرون ملک یونیورسٹیوں سے ڈگری یافتہ ہیں۔ یہ تحریک انصاف کے لئے ایک بڑا لس پوائنٹ تھا۔ پرانے جوڑ توڑ کرنے والے سیاستدانوں کے مقابلے میں تحریک انصاف ایک تازہ دم ٹیم لے کر میدان میں اتری تھی۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو انہیں ایک مربوط، مستحکم اور پر اعتماد راستہ پر ڈالنا چاہئے تھا۔ پاکستانی قوم اور خصوصاً نئی نسل نے اپنا مستقبل ان کے حوالے کردیا تھا مگر کہاں اور کس طریقے سے اس راستے میں دراڑیں پڑنی شروع ہوئیں یہ ایک ناسمجھ میں آنے والا عقدہ ہے۔ جس پر تفصیلی بحث کی گنجائش ہے۔ معیشت میں خرابی کی وجوہات تو پھر بھی کووڈ 19 کے وائرس کے سر ڈالی جا سکتی ہیں مگر بد انتظامی کا تو کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے موجودہ حکومت نے یقینی طور پر اپنی ساکھ قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ خاص طور پر افغانستان کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے اس وقت پاکستان ایک انتہائی اہم مقام پر کھڑا ہے۔ عالمی طور پر تمام ممالک اس وقت پاکستان سے رابطے قائم کررہے ہیں۔ عمران خان ایک انتہائی سمجھدار اور مضبوط لیڈر کے طور پر دیکھے جارہے ہیں۔ خود افغانستان کے بیان کے مطابق پاکستان اس وقت اس کا سب سے بڑا حلیف ہے۔ بھارت افغانستان میں پچھلی دو دہائیوں میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کے باوجود اس وقت افغانستان کی سردمہری کا شکار ہے اور اس کا بدلہ بھارت اور اس کا میڈیا پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر بے جا الزامات عائد کرکے لینے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔ پاکستان عالمی تناطر میں بارہا یہ دہرا چکا ہے کہ وہ باوجود انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر افغانیوں کو امداد فراہم کرنے کے طالبان کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے ان کے لائحہ عمل پر گہری نظر رکھے گا اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا کہ افغانستان میں ایک آزاد، مخلوط اور ایسی حکومت قائم ہو سکے جو اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کی بھرپور حفاظت کرے۔
اندرونی طور پر تحریک انصاف نے اس وقت کئی محاذ کھول لئے ہیں۔ الیکشن کمیشن پر حکومت کے وزراءکی بیان بازی اسی طرز عمل کا سلسلہ ہے جو اس حکومت کا خاصہ رہا، منصفانہ اور تمام بدعنوانیوں سے پاک انتخابات پاکستانی قوم کی اوّلین خواہش ہے اور اس کو شرمندہ تعبیر کرنا حکومت اس وقت حزب اختلاف کی ذمہ داری۔
پارلیمنٹ کا اس میں اہم ترین کردار ہے اور الیکشن کمیشن اس کا مرکزی کردار مگر ظاہر یہ ہو رہا ہے کہ یہ مسئلہ کسی اور رُخ کی طرف موڑ دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی اس سلسلے میں تجاویز خوش آئند ہیں اور ٹیکنالوجی سے اس مسئلہ کا حل یقینی طور پر تحریک انصاف کی ٹیم کے پروگریسو ہونے کا ثبوت دیتا ہے مگر اس سارے عمل کو شفاف رکھنے کے لئے تمام توجیحات کو تفصیل سے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ فریقوں کو مطمئن کرنا لازمی ہے۔ حزب اختلاف کو بھی اپنے طرز عمل پر غور کرنا ہوگا اور صرف بحث برائے بحث کو ترک کرکے سنجیدگی سے ٹیکنالوجی کے مثبت اور منفی تمام سفارشات سے حکومت کے ساتھ بحث میں شریک ہونا ہوگا۔ الیکشن کمیشن پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں۔ ان کا جوابات سے آگاہ ہونا پاکستانی قوم کا حق بنتا ہے محاسبہ سب کو اپنا کرنا چاہئے اور اپنا دامن صاف رکھنا ہر حکومتی ادارے کا فرض ہے اگر یہ الزامات غلط ثآبت ہوتے ہیں تو حکومتی وزراءپر ایسے بیانات دینے پر سخت باز پرس ہونی چاہئے تاکہ آئندہ کسی بھی وجہ سے اداروں پر بے وجہ تنقید سے گریز کیا جائے۔
لگتا ہے پاکستان کی کرکٹ بھی سیاسی چپقلشوں کا شکار ہوئی، کھیلنے کے آخری وقت سے پہلے نیوزی لینڈ کی طرف سے معذرت کرلی گئی ہے۔ یہ ایک انتہائی نان پروفیشنل طرز عمل ہے۔ اس کے بعد انگلستان سے بھی یہ ہی خبر آگئی گو کہ برطانوی کونسل جنرل نے اس کی وضاحت کی کہ ان کی طرف سے ایسا کوئی خط برطانیہ نہیں بھیجا گیا کہ یہاں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ خبریں یہ آرہی ہیں کہ پنجاب حکومت کا ایک اعلامیہ گردش میں ہے جو خطرات کی نشاندہی کررہا ہے جس پر نیوزی لینڈ کی حکومت کا ردعمل آیا ہے۔ پنجاب حکومت کو اس کی تفصیلی طور پر تحقیقات کرنی چاہئے کہ کیا یہ خبر صحیح ہے۔ پاکستان کو میچز کے نہ کھیلے جانے کی وجہ سے بھاری مالی نقصان برداشت اٹھانا پڑا ہے۔ پی سی بی کو اس معاملہ میں سخت رویہ اختیار کرنا چاہئے اور مالی ہرجانہ کا دعویٰ کرنا چاہئے، پاکستانی کھلاڑی کرکٹ کی دنیا میں مضبوط مقام رکھتے ہیں، کھیل کے میدان کھیل کے میدان ہی رہنا چاہئے، انہیں سیاسی اکھاڑہ بننے سے روکنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں