کورونا وائرس کی نئی لہر نے ساﺅتھ ایشیا میں تباہی پھیر دی: مگر عوام SOP's پر عمل درآمد کیلئے آج بھی آمادہ نہیں 19

کورونا وائرس کی نئی لہر نے ساﺅتھ ایشیا میں تباہی پھیر دی: مگر عوام SOP’s پر عمل درآمد کیلئے آج بھی آمادہ نہیں

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) کورونا وائرس کی موجودہ لہر نے جہاں دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے وہیں پاکستان اور بھارت بھی خطرناک حد تک اس نئے وائرس کی زد میں ہیں۔ بھارت دنیا بھر سے ویکسین، آکسیجن اور وینٹی لیٹرز کے لئے اپیلیں کررہا ہے جب کہ آدھے سے زیادہ بھارتی کورونا وائرس کی زد میں ہیں۔ شمشان گھاٹ میں ہر طرف آگ کے شعلے اُٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بھارت میں لگ بھگ 4 لاکھ افراد کورونا وائرس کا شکار ہیں۔ آسٹریلیا، جرمنی، چائنا اور دیگر ممالک ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ آکسیجن کی کمی نے حالات مزید مخدوش کردیئے ہیں۔ لوگ ہسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کے سبب اپنے پیاروں کو فٹ پاتھ اور گاڑیوں میں آکسیجن سلینڈر خرید کر بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بھارتی میڈیا اب بھی درست نمبر نہیں بتا رہا جب کہ روزانہ مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے مگر المیہ یہ ہے کہ وہاں کی عوام اب بھی SOP’s پر عمل کرتی دکھائی نہیں دیتی اور اسے ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں سمجھ رہی جس کے سبب پولیس زبردستی مار مار کر عوام کو ماسک پہننے پر مجبور کررہی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی صورتحال بھی کچھ بہتر دکھائی نہیں دے رہی۔ یہاں بھی عوام نے SOP’s پر عمل نہ کرکے معاملات کو خطرناک حد تک خراب کیا ہے۔ جس کی روک تھام کے لئے شہروں میں فوج طلب کرلی گئی ہے تاکہ لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کرے یعنی پاکستان میں بھی دفعہ 144 نافذ ہو چکا ہے۔ کورونا کیسز سے گزشتہ 24 گھنٹہ میں 201 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ گزشتہ برس 810,231 کیسز رپورٹ کئے گئے تھے جب کہ مرنے والوں کی تعداد 17,530 تھی۔ امکان ہے کہ ماہ مئی میں حکومت کئی شہروں میں سخت لاک ڈاﺅن کرے گی۔ عوام کو مستقل تاکید کی جارہی ہے کہ وہ سوشل فاصلہ رکھیں اور ماسک پہنے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں مگر پاکستانی عوام بھی کچھ سننے کو تیار نہیں نتیجتاً حکومت فوج کے ذریعہ عوام کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں