۔۔۔ اس کے بعد؟ 23

کون ہیں ہم؟

آج کا اہم سوال یہ ہے کہ ”کیا ہم ایک قوم ہیں؟“ اس کا جواب دینے کے لئے کسی عالم، دانش ور یا قاضی، مفتی ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ہر شخص جو ملک سے باہر ہے وہ خود کو پاکستانی سمجھتا ہے اس میں بھی بات حتمی نہیں ہے بعض لوگ جو سبز پاسپورٹ پر تشریف لائے ہیں وہ بھی خود پاکستانی نہیں بلکہ لسانی اور علاقائی شناخت سے خود کو متعارف کراتے ہیں، کسی بھی قوم کے لئے شناخت کا ذریعہ اس کا وطن، اس کی تہذیب، اس کا کلچر اور اس کی روایات ہوتی ہیں مگر جہاں پہچان پر ہر فرد ذاتی، گروہی یا سیاسی پہچان کو فوقیت دیتا ہو تو وہ ایک قوم کیسے ہو سکتی ہے؟ دنیا جہاں کے لوگ بڑے فخر کے ساتھ خود اپنے وطن کے ذریعے متعارف کراتے ہیں اپنے قومی دنوں کے موقعوں بلا لحاظ مذہب، زبان اور علاقہ یک زبان ہو کر قومیت کا اظہار کرتے ہیں وہاں ہم اپنی قومی تقریبات میں ایک جگہ جمع ہونا معیوب سمجھتے ہیں اور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علیحدہ بنا لیتے ہیں۔ یہاں تو گروہی تعصبات اس حد بڑھ چکے ہیں کہ قومی زبان، رسم و رواج اور روایات پر بھی متفق نہیں ہوتے۔ ہمارے ان رویوں کے پیچھے ہماری وہ منافقت بھری زندگی ہے جس کا مظاہرہ اور مشاہدہ ہم روز کرتے ہیں اور خود بھی ان پر عمل پیرا ہیں ہم دوسروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ باقی چار انگلیاں آپ کی طرف بھی اشارہ کررہی ہیں اس منافقانہ رویوں میں ہمارا مذہب، ہماری سیاست، ہمارے رسم و رواج اور خود ہماری ذات ملوث ہے۔ جس کا ادراک جب دوسرے کراتے ہیں تو ہم انہیں کافر، واجب القتل اور گردن زدنی قرار دے کر خود کو اس کے پردے میں چھپا لیتے ہیں مگر اب یہ بات ہر فرد پر نمایاں ہو چکی ہے اور سب کو آپ کی اصلیت کی خبر ہو گئی ہے۔
اس بات کو واضح کرنے کے لئے آپ ایک پاکستان کا ایک امریکن خاتون کا مکالمہ ملاحظہ فرمائیں جو امریکہ میں عالمی تنازعات کا مضمون پڑھاتی ہیں اور پاکستان ہندوستان کے درمیان تنازعات سے باخبر ہیں انہوں نے پاکستانی سے پوچھا کہ کیا اس نے گاندھی کو پڑھا ہے جواب میں اس نے بتایا کہ وہ گاندھی کی سوانح عمری پڑھ چکا ہے پھر اس نے پوچھا کہ کیا اسے گاندھی کے سات سماجی گناہوں کے بارے میں معلوم ہیں۔ پاکستانی نے بتایا کہ انسان کے سات گناہ گاندھی نے گنوائے ہیں وہ ہیں، ہوس، بسیار خوری، لالچ، کاہلی، شدید غصہ، حسد اور تکبر جو انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ گاندھی نے کہا ہے کہ جب تک کوئی معاشرہ ان سات گناہوں پر قابو نہیں پا لیتا اس وقت تک کوئی معاشرہ صحیح معنوں میں تہذیب یافتہ نہیں بنتا۔ اب ذرا اپنے معاشرے پر نظر ڈال لیجئے جہاں ہوس کا یہ عالم ہے کہ ہر طبقہ جس کو جیسا موقعہ ملتا ہے اپنی ہوس گیری میں جٹ جاتا ہے۔ دولتمند ہر جائز، ناجائز طریقے سے دولت کی ہوس میں اندھا ہو رہا ہے، تاجر اشیا میں ملاوٹ کرکے، ادویات بنانے والی جعلی ادویات بنا کر، غذائی اشیا والے مردہ گوشت ذبح کر کے غرض کہ جس کا جو بس چل رہا ہے وہ اپنی ہوس پوری کررہا ہے۔ ذرا شادی بیاہ کے موقع پر کھانے پر ٹوٹ پڑنے والے مجمع کو دیکھ لیجئے وہ کس طرح کھانا کا پہاڑ اپنی پلیٹوں میں بناتے ہیں، اوقات سے زیادہ بھر لیتے ہیں اور بعد میں پس خوردہ چھوڑ کر اسے ضائع کردیتے ہیں اسی ہوس کا نتیجہ ہے کہ دوسروں کو دیکھ دیکھ کر جائز اور ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرتے ہیں اس میں اخلاقی حدود کو پار کر جاتے ہیں مگر ہوس پھر بھی نہیں پوری ہوتی۔ تیسری گنہگاری بسیار خوری قومی مزاج بن چکی ہے جس کا منظر ہم اپنی سیاست، حکمرانی اور دیگر معاشرتی سطح پر دیکھتے رہتے ہیں اس کے علاوہ لالچ، کاہلی، حسد اور تکبر کے ساتھ شدید غصہ اور وہ بھی ان پر جو کمزور اور بے بس ہیں اپنی اقلیتوں پر یہ کس طرح اکثریت سے تکبر میں ان کے حقوق پامال کرتے ہیں جب کہ مذہبی عناصر اپنے مذہب کی برتری پر دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے جینے کا حق چھین لیتے ہیں یہ فرقہ واریت کے زہر میں لتھڑے ہوئے خود کو ”خدا“ صرف اپنا جان کر وہ ان کے ہر گناہ کو معاف کر دے گا اسی کے نام پر اس کی مخلوق کو مٹانے کے درپے ہوتے ہیں جس میں نہ مذہب کا عمل دخل ہے نہ خدا پرستی کا بلکہ یہ رہے مادی مفادات کے حصول کے لئے ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں جو دنیا کے کسی مذہب نے جائز قرار نہیں دیئے ہیں اب آپ گاندھی کے ان اصولوں پر نظر ڈالیں جن میں کہا گیا ہے کہ ”کام کے بغیر دولت گناہ ہے‘ ضمیر کے بغیر خوشی گناہ ہے، کردار کے بغیر علم گناہ ہے، اخلاقیات کے بغیر تجارت گناہ ہے، انسانیت کے بغیر سائنس گناہ ہے اور قربانی کے بغیر عبادت گناہ ہے اب ذرا اپنے معاشرے پر اور اپنی قوم کے بیشتر افراد کو اس پیمانے پر ناپیں گے تو آپ کو افسوس کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ہم میں سے بیشتر اپنے کاموں کو انجام دیئے بغیر دولت کا حصول چاہتی ہے روز مرہ کے مشاہدے سے معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے سرکاری عمال اس ترکیب کو استعمال کرکے حصول زر کررہے ہیں۔ اساتذہ بغیر پڑھائے کام کررہے ہیں اور اس گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں، رہی بات ضمیر کی تو اس نام کی کوئی چیز اب ہم میں نہیں رہی ہے، بے ضمیری اب ہمارے ضمیر میں داخل ہے، برے سے برے کام کو جائز سمجھ کر انجام دے رہے ہیں اور محض اپنا فائدہ حاصل کررہے ہیں اور اس تواتر سے کہ بچارہ ضمیر اب مرچکا ہے۔ اخلاقیات کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے اب تجارت کا دوسرا نام بد اخلاقی ہے، لین دین میں بے ایمانی، حکومت کے ٹیکس نہ دینے پر احساس تفاخر، ملاوٹ اور غیر معیاری اشیاءاور سب سے بڑھ کر بد اخلاقی اور کج روی، جتنا بڑا تاجر اتنا ہی فرعون صفت، یہ عبادت کو محض نمازوں کی تعداد میں تصور کرتے ہیں اور جو اصل عبادت ہے انسانوں کی مدد، کمزوروں کی حمایت، لوگوں کی بھلائی کے کام اس سے بالکل لاتعلق ہیں، سمجھتے ہیں کہ محض نمازیں ہی انہیں بخسوا دیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اب ان نام نہاد مذہب کے ٹھیکیداروں سے اکتا گئے ہیں جن کے اعمال اور کردار میں منافقت ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ مذہب سے دور ہوتے جاتے ہیں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جو جتنا بڑا مذہب مذہب کرتا ہے اس کا عمل اس سے مختلف ہے بلکہ وہ تمام دنیا دار سے زیادہ فتنہ پرور اور لوگوں کو تقسیم کرنے والا ہے ان کی امارت پکار پکار کر کہتی ہے کہ میرا اس مذہب سے کیا واسطہ جو سادگی، نفس کی قربانی، صلہ رحمی اور مخلوق خدا سے محبت کرنا سکھاتا ہے یہ عمامے جبے تو ایک دکھاوا ہے جو میری گندی اور ملائیت ذہنیت کو چھپائے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں