خطرناک راﺅنڈ شروع 82

کیا اُلٹی گنتی شروع؟

پاکستان کی سیاست کس طرف جارہی ہے۔ سیاسی رہنماﺅں کے طوفانی دوروں کا سلسلہ جاری ہے، اپوزیشن مارچ کے مہینے کو تبدیلی کا مہینہ قرار دے رہے ہیں۔ کیا واقعی مارچ کے ماہ میں کچھ ہونے جا رہا ہے، یہ وہ اہم ترین سوالات ہیں جو پاکستان کے ہر فورم پر لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اندرون خانہ کچھ ہے یا نہیں لیکن فارغ بیٹھے پاکستانی سیاستدانوں نے خود کو ضرورت سے زیادہ مصروف کرکے اس طرح کا تاثر ضرور پیدا کرلیا ہے کہ انہیں کسی بڑے گھر سے اشارہ مل چکا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو جمہوری طریقے سے گرانے کے لئے کسی بھی حد تک جائیں کوئی گھر کوئی ادارہ ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ اس طرح کا تاثر پیدا کرنے کے بعد ہی اپوزیشن رہنماﺅں کی جانب سے پہلے عمران خان کے سب سے بڑے اتحادی چوہدری برادران سے آصف علی زرداری اس کے بعد شہباز شریف اور آخری میں اعلیٰ حضرت مولانا فضل الرحمن کی ملاقاتیں ہوگئی، ان ملاقاتوں کو ملکی میڈیا اور غیر ملکی میڈیا نے بہت اہمیت دی اور یہ تبصرے ہونا شروع ہو گئے کہ عمران خان کے حکومت کے دن کم ہونا شروع ہو گئے ہیں اس طرح سے اب اطلاع ملی کہ آصف علی زرداری نے اعلیٰ حضرت مولانا فضل الرحمن کے آستانے پر جا کر ان سے ملاقات کی۔ آخر ان ملاقاتوں کا مقصد کیا ہے، اعلیٰ حضرت کے پاس تو کوئی سیٹ نہ تو صوبائی اسمبلی میں ہے اور نہ ہی قومی اسمبلی میں ہے لیکن اس کے باوجود کوئی ایک بھی تحریک کوئی ایک بھی حکومت مخالف دنگا فساد مولانا کی شمولیت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، یہ ہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری جیسے مفاہمت کے بادشاہ بھی اعلیٰ حضرت سے ملنے یا ان کی زیارت کرنے پر مجبور ہیں۔
پچھلے کالم میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ اپوزیشن کی ساری تان عدم اعتماد کی تحریک لانے پر جا کر ٹوٹے گی، یعنی یہ ساری منافقانہ ملاقاتوں کا نچوڑ ایک دوسرے کو اس ایک نقطہ پر متفق کرنا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کا کاندھا استعمال کرکے اپنی جانب بڑھنے والی اس موت سے چھٹکارہ پانے کے لئے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا ہے۔ عمران خان کو وزارت اعظمی کے منصب سے ہٹانا ہے ان کی جگہ خود ان کی پارٹی سے کوئی بھی آجائے، انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا، وہ عمران خان کو مزید برداشت نہیں کرسکتے جو معاف کرنے کی صلاحیت یا خوبی سے محروم ہے اور ان کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے وہ مزید ذلیل و خوار ہی ہوتے رہیں گے اسی وجہ سے اس مصیبت سے پیچھا چھڑانے کے لئے دل پر جبر کرتے ہوئے ہمیں یکجہتی و اتحاد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ ورنہ یہ ضدی وزیر اعظم ایک ایک کرکے ہم سب کو برباد کرلے گا۔ یہ وہ خوف ہے جس نے اس وقت اپوزیشن میں ایک بجلی، ایک نئی طاقت، ایک نئی امنگ بھرلی ہے جس کی وجہ سے ان کے طوفانی دوروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس سے یقیناً موجودہ حکومت بھی بہت ہی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت خود وزیر اعظم کا پنجاب کے ایک علاقے میں بہت بڑے جلسے سے خطاب کرنا ہے۔
کچھ نہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کی جارہی ہے، کہیں سے تو ڈوریں ہلائی جارہی ہیں جس کی وجہ سے اپوزیشن اس وقت متحرک ہو چکی ہے، حکومت کی بوکھلاہٹ بھی صاف طور پر نظر آرہی ہے، جس کا زندہ ثبوت خود صدر مملکت کی عجلت میں دو اہم ترین آرڈیننس کا اجراءکرنا ہے۔ ملک میں ایک ہیجانی کیفیت طاری ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ سب کچھ نارمل نہیں ہے، کچھ نہ کچھ ہونے جارہا ہے، معلوم نہیں ملک کے پالیسی ساز اور حکومت کی درپردہ قوتیں کیا چاہتی ہیں؟ ان کے پاس کیا نیا پلان ہے؟ کیا وہ عمران خان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا عمران خان کو اپنے اور اپنی حکومت کے خلاف کی جانے والی ان سازشوں کا اور ان کارروائیوں کا علم ہے؟ اور کیا ملک کے منتخب وزیر اعظم ہونے کے باوجود وہ اتنے کمزور ہیں کہ انہیں کوئی بھی ادارہ جب چاہے اپنی خواہش کی تکمیل نہ کرنے کی پاداش میں وزارت عظمیٰ کے منصب سے فارغ کرواسکتا ہے۔ لیکن میری ذاتی رائے اور ذاتی معلومات کے مطابق ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے اور اگر طاقت کے نشے میں کسی نے بھی ایسا کرنے کی غلطی کی تو ایک اس طرح کا پینڈورہ بکس کھل جائے گا کہ جسے بند کرنا پھر ملک کے کسی بھی ادارے کے بس میں نہیں ہوگا۔ یہ بات سب کو معلوم ہونی چاہئے کہ عمران خان کی ملکی میڈیا سے زیادہ عالمی آزاد ترین میڈیا میں بہت زیادہ پذیرائی ہے جس کا ثبوت ان کے دو تین لائن کے ٹوئیٹس کو مغربی میڈیا شہ سرخیوں سے چھاپتا ہے، ہر ٹی وی چینل ان کے انٹرویو کو پروگرام کا حصہ بنانا اپنے لئے قابل فخر سمجھتا ہے۔ اس لئے اگر عمران خان کے ساتھ کوئی روایتی حربہ اختیار کیا گیا تو وہ بہتر نہیں ہو گا۔ اس لئے اس طرح کی غلطی کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ عمران خان کوئی روایتی سیاستدان نہیں ہیں اس لئے ان کے ساتھ روایتی طریقہ کار بھی نہیں اپنانا چاہئے اسی میں وطن عزیز اور اس پر بسنے والے کروڑوں پاکستانیوں کی فلاح و بہبود مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں