کیا لاہور جلسہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا؟ 43

کیا لاہور جلسہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا؟

شکاگو/ٹورنٹو (پاکستان ٹائمز) پی ڈی ایم کی تحریک اپنے آخری مرحلہ میں داخل ہو رہی ہے اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق اب حکومت عمران خان کے استعفیٰ کے علاوہ کسی بھی معاملہ پر بات چیت کے لئے تیار نہیں ہے۔ اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لئے دی جانے والی کال کو بھی مسترد کردیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت ہل چکی ہے اور لگتا ہے وزیر اعظم ابھی نشہ کی کیفیت سے باہر نہیں آئے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں ہوئیں تو ملک کی تمام شاہراہیں بند کردیں گے۔ اطلاعات ہیں کہ 31 دسمبر تک اپوزیشن کے تمام ارکان اسمبلی اپنے استعفیٰ مولانا فضل الرحمن کے پاس جمع کرادیں گے۔ نواز شریف، آصف زرداری اور اختر مینگل میں باہمی رابطہ، لانگ مارچ کے لائحہ عمل پر غور، امکان ہے کہ اجتماعی استعفیٰ مولانا فضل الرحمن کے پاس جمع کئے جائیں گے کیونکہ یہی طے پایا ہے اور لانگ مارچ کے اختتام پر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ارکان اسمبلی اپنے استعفیٰ مولانا فضل الرحمن کے پاس جمع کروا دیں گے۔ دوسری جانب عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت مضبوط ہے اور اپوزیشن جو چاہے کرلے حکومت نہیں گرا سکتی کیونکہ حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں