88

کینسر خلیات کے اندر دوا پہنچانے والے ڈرل نما مائیکروبوٹس تیار

جنوبی کوریا: اگرچہ جسم کے اندر دوڑتے پھرنے والے خردبینی روبوٹس پر ایک عرصے سے کام جاری ہے لیکن ان میں بعض مسائل آڑے آتے رہے ہیں۔ اب کارک کھولنے والے اسکرو کی مانند باریک روبوٹ بنائے گئے ہیں جو کینسر کے خلیات کے اندر سوراخ کرکے دوا انڈیلنے کا کام کرسکتے ہیں۔
اس طرح دوا خون میں ضائع ہوکر بہنے کی بجائے براہِ راست سرطان والی جگہوں پر پہنچائی جاسکتی ہے جس کا بہترین ہدف سرطانوی خلیات (کینسر سیلز) ہیں۔ اس ایجاد سے کسی تیر کی جگہ دوا وہیں پہنچائی جائے گی جہاں انہیں بھیجنا مقصود ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ کیموتھراپی کا عمل سرطان سے متاثرہ حصوں کے ساتھ ساتھ خود صحت مند مقامات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اسی بنا پر سرطانی پھوڑوں کے اندر براہِ راست دوا پہنچانے کی سر توڑ کوشش کی جارہی ہیں۔
کوریا میں ڈیگو گاﺅنبک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے کئی سال کی محنت کے بعد پیج کس یا برمے (ڈرل) کی شکل کے نینوبوٹ بنائے ہیں جو خون میں تیر سکتے ہیں، رگوں میں رینگتے ہیں اور چلتے ہوئے پلٹتے اور جھپٹتے ہیں۔ انہیں بنانے کے لیےآبدوز سے لے کر بیکٹیریا تک لاتعداد اشیا کا مطالعہ کیا گیا ہے تاکہ درست روبوٹ بنایا جاسکے لیکن یہ بہت ہی باریک ہیں اور خردبین سے ہی دیکھے جاسکتےہیں۔
خیال ہے کہ ایسے بہت سارے روبوٹ میں کینسر کی بہترین دوا کی معمولی مقدار بھردی جائے گی اور ان کا رخ جسم کے اندر سرطانوی خلیات کی جانب ہوگا۔ پھر یہ گھومتے ہوئے خلیات کو چھیدیں گے اور اندر گھس کر دوا چھوڑ دیں گے اس طرح اپنے درست مقام پر سرطان کا تریاق پہنچ سکے گا۔
مائیکروبوٹ کو عام طور پر بیرونی مقناطیسی میدان سے ان کی منزل تک لے جایا جاتا ہےجس کی یہاں بھی ضرورت ہے۔ باریک روبوٹ جست اور ٹیٹانئیم آکسائیڈ سے بنائے گئے ہیں جن کے اگلے سرے نیزے جتنے نوکیلے ہیں اور برما کی طرح خمیدہ ہیں۔ انہیں انجیکشن کے ذریعے بھی اپنے مطلوبہ مقام کے قریب پھینکا جاسکتا ہے۔ باقی کام مقناطیسی میدان سے لینا ممکن ہے۔
تجرباتی طور پر یہ خون کی چھوٹی رگوں میں بہت بہتر ثابت ہوئے لیکن بڑی رگوں اور نسوں میں بہتے خون کے پریشر نے انہیں دھکیل کر ادھر ادھر کردیا۔ اس طرح فی الحال خون کی چھوٹی رگوں میں ڈال کر صرف 44 سیکنڈ میں انہیں سرطانی خلیات تک پہنچایا گیا۔
تاہم اس ٹیکنالوجی کو عملی صورت اختیار کرنے میں مزید کئی برس لگ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں