آئین پاکستان یا موم کی ناک! 84

کینیڈا میں کلچرل پروگراموں کی بہار!

جیسے سائبیریا کے برف پوش علاقوں سے اڑ کر موسمی پرندے اپنا رزق تلاش کرنے کے لئے گرم مرطوب علاقوں کا رخ کر لیتے ہیں اور پھر وہ موسم کے بدلنے تک وہیں قیام کرتے ہیں، وہیں سے وہ دانہ دنکا چنتے ہیں اور موسم کی شدت سے بھی بچتے ہیں۔
اسی طرح برصغیر پاک و ہند سے بھی ہر سال شمالی امریکہ میں موسم گرما شروع ہوتے ہی فنکاروں اور گانے والوں کی بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے۔ ایک تو وہ نو مہینے یکساں نوعیت کے پروگرام کرکے اکتا گئے ہوتے ہیں اور دوسرا سال بعد ان کی تفریح بھی ہو جاتی ہے۔ یہاں لوگ ان کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور ان کی بڑی پذیرائی کی جاتی ہے اور کی بھی جانی چاہئے۔ فنکار بڑا حساس انسان ہوتا ہے جو اپنے اندر کے دکھ اور تکلیف کو نہ ظاہر کئے بغیر لوگوں کو ہنساتا ہے اور تفریح مہیا کرتا ہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی موسم گرما کے شروع ہوتے ہی فنکاروں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے معروف گلوکار عاطف اسلم پرفارم کرکے گیا ہے۔ کل شام مشہور پروگرام ’خبرھار“ کے میزبان آفتاب اقبال اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ برامپٹن میں بھرپور پروگرام کررہے تھے۔ پروگرام کے آرگنائزر ناصر شاہ تھے جنہوں نے تمام پروگرام میں اسپانسرز اور اپنے ساتھیوں کا بار بار تذکرہ کرکے حاضرین محفل کو اکتاہٹ کا شکار کئے رکھا۔ آفتاب اقبال شو کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ شو ایک عام نوعیت کا پروگرام تھا۔ اس میں کچھ الگ نہیں تھا۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی مگر ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ہر طرف شور و غوغا تھا، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ پروگرام کے آرگنائزر نے بارہا لوگوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔
پروگرام کے آغاز میں مقامی فنکاروں نے گانے سنائے جو کہ پھس پھسے سے تھے، یہ فنکار لوگوں کی توجہ حاصل نہ کرسکے، ابھی پروگرام کا آغاز ہوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ Appitizer کا اعلان کردیا گیا۔ ہموطنوع نے یہاں بھی اسی ہڑبونگ کا مظاہرہ کیا جس طرح پاکستان میں ہونے والی شادیوں اور دیگر تقریبات کے موقع پر دیکھنے کو ملتا ہے، لوگ جوق در جوق کھانے والی میزوں کی طرف گامزن تھے۔ پاکستان لوگ جہاں بھی ہوں گے اپنی انہیں حرکات کی وجہ سے پہچانے جائیں گے۔ کھانے کے دوران پروگرام صرف ان لوگوں نے دیکھا جو اسٹیج کے بالکل سامنے بیٹھے تھے، باقی پیچھے تو کھیل تماشہ جاری تھا۔ انتہائی Un-Organized فنکشن تھا جس کا اظہار آفتاب اقبال نے بھی کیا اور لوگوں کو سیٹوں پر بیٹھنے اور خاموشی اختیار کرنے کا بھی کیا لیکن یہاں کا ماحول کسی مچھلی منڈی سے کم نہیں تھا۔ ساﺅنڈ سسٹم انتہائی ناقص تھا۔
ہاں البتہ ایک چیز پر داد دینی پڑے گی کہ ہال میں داخلے کے لئے بے تہاشہ لوگ کھڑے کئے گئے تھے جو ہر ایک سے ٹکٹوں کی چیکنگ کو یقینی بنا رہے تھے، ان کے ساتھ مقامی سیکیورٹی ایجنسی کے لوگ بھی تعینات کئے گئے تھے۔ ہال میں اکثر لوگ جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گئے۔
پروگرام کے روح رواں ناصر شاہ نے لوگوں کو انتہائی بور کیا البتہ آفتاب اقبال کے اسٹیج پر آنے کے بعد لوگوں کی توجہ اس طرف ہوتی، اس سے پہلے اسد کیفی، ببو رانا، رنگیلا اور عکاشہ گل نے دو دو گانے سنائے جو کہ محض وقت گزاری کے لئے تھے۔ میوزک کا گانے کے ساتھ کوئی ربط نہ تھا۔ شاید آفتاب اقبال اینڈ کمپنی اتنے لوگوں کو Expect نہیں کررہے تھے۔ جس کا اظہار انہوں نے کیا بھی کہ میں اتنے بڑے مجمے کو کس طرح ہینڈل کروں گا۔
سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو آفتاب اقبال سے چند ایک لوگوں نے پوچھا کہ آپ کے پروگرام یکسانیت کا شکار ہیں ان کو بہتر کریں اور کچھ نیا لائیں تو اس پر وہ لوگ گویا ہوئے کہ میں تو اس پروگرام کو چھوڑنا چاہ رہا ہوں اگر کوئی میرا جانشین مل جائے تو میں لکھنے پڑھنے کے دوسرے کام کرنا چاہتا ہوں۔ ایک اور سوال پر کہ آپ نے عمران خان کا انٹرویو کیا ہے، اس میں خان صاحب کو ان کی غلطیوں کی طرف اشارہ نہیں کیا، اس پر موصوف نے بڑے ہتک آمیز لہجے میں کہا کہ ہاں عمران خان کا انٹرویو کرنے غلطی مجھ سے ہی ہوئی ہے، اور میں اس کو مانتا ہوں، یہ سب وہ طنزیہ انداز میں کہہ رہے تھے، چار پانچ سوالوں کے جوابات جو انہوں نے دیئے وہ سارے بڑے ربط اور موضوع سے ہٹ کر تھے۔ انہیں مجمع کو فیس کرنا نہیں آتا یہاں بھی اپنے پروگرام کی طرح چیخ چلا رہے تھے۔ آفتاب اقبال ایک سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں اور جو کام وہ کررہے ہیں یہ ان کے بس کی بات نہیں۔ حسب حال سے انہوں نے شہرت پائی لیکن حسب حال جو کہ آج بھی چل رہا ہے اور جنید سلیم اسے بڑا اچھا ہوسٹ کررہے ہیں تو وہ پروگرام صرف اور صرف سہیل احمد کی وجہ سے ہٹ پروگرام ہے جو ساری دنیا میں دیکھا جاتا ہے، کئی ٹی وی چینلوں نے ایسے تفریحی پروگرام شروع کئے اور کر رکھے ہیں مگر ان کی ریٹنگ حسب حال سے کہیں کم ہے۔
لہذا یہ شو انتہائی بدنظمی کا شکار رہا اور بے حد پھیکا پروگرام تھا، لوگوں کی کثیر تعداد نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کسی بھی پروگرام کی کامیابی اس طرح نہیں جانچی جاتی کہ اس میں کتنی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، دیکھا جاتا ہے کہ کوالٹی کیسی تھی، تعداد کی اہمیت نہیں ہوتی، ہاں البتہ ہمارے ہم وطن یہاں سارا سال کام کرکے بور ہو جاتے ہیں تو ان پروگرام میں شرکت کرکے کچھ راحت محسوس کرتے ہیں۔
میری نظر میں آفتاب اقبال کو اچھے آرگنائزر کی ضرورت ہے اور اپنی ٹیم میں بھی مثبت تبدیلیاں لائیں، پروگرام میں پیش کئے جانے والے Segments کو بھی تبدیل کریں۔ Content اچھا ہونا چاہئے جس سے لوگوں کی توجہ پروگرام سے ہٹے نہ۔ جب پروگرام پھیکا ہو گا تو اس طرح کی بدنظمی ہی ہوگی۔ بہرحال ہم آفتاب اقبال اور ان کی ٹیم کے لئے آئندہ پروگراموں کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں