عمران خان نے کشمیر بھی فتح کرلیا! 126

کینیڈا کے جاڑے اور اُداسی!

خزاں کی دُھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن
میں یوں بھی پھول تھا، آخر مجھے بکھرنا تھا
راقم کو کینیڈا ہجرت کئے چار سال ہونے کو ہیں۔ لہذا چوتھے جاڑوں سے سامنا ہے۔ پچھلے سالوں کی طرح اس سال بھی خراماں خراماں جاڑوں کی طرف سفر جاری ہے۔ جاڑے شروع ہوتے ہی جسم میں کپکپی کا احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس میں گرم کپڑوں کا استعمال چائے، کافی، ڈرائی فروٹ اور آگ کا تاپنا بڑی مسحور کن ہوتے ہیں۔ کمبل میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا، اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنا بڑا اچھا لگتا ہے۔ جہاں یہ سب کچھ اچھا لگتا ہے وہیں یہ موسم اپنے اندر بے پناہ اداسی بھی لئے ہوئے ہے۔ گہرے ابر، بارش، ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے انسان کو انتہائی کاہل بنا دیتے ہیں خصوصاً کینیڈا کا موسم سرما تو انتہائی سخت ہوتا ہے۔ خزاں شروع ہوتے ہی درختوں کے سرسبز پتوں کا رنگ تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ موسم گرما تھک ہار کر مدہم مدہم چال سے خزاق کی ڈھلتی ہوئی شاموں میں اوجھل ہو چکا ہے۔ موسم گرما کی وٹامن ڈی سے بھرپور سنہری دھوپ کی ہدت معدوم پڑ چکی ہے۔ لمبے دنوں کی جگہ چھوٹے دن ہو گئے ہیں۔ چمکتے دمکتے حرارت والے دن قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ موسم گرما میں درختوں اور پودوں پر رنگ برنگ پتوں اور پھولوں کی بہار نظر آتی ہے۔ گھنے درختوں کے سائے بڑے بھلے لگتے ہیں۔ ان سے چلنے والی ٹھنڈی ہوا جسموں کو تروتازگی بخشتی ہے۔ حدنگاہ تک پھیلے ہوئے گل و گلزار ماحول کو عجیب حسن بخش رہے ہوتے ہیں۔ ہر چیز چاندنی میں بنائی ہوئی کھلی کھلی ہوتی ہے۔ لوگ اپنے اپنے فرنٹ اور بیک یارڈ میں گھاس اور پودوں کی تراش خراش میں مگن نظر آتے ہیں۔
تفریحی مقامات اور شاپنگ مالز میں سیاحوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے رہتے ہیں۔ ساحلوں پر میلے کا سا سماں ہوتا ہے، لوگ گھروں سے کھانے پینے کی اشیاءلے کر جاتے ہیں اور پانی سے اٹھکیلیاں کرتے ہیں۔ بچے، نوجوان، بوڑھے اور خواتین سب ہی دنیا و مافیا سے بے پرواہ ہو کر مختلف مشاغل میں مگن ہوتے ہیں۔ ریت پر مختلف قسم کے کھیل کھیلتے ہیں مختصر لباس میں ملبوس مرد و زن سن باتھ کرتے دکھائی دیتے ہیں ہر شخص آزادی سے من پسند مشغلوں میں مصروف نظر آتا ہے۔ غرض یہ کہ موسم گرما انتہائی خوشگوار ہوتا ہے، کینیڈا آنے والے سیاحوں کے لئے یہ سیزن بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ موسم گرما میں کھانے پینے اور تفریح پر بیش بہا سرمایہ خرچ ہوتا ہے لیکن اب تو یہ گزر چکا ہے، ہم موسم خزاں سے گزر رہے ہیں۔ سبز پتوں سے لدے ہوئے گھنے درخت پیلے پڑ چکے ہیں اور کمزور ہو کر یہ پتے زمین کو رنگین کررہے ہیں۔ ہرگلی محلے کی سڑک زرد پتوں سے اٹی پڑی ہے لیکن ساتھ ساتھ سٹی کے لوگ آن گرے ہوئے زرد پتوں کو اکھٹا کرکے ٹھکانے لگا رہے ہیں۔ بلند و بالا درخت پتوں کے زیور سے محروم ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کینیڈا میں درختوں کا سینکڑوں اقسام ہیں جن میں میپل “Maple”، پیپر برچ “Paper Birch”، لاج پول پائن “The Lodgepole Pine”، ویسٹرن ریڈ سیڈر “Western Red Cedar” ، وائٹ سپروس “White Spruce” ، ریڈ اوک “Red Oak” ، راکی ماﺅنٹین فر “Rocky Mountain Fir” اور یلو برچ “Yellow Birch” وغیرہ مشہور ہیں۔ کینیڈا سبزے سے لدا ہوا ہے اور اس کا صحیح نظارہ موسم گرما میں ہی ہوتا ہے۔
خزاں جسے مقامی لوگ “Fall” بھی کہتے ہیں، موسم سرما کا پہلا پڑاﺅ ہے، یہاں جاڑے بہت شدید ہوتے ہیں، بھرپور موسم میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے 30 سے 40 ڈگری تک گر جاتا ہے۔ بسوں، ٹرینوں میں اور پیدل چلنے والے افراد کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ لوگوں نے اتنا کچھ پہنا ہوتا ہے کہ ان کا وزن کئی کلو گرام بن جاتا ہے۔ “Snow Shoes” کے بغیر چلنا محال ہوتا ہے، پھسلنے کا امکان ہر وقت رہتا ہے۔ برف کے جھکڑ چلتے ہیں۔ اسکولوں میں تعطیلات کردی جاتی ہیں بعض اوقات زندگی منجمد ہو کر رہ جاتی ہے۔ شدید سرد موسم انسان کو انتہائی سست کر دیتا ہے۔ جاڑے کی لائف بہت کٹھن ہے، گھروں کے پارکنگ لاٹ کے ساتھ ساتھ گاڑیوں سے برف بھی صاف کرنی پڑتی ہے۔
سفید موتیوں جیسے گالے جب آسمان سے گر رہے ہوتے ہیں تو بہت بھلے لگتے ہیں مگر گھروں یا کاروں کی کھڑکیوں سے جونہی آپ باہر قدم رنجا فرماتے ہیں تو ہر چیز بری لگنی شروع ہو جاتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ کسی گرم جائے پناہ میں گھس جاﺅ عموماً اس شدید سرد موسم میں ہجرت کرکے آئے عمر رسیدہ لوگ اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جاتے ہیں اور مئی تک وہیں قیام کرتے ہیں، کچھ بزرگ اور بیمار لوگ تو شدید سردی سے تنگ آکر کینیڈا کو خیرآباد کہہ دیتے ہیں۔ یہاں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کینیڈا کا نام لیتے ہوئے دو چیزیں فوراً ذہن میں آتی ہیں۔ ایک سردی اور دوسری کنسٹرکشن۔
یہاں سارا سال تعمیراتی کام ہوتا رہتا ہے جس سے ٹریفک کے بڑے مسائل درپیش رہتے ہیں لیکن مقامی لوگ اس کے عادی ہو چکے ہیں۔ کینیڈا میں دوسرے ملکوں سے ہجرت کرکے آئے لوگوں کی تعداد کینیڈا کی آدمی آبادی کے برابر ہے۔ اس لئے یہاں کسی جگہ آپ کو خاص انگلش بولنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ہر جگہ اپنے مرد و خواتین بیٹھے ہیں جو آپ کی خوش دلی سے مدد کردیتے ہیں۔
پیچھے مڑ کر جب میں دیکھتا ہوں تو ان چار سالوں میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں کتنی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ان میں بعض خوشگوار ہیں اور بعض دل کو مغموم کر دینے والی زندگی اسی دھوپ چھاﺅں کا نام ہے۔ یہ ایک ہی مسلسل لائن کی طرح نہیں چلتی اس میں ای سی جی کی طرح نشیب و فراز ہیں۔ یہ قدرت کا وضع کردہ نظام ہے جو بنی نوع انسان کی تخلیق سے ساتھ چل رہا ہے۔
2017ءاپریل میں وطن عزیز کو الوداں کہا تو اس وقت پاکستان کے سیاسی افق پر مسلم لیگ ن کی حکومت غروب ہو رہی تھی۔ نواز شریف سپریم کورٹ سے نا اہل ہو کر جاتی عمرہ لاہور منتقل ہو چکے تھے اور باقی مدت کے لئے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم منتخب کیا گیا تھا۔ مسلم لیگ ن نے پانچ سال پورے کئے اس طرح دوسرا جمہوری دور اختتام پذیر ہوا جو کہ ایک خوش آئند بات تھی۔
2018ءمیں ہونے والے انتخابات میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن کر اُبھری جسے حکومت بنانے کی دعوت دی گئی جو کہ مختلف جماعتوں سے مل کر بنی تھی۔ عمران خان کی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد سے کسی کو انکار نہیں تھا۔ عمران خان کے سیاسی سفر کے دو سال 2016-17ءبہت اہمیت کے حامل ہیں جب خان کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ پاکستانی نوجوانوں کو چارج کیا گیا حتیٰ کہ گھریلو خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد بڑے جوش اور ولولے کے ساتھ عمران خان کو سپورٹ کرنے کے لئے گھروں سے نکلے اور دل کھول کر تحریک انصاف کے جلسے جلوسوں اور دھرنے میں شرکت کی۔ راقم بھی ان جلسوں میں فیملی کے ساتھ شریک ہوتا رہا، لوگوں میں اتنا جذبہ تھا کہ وہ آنے والی تبدیلی کے جلوسوں کا حصہ بن کر تاریخ میں نام لکھوانا چاہتے تھے، کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے تبدیلی کے نعرے نے ساری قوم میں نئی روح پھونک دی تھی۔ کرپشن کے خلاف اس کی للکار ساتویں آسمان کو چھو رہی تھی اور چیرتی ہوئی لوگوں کے دلوں میں گھر کررہی تھی۔
عمران خان کی بطور کرکٹر ایک ممتاز حیثیت تھی پھر شوکت خانم جیسا کینسر ہسپتال بنا کر اپنا اعلیٰ مقام بنا چکا تھا۔ عمران خان کی دیانتداری اور سخت محنت ہر کسی کے علم میں تھی، کھیل کے میدان میں کرکٹ کا ورلڈکپ جیت کر وہ عالمگیر شہرت حاصل کر چکا تھا۔ پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ میں اس قدر خوبرو کھلاڑی آج تک پیدا نہیں ہوا، اس کی سحر کر دینے والی شخصیت خواتین کو اپنی طرف کھینچتی تھی، وہ خواتین کا ہر دلعزیز ہیرو رہا ہے۔ اس کی شخصیت کا جدو نہ صرف پاکستان میں تھا بلکہ ہندوستان اور برطانیہ سمیت پوری دنیا اس کی مداح تھی۔
عمران خان ایک کامیاب شخصیت کا مالک تھا، اس نے جس کام میں ہاتھ ڈالا اس کو انتہائی محنت کرکے حاصل کیا۔ عمران خان کی اسی دیانتداری پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے ”صادق اور امین قرار دیا۔
معاشی، معاشرتی اور اداراتی زبوں حال حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی ایسے بڑے بڑے مسائل کا سامنا تھا جس میں ڈوبتی ہوئی معیشت سب سے اہم تھی۔ جس کے لئے اسے کئی برادر ممالک سے دست سوال دراز کرنا پڑا جو کہ اس کے مزاج کے بالکل برعکس تھا لیکن قوم کی خاطر عمران خان نے یہ کڑوا گھونٹ پیا۔ پہلا سال بہت مشکل تھا، ایک تو دیمک زدہ معیشت اور پھر حکومت چلانے کے لئے تجربہ کار اور اچھی ٹیم کا انتخاب، یہ مرحلہ بہت مشکل تھا، ناتجربہ کاری کی وجہ سے کئی کمزور فیصلے ہوئے، جن پر بہت کڑی تنقید کی گئی۔
زرداری اور نواز شریف حکومتوں کے بنائے ہوئے ایک دوسرے پر کرپشن کے مقدمات کو تیز رفتاری سے شروع کردیا گیا۔ دونوں خاندانوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی، ان کو نیب کی طرف سے بہت سارے ریفرنسز کا سامنا ہے، جس پر ایک دوسرے کے مخالف دونوں جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن بشمول مولانا فضل الرحمان ایک ہوچکے ہیں اور پاکستانی فوج اور عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
موجودہ سال کے آغاز سے ہی ان دیکھا ”کرونا وائرس“ تباہی مچا رہا ہے۔ اس موذی وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس سے لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں اور کروڑوں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ دنیا کی کئی اہم شخصیات اس کی نظر ہو چکی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس سے بچاﺅ کی ویکسین جلد ہی مارکیٹ میں آ جائے گی جس سے لوگ سکون کا سانس لیں گے تاحال پوری دنیا دوسری لہر کا شکار ہے اور دن بدن پازیٹو کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہ ے۔
اسی دوران دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ افغانستان سے اٹھارہ سال بعد غیر ملکی فوجوں کا انخلاءمکمل ہونے کو ہے۔ ہندوستان نے کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کردیا ہے اور مسلمانوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔ نریندر مودی کو فاشسٹ گورنمنٹ ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے جو کہ اس سال کی بہت بڑی خبر ہے۔ چین دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے جس سے امریکہ سمیت سارا مغرب مظرب ہے، امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ اپنے عروج پر ہے۔
وسطی امریکا میں حالات دگرگوں ہیں، ڈونلڈٹرمپ نے حالیہ انتخابات میں ہونے والی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے، امریکہ میں کچھ عرصہ سے فسادات کا سلسلہ جاری ہے، کئی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ امریکہ کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہورہی ہے۔
رات کے پچھلے پہر یہ سطور لکھتے ہوئے میرا ذہن خودکار مشینری کی طرح پچھلے چار سالوں میں ہوئے اہم واقعات کو لکھنے پر مجبور کررہا ہے لیکن تمام واقعات قلمبند کرنا مشکل ہے ہاں ان بیتے سالوں میں کچھ قریبی دوست اور عزیز و اقارب بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ جن کا بہت افسوس ہے اور کچھ صاحب فراش ہیں۔ نوجوان بھانجے بھتیجے اب جوان کی دہلیز پر دستک دے رہے ہیں۔ بہن بھائیوں کے بالوں میں سفیدی چمکنے لگی ہے ان کی صورتیں کمزور نظر آرہی ہیں۔ والدین کی مرقد پر حاضری دیئے عرصہ بیت گیا ہے۔ دوست احباب کی جدائی رہ رہ کر ستا رہی ہے۔ وطن کی فضائیں، ہوائیں اور مٹی کی خوشبو مس کررہا ہوں۔ جاڑوں کی اداس کردینے والی شامیں یہی ستم ڈھاتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں