نواز شریف کا ملک دُشمن بیانیہ! 93

کینیڈینز کو 153 واں یوم آزادی مبارک!

کینیڈا یکم جولائی 1867ءکو آزاد ہوا۔ اس طرح ہمیں برطانوی حاکمیت سے آزادی حاصل کئے 153 سال ہو گئے ہیں۔ راقم الحروف کی طرف سے کینیڈا میں بسنے والے تمام لووں کو کینیڈا ڈے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد۔
کینیڈا ڈے پر ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ یوم آزادی کی مناسبت سے مرکزی سرکاری تقریبات اوٹاوہ میں منعقد کی جاتی ہیں۔ ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبارات، جرائد و رسائل اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے خصوصی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔
اوٹاوہ اور دوسرے بڑے شہروں میں خصوصی پریڈ کا اہتمام کیا جاتا ہے جسے دیکھنے کے لئے نہ صرف مقامی لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں بلکہ دنیا بھر سے سیاحوں کی کثیر تعداد بھی کینیڈا آتی ہے اور اس سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ پریڈ کے شرکاءکینیڈا کے جھنڈے سے ملتا ہوا سرخ اور سفید رنگ کا لباس زیب تن کرتے ہیں جو کہ ان پر بہت کھلتا ہے۔ اس تقریب میں نوجوان لڑکے لڑکیاں بچے اور ہر عمر کے افراد بڑے شوق سے شریک ہوتے ہیں اور انہیں سارا سال آزادی پریڈ کا انتظار رہتا ہے۔
ملک بھر کے کلیساﺅں میں دعائیہ تقریبات ہوتی ہیں جس میں ملک کی سلامتی اور خوش حالی کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔
کینیڈا ڈے یہاں بسنے والے تمام مذاہب اور رنگ و نسل کے لوگ مل جل کر مناتے ہیں۔ کینیڈا ایک ایسا ملک ہے جہاں ترک سکونت ک رکے آنے والے لوگوں کی تعداد مقامی لوگوں سے زیادہ ہے اس ملک کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں۔ ماسوائے اکا دکا واقعات کے۔ یہ ایک پرامن ملک ہے۔ کینیڈا کی پالیسیز انسان دوست ہیں۔
کینیڈا ڈے چونکہ سخت گرمی میں آتا ہے اس لئے فیملیز بیچز (Beaches) اور پارکوں کا رخ کرتے ہیں۔ سمندر کے کناروں پر پانیوں سے اٹھکیلیاں کرتی لڑکیاں، بالیاں اور نوجوان مختصر لباسوں میں ماحول میں ارتعاش پیدا کررہے ہوتے ہیں۔ درمیانی عمر اور بوڑھے جوڑے بھی ان سے پیچھے نہیں رہتے وہ بھی سن باتھ کرتے نظر آتے ہیں۔ بچے مختلف قسم کے کھیلوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہاں ریستوران پر سیاحوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے رہتے ہیں۔ اس پر فضا ماحول میں آکر انسان فریش ہو جاتا ہے، کچھ دیر کے لئے تمام تر ٹینشن سے دور ہو کر اس حسین ماحول میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے خوبصورت پارکوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔ لوگ گھروں سے چادریں، چٹائیاں اور کھانے پینے کا سامان لے کر آتے ہیں اور سارا دن خوب انجوائے کرتے ہیں۔ درختوں کی گھنی چھاﺅں میں بے سدھ پڑے ہوئے مرد و زن دنیا و مافیا سے آزاد ہو کر انجوائے کررہے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کو غور سے نہیں دیکھتا۔ ماسوائے ہمارے دیسی نوجوانوں کے۔
وہ بھی کن آنکھیوں سے قدرت کا حسین نظارہ کررہے ہوتے ہیں، گھورنا منع ہے بلکہ جرم ہے۔ ہر شخص اپنے حال میں مگن نظر آتا ہے۔ دوپہر کو فیملیز باربی کیو کرتی ہیں جس کی خوشبو چہار سو پھیل جاتی ہے اور منہ میں پانی بھر آتا ہے اگر نہ بھی ہو تو کھانا کھانے کو جی کرتا ہے غرض یہ کہ ہر طرف حسن و جمال اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ روئے زمین پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ کچھ منچلے میوزک پہ لہرا رہے ہوتے ہیں، بچے کھیلوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔
سارا دن ہیپی کینیڈا ڈے کے جملوں کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔ ہر شخص ایک دوسرے کو مبارکباد دیتا نظر آتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے عید کا سماں ہے۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں رقصاں نظر آتی ہیں۔ سہ پہر میں کھیلوں کے مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں۔ کینیڈا میں باسکٹ بال، ہاکی، کشتی رانی اور بیس بال معروف کھیل ہیں۔ جن کو دیکھنے کے لئے ٹکٹس بہت پہلے فروخت ہو چکی ہوتی ہیں۔ ان کھیلوں کو دیکھنے کے لئے شائقین میلوں پیدل چل کر اسٹیڈیم پہنچتے ہیں جو کہ اپنی اپنی فیورٹ ٹیموں کی کٹ کی مناسبت سے لباس پہنتے ہیں۔ زیادہ تعداد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ ٹیلی ویژن یہ مقابلے براہ راست نشر کرتےہیں۔ کینیڈا ڈے پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر یوم آزادی کی مناسبت سے ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ جن سے آنے والی ہارن کی آوازیں ان کے جوش و خروش کا اظہار کررہی ہوتی ہیں۔ لیکن بعض لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے۔
رات کو ڈاﺅن ٹاﺅن ٹورنٹو سمیت ہر شہر کے سٹی ہال کے باہر آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ آتش بازی دیکھنے کے لئے نہ صرف مقامی سیاح بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں بلکہ غیر ملکی سیاحوں کی کثیر تعداد بھی انجوائے کرتی ہے۔ ہر شخص ان خوبصورت لمحات کو اپنے موبائل فون میں محفوظ کررہا ہوتا ہے۔ جونہی فائر ورک عروج پر پہنچتا ہے تالیوں اور نعروں کی گونج سے زمین و آسمان ایک ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص خوش اور ٹینشن فری نظر آتا ہے جشن آزادی کی تقریبات کا یہ آخری ایونٹ اپنے ساتھ کئی حسین یادیں کے رفتہ رفتہ رخضت ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے اس سال کرونا وائرس کی وجہ سے تمام سرکاری تقریبات محدود پیمانے پر سادگی سے منعقد کی گئیں کیوں کہ اجتماعی تقریبات پر پابندی تھی لیکن پھر بھی لوگ گھروں سے نکلے مگر ڈرتے ڈرتے کیوں کہ ایسے موقعوں پر ایس او پیز پر عمل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
ٹورنٹو اور اس کے گرد و نواح میں بیچز اور پارکوں میں لوگوں کو بڑی تعداد میں انجوائے کرتے دیکھا گیا۔ لیکن ہائی ویز اور شہروں میں ٹریفک معمول سے کم تھی۔ لوگوں نے بیک یارڈز میں محدود پیمانے پر باربی کیو سے انجوائے کیا۔ میرا گمان ہے کہ کینیڈا کی 153 سالہ تاریخ میں اتنا پھیکا یوم آزادی شاید نہ منایا گیا ہو۔ بہرحال تمام کینیڈینز کو اس امید کے ساتھ کہ اگلے سال ہم یوم آزادی بھرپور طریقے سے منائیں گے بہت بہت مبارک۔
Long Live Canada

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں