بال جسٹس فائز عیسیٰ کے کورٹ میں 153

گندا ہے پر دھندا ہے یہ

پاکستان کے سیاسی بازی گر کس قدر کرپٹ اور منافق ہیں اس بات کا اندازہ گزشتہ چند سالوں میں سامنے آنے والے واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔ حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے عوام نے ہمیشہ پارٹیوں کے مفادات کا خیال رکھا اور خود اپنی بَلی چڑھواتے رہے۔ اس بار بھی یہی ہونے جارہا ہے، ہمارے ملک کا کرپٹ سسٹم جس میں فوجی جنرل، ججز، بیوروکریٹ، سیاستدان اور میڈیا کے نمائندے شامل ہیں، مل کر اس گندے کھیل کا کھل کر حصہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی ڈر۔ وہ جانتے ہیں کہ عوام پاکستانی سوچ رکھنے کے بجائے پارٹی کے مفادات کے لئے کام کریں گے اور یہی کچھ رہا ہے جس طرح پاکستان تحریک انصاف پر فوجی تنصیبات پر حملہ کا بہانہ بنا کر کریک ڈاﺅن کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے، انداز سے پولیس نے خواتین اور نوجوانوں پر بری طرح تشدد کیا تو وہ مناظر مقبوضہ کشمیر کا نقشہ کھینچتے نظر آئے، کہیں یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ ہماری پولیس اور ہماری فوج ہے بلکہ نفرتوں کو عروج پر پہنچا دیا گیا اور ظلم کی انتہا کردی گئی۔ قطعہ نظر اس بات کہ عمران خان نے کیا کیا اور اپنی حکومت میں کیا کہا، ان معاملات کو بہانہ بنا کر یوں پاکستانی عوام خصوصاً تحریک انصاف نے سپورٹرز کے نشانہ بنانا یقیناً ظلم ہے اور میڈیا مجرمانہ خاموشی کا مرتکب ہوا ہے۔
کاش کہ عوام خود کو پیپلزپارٹی اور مسلم، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم یا تحریک انصاف کے دائرے میں رہ کر سوچنے کے بجائے یہ سوچتی کہ پاکستان کے لئے کیا بہتر ہے اور عوام کو آزادی کیسے ملے گی۔ انہوں نے الگ الگ سوچ کے ساتھ خود کو تقسیم کرکے دوبارہ ان طاقتوں کے آگے ڈال دیا جو پاکستان کو آج تک کھوکھلا کرتی آئی ہیں اور آئندہ آنے والے دنوں میں عوام کی مکمل کمر توڑ کر پاکستان کو مزید حصوں بخروں میں تقسیم کرنے کے لئے پوری طرح چاق و چوبند ہیں۔ یوں باہمی اختلافات اور جھگڑوں سے فائدہ اٹھا کر بیرونی طاقتیں بھی اپنا فائنل راﺅنڈ کھیل رہی ہیں اور اپنا افغانستان میں ہونے والا نقصان پورا کررہی ہیں۔
لگتا یہی ہے کہ اب پاکستان میں بچا کچھ نہیں ہے، نہ ہم ایٹمی ملک کا اسٹیٹس برقرار رکھ سکے اور نہ ہی ہم اپنی خارجہ پالیسی کو نیوٹرل کرسکے کہ چائنا، روس اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ ہمارے نقصانات منصفانہ ہوں اور ہم صرف اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کر سکیں۔ ہم ایک بار پھر غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے جارہے ہیں، ہماری آئندہ نسلیں اب اس پاکستان سے مایوس دکھائی دیتی ہیں اور پاکستان میں رہنے والے ہر نوجوان پاکستان سے نکلنے کے راستے تلاش کررہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں