Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 82

گورکھ دھندہ

اس وقت ہمارے ملک کے حالات ایک عجیب سی صورت حال کا شکار ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے آنکھ مچولی ہو رہی ہے، ایک عجیب سا گورکھ دھندہ ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔ ملک کو چلانے والے ملک کی حفاظت کرنے والے، امن قائم کرنے والے فلاحی ادارے معیشت کو آگے بڑھانے والے اور عدلیہ یوں معلوم ہوتا ہے سب ایک دوسرے کے خلاف چل رہے ہیں اور سب ایک دوسرے کو بلیک میل کررہے ہیں اور سب نے ایک دوسرے سے تعاون نا کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے اور یہ تمام صورت حال موجودہ حکومت آنے سے پہلے عوام نے کبھی بھی محسوس نہیں کی تھی آج کی عدالتیں جس طرح عجیب و غریب فیصلے دے رہی ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے گزشتہ 50 سال سے عدالتوں کا یہی کردار رہا ہے لیکن اداروں کی کرپشن، منگائی، گری ہوئی معیشت بدعنوانیاں یہ سب آج جس شدت سے محسوس ہو رہی ہیں پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئیں، پچھلی حکومتوں نے ایک ایسا نظام قائم کردیا تھا جس میں نچلی سطح سے لے کر حکومت کے ایوانوں تک اپنے اپنے وسائل کے مطابق ہر شخص کرپشن میں ملوث تھا جس کا اثر غریب ایماندار مزدور پیشہ اور معمولی تاجروں پر بہت حد تک پڑ رہا تھا اور اس کے بدترین نتائج آنا شروع ہو گئے تھے اس ہی موقع پر عمران خان نے اپنی الیکشن مہم کے دوران لوگوں کو آگاہی دی کہ قوم اور ملک کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ملک دشمن عناصر اور لوٹنے والوں کی نشاندہی کی کچھ ایسے ثبوت پیش کئے کہ قوم اچانک سوتے سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور آنکھیں کھولے اب ہر چھوٹی سی چھوٹی بات کو محسوس کیا جارہا ہے۔
بے شمار انکشافات بھی ہوئے لیکن عمران خان نے جو کچھ بھی کرپشن کے بارے میں کہا جو کچھ سابقہ حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ کا ذکر کیا اور یہ عزم بھی کیا کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت آگئی تو سب کا احتساب ہو گا۔ لوٹا ہوا مال واپس لایا جائے گا۔ تمام کرپٹ لوگوں کو سزا ہو گی۔ معیشت کو مضبوط کیا جائے گا۔ مہنگائی کا خاتمہ اور کرپشن کو مٹا دیا جائے گا یہ تمام ادارے تمام عزم نیک نیتی کی بنیاد پر تھے لیکن یہ اس وقت تھے جب وہ حکومت میں آنے کی جدوجہد کررہے تھے بہت سی اندرونی باتوں اور مسائل سے بے خبر تھے اور ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب وہ اقتدار میں آئے کچھ ایسی باتوں اور پابندیوں کا علم ہوا جو پردے کے پیچھے تھیں۔ اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ عامر لیاقت، شاہد مسعود، فاروق ستار اور فیصل رضا عابدی جب تک اندرونی حقائق سے لاعلم تھے بہت چیخ و پکار کررہے تھے ان کو باری باری رینجرز نے بند کرکے نا جانے کیا دکھایا کہ اس کا خوف ابھی تک ان کے ذہنوں میں ہے ان کو کچھ ایسے حقائق سے آگاہی ہوئی جس سے وہ پہلے لاعلم تھے اسی طرح عمران خان جب تک اقتدار میں نہیں تھے لاعلم تھے جب وہ مسند وزارت پر براجمان ہوئے تو ان کو بند کمرے میں وہ کچھ سبق دیا گیا کہ وہ بھی مجبور نظر آنے لگے۔ نا جانے کیا حقائق یا کیا خوفناک تصویر دکھائی جاتی ہے کہ کرسی صدارت یا وزارت پر بیٹھ کر بھی انسان اختیارات سے محروم ہوتا ہے کہ اور یہ سب کچھ نواز شریف کے کرسی سے اترتے ہی ہوا ہے۔ عمران خان بہت پرجوش تھے، نواز شریف کو ہٹانے میں فوج کہہ لیں یا کوئی بھی قوت، عمران خان کی مدد کی تھی اور اسی بناءپر عمران خان بہت پر جوش تھے لیکن کرسی پر بیٹھتے ہی وہ جوش و خروش وہ وعدے سب ختم ہو گئے اب وہ صرف وہ کہتے ہیں جو کہلوایا جاتا ہے۔ وہ کسی حد تک مایوسی اور مجبور نظر آرہے ہیں۔ آخر حکومت اداروں سے ہٹ کر ایسے کیا حقائق ہیں جن کو جان کر ہر شخص دم بخود ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اختیارات استعمال کرنے میں مجبور ہو جاتا ہے۔ عام طور پر یہ خیال جڑ پکڑ چکا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے پیچھے فوج ہے اور تمام ملکی معاملات میں فوج کا پورا عمل دخل ہے۔ دوسرے لفظوں میں پی ٹی آئی کی حکومت کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہی ہے لیکن موجودہ صورت حال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ملک میں نا پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور نا فوج کی بلکہ کوئی تیسری بڑی قوت ہے جو ملک میں ایک عجیب سے کھیل میں مصروف ہے۔ فوج کے سربراہ کو کبھی سعودی عرب طلب کر لیا جاتا ہے تو کبھی امریکہ، کبھی ایران کی طرف رخ ہوتا ہے تو کبھی ترکی کی جانب اندر ہی اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے، کیا گورکھ دھند ہے، کوئی نہیں جانتا، کوئی تیسری بڑی طاقت ملک کے اندرونی معاملات پر پوری طرح چھائی ہوئی ہے جس کے بارے میں ساری زبانیں بند ہیں اور اس کے اشارے میں تمام عجیب و غریب معاملات ہو رہے ہیں ان معاملات کے بارے میں یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کوئی بھی عمل سنجیدگی سے ہو رہا ہے، ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں کہ عدلیہ کا کردار مشکوک۔ فوج کا کردار مشکوک، عمران خان کا کردار مشکوک، حکومت کا کردار مشکوک اور تمام سیاسی لیڈران کا کردار مشکوک، ایک منظم سازش کے تحت عوام کو ان تمام اداروں سیاسی لیڈروں، حکومت وغیرہ سے بد دل کیا جارہا ہے۔ اب یہ تیسری طاقت ان سب سے ہٹ کر پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے یہی گورکھ دھندہ ہے۔
آخر وہ کون سی طاقت ہے جو موجودہ نظام کو تمام اداروں کے تنظیمی ڈھانچے کو زمین بوس کرکے کوئی نیا نظام لانا چاہ رہی ہے ان تمام وجوہات کی بناءپر ہمارا ملک اس وقت بین الاقوامی خبروں کی زد میں ہے۔ دنیا میں بے شمار ممالک ہیں لیکن بین الاقوامی خبروں کی زد میں صرف چند ہی ممالک رہے ہیں اور یہ وہ ممالک ہیں جن سے بالواسطہ یا بلاواسطہ روس اور امریکہ کے مفاد وابستہ ہیں۔ان میں عرب ممالک، پاکستان، انڈیا اور ایشیا کے چند اور مالک ہیں باقی اکثریت چین کی بانسری بجا رہی ہے اور یہ اکثریت والے ممالک بڑے منظم طریقے سے چل رہے ہیں۔ انتظامی ڈھانچہ بھی اور معیشت بھی مضبوط، عدلیہ کا کردار بھی قابل اعتراض نہیں ہے اور عوام بھی سکون کی زندگی گزار رہے ہیں اس کی وجہ ان ممالک کی ایمان دارانہ لیڈرشپ ہے جس نے اپنے اکاﺅنٹ بھرنے کے لئے ملک کے نام پر کبھی قرضہ نہیں لیا۔ عوام نے غربت میں زندگی گزاری لیکن آنے والی نسلوں کو بہت کچھ دے گئے۔ ہماری موجودہ حکومت کا سب سے اہم کام کرپشن کا خاتمہ، سابقہ بدعنوان حکمرانوں کا احتساب ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ان پر مقدمے اور سزائیں لیکن ان معاملات میں پی ٹی آئی کی حکومت فیل ہو چکی ہے اور اس کی وجہ وہی کوئی گمنام طاقت ہے اور اس طاقت نے پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد کئی مقاصد حاصل کئے۔ آئندہ کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سب سے پہلے عوام کو تمام سابقہ حکمرنوں سے بددل کیا۔ صرف ان سابقہ لیڈروں کو دھماکنے اور بلیک میل کرنے کے لئے عوام کے سامنے ان کو ملزم ٹھہرایا،گرفتار کروایا اور پھر بری بھی کروا دیا۔ دوسرا مقصد یہ ہوا کہ موجودہ حکومت کا اعتماد عوام سے کمزور کروادیا۔ ورنہ کی بات ہے کہ پوری قوم کو ببانگ دہل یہ بتایا گیا کہ سابقہ حکمرانوں نے کس طرح کرپشن کی بیرونی قرضے بندر بانٹ کے لئے حاصل کئے عوام کا پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے، جائیدادیں بنوائیں تمام ثبوت ہونے کے باوجود آج تک نواز شریف یا زرداری پر ان تمام معاملات پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ان پر انتہائی کمزور مقدمات بنائے گئے اور پھر آزاد کردیا۔
پوری مسلم لیگ ن کی قیادت ان کے وزراءاور اہم افراد بشمول شہباز شریف سب پر الزام لگا کر یہ لوگ کرپشن میں ملوث ہیں لیکن نا تو کسی سے کوئی پیسہ وصول ہوا اور نا ہی سزا ہوئی۔ ان پر الزامات تھے کہ انہوں نے بدعنوانیوں سے پیسہ بنایا، منی لانڈرنگ کی، باہر جائیدادیں بنوائیں، تمام الزامات تمام ثبوت سے عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے، نواز شریف گرفتار ہو جاتے ہیں، آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کرپشن، منی لانڈرنگ، جائیدادیں بنانے، بین الاقوامی قرضوں میں خردبرد کسی بھی چیز پر مقدمہ قائم نہیں ہوا بلکہ ایک کمزور سا مقدمہ بنایا گیا ہے جس میں سزا بھی نہیں ہو سکتی۔ یہی سب کچھ شہباز شریف، رانا ثناءاللہ، حنیف عباسی اور دوسرے تمام لوگوں کے ساتھ ہوا، بدنام بہت ہوئے لیکن مقدمہ قائم کرنے کی کسی میں ہمت نہیں ہے، نا حکومت، نا فوج اور نا عدلیہ تو پھر ڈر کس کا ہے؟ یعنی وہی کوئی گمنام چھپی ہوئی تیسری طاقت، ادھر ہماری بے وقوف عوام مسلسل تالیاں بجا رہی ہے، نواز شریف، زرداری، شہباز شریف اور تمام چوروں کی گرفتاری پر سب خوش ہیں ان سب کے جرائم کی فہرست تو عوام کے پاس ہے لیکن کسی مقدمے میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ نواز شریف، زرداری کو جیل جانے سے ہمدردیاں مل گئیں اور موجودہ حکومت پر انتقام کا الزام بھی لگ گیا تھ پھر آخری بات یہی ہے کہ چوروں سے بھرے ہوئے ملک میں عدلیہ، حکومت فوج عوام سب شامل ہیں یا پھر کوئی تیسری طاقت ہے جس کے اشارے پر سب ناچ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں