اقبال لطیف کا تجزیہ 93

ہماری باتیں، اُن کا عمل

دنیا ایک بار پھر ایک دنیاوی لحاظ سے دنیا کی ترقی یافتہ قوم جو اپنی عملی اور علمی حیثیت سے اول درجہ پر مقیم ہے۔ جدید ترین تعلیم، ایجادات، نت نئی اختراع اور سب سے بڑھ کر ایک متحدہ قوم کی سوچ رکھتی ہے اس نے ساری دنیا کو دکھا دیا کہ کس طرح وہ مقضوب قوم جسے اس کے وطن سے نکالنے سے قبل جرمن ہٹلر نے ان کے مخصوص کردار اور سوچ کے باعث ان کا قلع قمع کرنے کا ارادہ کر لیا تھا اور کہا تھا کہ دنیا میں اگر ایک بھی یہودی باقی ہے تو دنیا میں امن نہیں ہوسکتا اس کے بعد یہ قوم پوری دنیا میں پھیل گئی اور اس نے اپنی عیاریوں اور چال بازیوں کو ہٹلر کے تطہیر کے عمل کو اپنے اوپر مظالم کے پردے میں چھپا لیا اور ساری دنیا میں پروپیگنڈا کرکے خود کو مظلوم ثابت کرنا شروع کردیا اور پھر اس کے ساتھ اس نے جدید علم، سائنس اور ایجادات کے حصول کے لئے خود کو وقف کر دیا نہ صرف یہ کہ اس نے دنیا کی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے اپنے عیار حربوں کو استعمال کیا جس میں سب سے اول تیل، قیمتی دھاتوں تجارت اور میڈیا پر تسلط جمایا اس طرح انہوں نے دنیا میں اپنے اقتدار کے ذریعہ حکومتوں پر بالادستی قائم کی اور سیاست میں داخل ہو کر اپنے حق میں من مانے فیصلے کروائے انہوں نے ساری دنیا میں ہٹلر کے مظالم کو ہزاروں گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور امریکہ اور یورپ کی ریاستوں میں اثر و رسوخ حاصل کرکے ”ہولی کاسٹ“ پر شک ظاہر کرنے والوں کو مجرم قرار دلوایا یہ وہی ریاستیں تھیں ہٹلر نے جن کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور ہٹلر سے روس پر حملہ کرنے کی ”حماقت“ سرزد نہ ہوتی تو آج پورا یورپ جرمنوں کے زیر تسلط ہوتا مگر امریکہ اور اتحادی فوجوں کے گٹھ جوڑ کے باوجود اکیلا جرمنی ان کی ناک میں نکیل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ جب کہ یہودی قوم جو ایک صدی قبل خود کو اللہ کی محبوب ترین قوم تصور کرتے تھے اور خود کو تمام اقوام سے بالا و برتر سمجھتے تھے دوسری طرف ان کا سارا زور اپنے مذہبی عقائد پر تھا اور ساری دنیا کے مذہب کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ مزاجاً یہ اس قدر خود پسند لوگ تھے کہ جس ملک میں بھی رہتے جنہوں نے انہیں پناہ دی تھی وہاں کے باشندوں کو جاہل اور کافر قرار دیتے (یہ وہ عمل ہے کہ آج مسلمان اپنے فرقے کے علاوہ سب کو کافر اور گردن زدنی قرار دیتے ہیں) یہودیوں کے اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا ہے بعض ممالک سے انہیں بے دخل کردیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ یہ واحد قوم ہے جو اپنے رویہ اور مزاج کی بدولت کسی بھی قوم کو قابل قبول نہیں ہے اس سے تقریباً 256 سال قبل خود یہودی بھی انہی ذلیل ذہنیت کے باعث دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے ان میں ایک دین دار اور دوسرا دنیادار بن گیا مگر دیگر مذاہب کے بارے میں دونوں کا رویہ ایک ہی تھا یعنی وہ سب کافر ہیں اس تقسیم کے بعد دنیا دار یہودیوں نے امریکہ کا رخ کیا اور دیگر اقوام کے ساتھ مل کر جدید علوم کے حصول، تجارت کی تکنیک اور جدید ایجادات سے فوائد حاصل کرتے ہوئے اور خود بھی ان کو سر انجام دیتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے جب کہ بنیاد پرست اور کٹر مذہبی یہودیوں نے یورپ میں ہی رہنے کو ترجیح دی جہاں ان کا رویہ تند و تلخ مذہبی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپین اقوام ان ارتھوڈکس یہودیوں سے اس قدر عاجز تھیں کہ جب ہٹلر نے ان کا قلع قمع کیا جسے یہ ہولی کاسٹ کہتے ہیں تو تمام یورپی اقوام خاموش رہیں کہ چلو اچھا ہے اپنے انجام کو پہنچے اس طرح ارتھوڈکس یہودی قتل ہوتے رہے جس کا سلسلہ نسل در نسل جاری رہا دوسری طرف دنیادار یہودی ترقی پر ترقی کرتے رہے انہوں نے سائنس ٹیکنالوجی فنون لطیفہ آرٹ، تحقیق اور دیگر شعبوں میں ازحد ترقی کی اور دنیا میں عروج حاصل کیا۔
یہ دنیا دار یہودی ہی تھے جنہں نے پہلی مرتبہ اپنی قوم کے لئے آواز اٹھائی وہ چنکہ امریکہ کی معیشت پر قابض تھے جو ایک مہذب معاشرہ تھا اس لئے اسرائیل اور بنی اسرائیل کے لئے متعدد ایسے منصوبے شروع کئے گئے جو ان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے تھے اور اب ان کا اگلا قدم بقول ان کے اس سرزمین کے لئے تھا جس کا وعدہ خدا نے ان سے کیا تھا یعنی اسرائیل۔ ادھر ہٹلر کے ہاتھوں بچ جانے والے یہودیوں کو بھی اندازہ ہو گیا کہ ان کا غرور انہیں لے ڈوبا ہے لہذا وہ بھی اپنے غرور، حقارت آمیز رویوں، جہالت اور دیگر دل آزار رویوں سے باہر نکلے اب انگریزوں اور سعودی خاندان نے اشتراک کرکے ترکی کی خلافت کے خلاف عرب کی بندر بانٹ کی اور لارنس آف عربیہ سے مل کر اسرائیل کے قیام کو ممکن بنایا جب کہ خطہ عرب کو سعودی قزاقوں شریف مکہ اور یمنیوں سے مل کر اسے سعودی عرب کا نام دیدیا اور عرب میں تقسیم کا عمل جاری کرکے متعدد ریاستیں تشکیل دیدی گئیں تاکہ یہ سب آپس میں دست و گریباں رہیں اور طاغوتی قوتیں ان پر اپنی گرفت مضبوط رکھے اور یہودی اسرائیل میں قوت حاصل کرکے وہاں ساری دنیا کے یہودیوں کی آباد کاری کرسکے اور اس اسرائیل کی باگ ڈور نیویارک سے ”جیوپارک“ اس کی یہودیوں کے اقتدار کے باعث کیا جانے لگا تھا کے ہاتھوں میں ہو۔
آج ساری دنیا کی نظر کرم اسرائیل پر ہے اور وہ اب بقول ان کے اللہ کی رحمت سے اس کے منظور بن گئے ہیں اور ان کی وعدہ کی ہوئی جنت یعنی اسرائیل ان کو مل چکا ہے اب اسی تناظر میں یہودیوں کا سو سالہ قبل کا رویہ مسلمانوں میں سایت کر چکا ہے اور دنیا کے مفکرین اور روشن خیال مسلمان بار بار متنبہہ کررہے ہیں کہ مسلمان اپنی معاشرتی تربیت پر توجہ دیں اور آج مسلمان خود ”ہولی کاسٹ“ کی طرح کی ذلت سے دوچار نہ ہو جس کی ابتداءفلسطینیوں کے قتل عام سے ہو چکی ہے۔
مسلمان اپنی آبادی اور مقام خود دیکھ لیں کہ کیا تاریخ کے اس موڑ پر مسلمانوں کو بھی کوئی فیصلہ کرنا چاہئے کہ ان کا جدید دنیا میں کیا کردار ہو گا یا یونہی ایک ایک کرکے یہود و نصاریٰ کے آگے خوار ہوتے رہیں گے اس وقت اسلامی دنیا کا حال سب کے سامنے ہے یہ ممالک جو اللہ کی ساری نعمتوں سے مالا مال ہے ڈیڑھ ارب سے زائد تعداد میں ہیں مگر یہ 80 لاکھ یہودیوں کے سامنے اس طرح جھکے ہوئے ہیں کہ گویا وہی ان کا محافظ اور رازق ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب ممالک اور دیگر نام نہاد اسلامی یممالک میں سے متعدد اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں اور جنہوں نے نہیں کی اہے وہ بھی درپردہ اس سے ہدایات لے رہے ہیں اور جو ممالک اسرائیل کو تسلیم نہیں کررہے ہیں ان پر یہ دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف کوئی بات نہ کریں آج یہودی لابی پوری طرح مسلم ممالک کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ سعودی عرب اراین کے مقابل ہے، ترکی اور سعودی عرب میں تناﺅ ہے، مصر اور ترکی ایک دوسرے سے منہ پھیرے ہوئے ہیں، سعودی عرب اور قطر کے انے معاملات ہیں جب کہ اسرائیل اور اسی ہی کا طرز کا ملک بھارت ایک دوسرے کے حلیف ہیں مگر بھارت اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم ممالک میں بھارت کا اثر و نفوذ حد سے بڑھ کر ہے اور گزشتہ دنوں بھارتی افواج کا سربراہ کا دورہ بھارت بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھا کہ بھارت کے فوج کے مسلمان فوجیوں کو سعودی عرب کی دفاعی ذمہ داریاں دیدی جائیں مگر شکر ہے اب شاید ان ممالک سے اسرائیل، امریہ کی پالیسی بھانپ لی ہے اور اب یہ مسلم ممالک اپنے اختلاف ختم کرکے قریب آرہے ہیں۔ یمن کی جنگ بندی، سعودی عرب، ایران، کویت، قطر اور سعودی عرب کی حفاظت، ترکی اور سعودی عرب ملاقاتیں اور پاکستانی افواج کے سربراہ اور وزیر اعظم کا دورہ اب امید کی نئی کرنیں دیکھ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں