”ایک ہر دلعزیز ملکہ“ 58

”یوکرین“

عالمی ذریعہ ابلاغ کے مطابق ایک بڑی جنگ کے آثار نظر آرہے ہیں۔ دنیا تیزی سے دو دھڑوں میں تقسیم ہوتی جارہی ہے جب کہ ایک اور سرد جنگ کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ امریکہ اور روس یوکرین کے معاملے کو لے کر تنازعات میں الجھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یوکرین کا مسئلہ گھمبیر ہوتا جارہا ہے۔ یوکرین کی مشرقی سرحدیں روس سے ملتی ہیں۔ اس سرحدی علاقہ میں روسی بولنے والے شہری ہیں جو روس سے الحاق کے حامی نظر آتے ہیں۔ یہ ایک وسیع رقبہ ہے اور ہمیشہ سے پسماندگی کا شکار رہا ہے۔
90 کی دہائی میں سوویت یونین میں انتشار کے بعد پندرہ سے زائد مشرقی یورپی ریاستوں اور وسطی ایشیائی ریاستوں نے سوویت یونین سے الگ ہو کر آزادانہ حیثیت اختیار کی۔ اس وقت سوویت یونین سپر پاور کی حیثیت رکھتا تھا اور جوہری اور جدید جنگی ہتھیاروں کا مرکز تھا مگر اس وقت کی کمیونسٹ پارٹی کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے سپرپاور ہونے کے باوجود معاشی بحرانوں میں گھر گیا۔ رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہونے کے ساتھ معدنیات کے ذخائر رکھتے ہوئے بھی ان پالیسیوں کی زد میں آکر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گیا۔ مبصرین اس انتشار کی ذمہ داری مغربی قوتوں پر بھی عائد کرتے ہیں کہ وہ مستقل سوویت یونین کو کمزور کرنے اور ختم کرنے کی کارروائیوں میں مصروف رہے۔
روس یوکرین کو اپنے علاقہ سے تعبیر کرتا ہے اور اسے واپس اپنے ریاست میں ضم کرنے کا عندیہ دیتا رہا ہے اسے خدشہ ہے کہ اگر یوکرین یورپی یونین یا نیٹو میں شمولیت اختیار کرتا ہے جس کی پیشکش اسے 2010ءمیں بھی کی جا چکی ہے اور موجودہ وقت میں بھی نیٹو یوکرین کی ہر طرح سے مدد پر آمادگی کا اظہار کررہا ہے تو اس صورت میں یہ علاقہ روس میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ روس دراصل کسی بھی صورت ان تمام ممالک کو جو اس سے الگ ہو کر مشرقی یورپ کی ریاستیں ہو گئے نیٹو یا یورپی یونین میں انضمام نہیں چاہتا۔ اسے اندازہ ہے کہ نیٹو جتنا طاقتور ہو گا امریکہ کے لئے اتنا ہی فائدہ مند ہوگا۔ اس وقت اپنی غیر مستحکم معیشت کے باوجود روس امریکہ کے مدمقابل کھڑا ہے۔ پیوٹن کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے روس نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ عالمی سطح پر کافی حد تک مضبوط کیا ہے۔
تازہ اطلاعات تک روسی یوکرین کی ترقی سرحدوں پر 2 آبادیوں کے آزادانہ اختیار کو تسلیم کرچکا ہے اور چھوٹی سرحدی جھڑپیں یوکرین پر عمل میں آئی ہیں۔ امریکہ اور عالمی طور پر اسے حملہ ہی تصور کیا جارہا ہے، گو کہ سلامتی کونسل میں روسی نمائندے نے یہ سوال اٹھایا کہ جب اقوام متحدہ ہی اسے ابھی تک حملہ قرار نہیں دیا تو یہ حملہ کیسے ہو گیا؟ فوجوں کو اپنی سرحدوں کے اندر مختلف جگہوں پر متعین کرنا بھی حکومتوں اور رہائیشیوں کا حق بنتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک روسی افواج کے صحیح ہونے پر روسی وزیر خارجہ سے اپنی ملاقات احتجاجاً ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر جوبائیڈن واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں اگر روس نے حملہ کیا تو امریکہ بھرپور طریقے سے جواب دے گا۔ فی الوقت ان جھڑپوں کو حملہ سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ اور یورپ نے روس پر سخت پابندیوں کا اطلاق کیا۔ روسی تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے اور فی الوقت یورپ کی ضروریات کا ساٹھ فیصد فراہم کرتا ہے۔ روس عالمی طور پر تیل برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور گیس بنانے کی انتہائی صلاحیت رکھتا ہے۔ جرمنی نے زیر آب گیس لائن کو بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا نے بھی سخت معاشی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جب کہ روس کو امید تھی کہ یورپ خاص کر جرمنی اور فرانس امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے۔
پیوٹن ایک زیرک سیاستدان کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ امریکہ اور روس کے تعلقات 1948 میں استوار ہوئے مگر ایسا کم ہی ہوا کہ ان تعلقات میں خوشگواری کے پہلو دیکھنے میں آئے ہوں۔ پچھلے امریکی صدارتی انتخابات میں بھی روس کی دخل اندازی کی بازگشت سننے میں آتی رہی۔ امریکہ داخلی طور پر اس وقت معاشی اور انتظامی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ صدر بائیڈن اپنی مقبولیت میں کمی کا سامنا کررہے ہیں۔ خاص کر افغانستان سے امریکی انخلاءکے بعد موجودہ امریکی حکومت کو کئی زاویوں سے مشکلات اور سوالات کا سامنا ہے۔ امریکہ اور چین کے تعلقات بھی اس وقت بہتری زمرے میں نہیں آتے، ایسے وقت میں روس کا یوکرین کے مسئلہ کو اٹھا لینا غمازی کررہا ہے کہ روس اس وقت اپنی برتری عالمی طور پر ثابت کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ شام میں روس امریکہ سے تقریباً مڈبھیڑ کر چکا ہے۔ روس اس وقت چین کے ساتھ نئے معاہدے کررہا ہے۔ عالمی طور پر معیشت ویسے ہی دگرگوں ہے اگر ان پابندیوں کے عوض روس نے تیل کی ترسیل روک دی تو معاشی دنیا ایک بحران میں مبتلا ہو جائے گی۔ لندن سے خبریں ہیں کہ تیل فی بیرل 100 ڈالر تک جا سکتا ہے یا اس سے بھی اوپر اگر ایسا ہوا تو توانائی کی دنیا میں ایک بھونچال کی کیفیت ہو سکتی ہے اور نہ صرف یورپ بلکہ امریکہ کے لئے بھی فیڈرل ریزورز کو سنبھالتے ہوئے قیمتوں میں توازن کرنا مشکل ہوگا۔ امریکی کانگریس میں ان امکانات کی بازگشت سنائی دی جانے لگی ہے۔ بعض مبصر اس خدشہ کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ اگر روس کی طرف سے سائبر وار خارج از امکان نہیں اگر ایسا ہوا تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔
ان پابندیوں کے جواب میں پیوٹن کی تقریر نے عالمی طور پر ہچل مچائی ہے۔ امریکہ بضد ہے کہ روس جنگ کے لئے تیار ہے اور یہ چھوٹی جھڑپیں دراصل بڑی جنگ کی پیش قدمی ہے۔ اس وقت دنیا کی صورت بڑی طاقتور کے برسر پیکار ہونے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پیوٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ یوکرین کو مسئلہ بنا کر روس کو جنگ میں ملوث کرنا چاہتا ہے اور اپنے داخلی بحرانوں سے امریکی عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے یوکرین کی طرف مصروف ہونے کا بہانہ کررہے ہیں۔
درپردہ سفارتی سرگرمیاں اور روابط کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کو ماسکو کی طرف سے یوکرین کی صورت حال معمول پر لانے کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور ان پر کام شروع ہو چکا ہے۔ عالمی ماحول تذبذب کا شکار ہے کہ ان تمام کا حل کس صورت میں نکل کر سامنے آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں