رضیہ فصیح احمد 31

یہ آواز کہاں سے آئی ٭….تحریر: رضیہ فصیح احمد

مدت ہوئی نانی کا انتقال ہو چکا ہے۔ اب جب بھی ان کی بات کرتی ہوں میں انہیں ایرانی نانی کہتی ہوں۔
نانی کو مجھ سے بڑی شکائت تھی۔ یہ لڑکی کبھی جو میرے پاس بیٹھ جائے۔ آئی ایک مکھی مار سلام کیا اور یہ جا وہ جا۔ وہ پنکھے سے مکھیاں ہلاتے یا غصے میں پنکھے کی ڈنڈی سے انہیں مارتے ہوئے کہتیں۔
میں سنی ان سنی کر جاتی۔ اب ان بڑی بی سے کیا بات کروں۔
ایک دن رشتے کی ایک خالہ نے بتایا، یہ تمہاری سوتیلی نانی ہیں۔
سوتیلی نانی کیسی ہوتی ہیں؟ میں نے پوچھا۔
یہ تمہاری اماں کی سگی ماں نہیں ہیں۔ تمہاری اماں کی ماں کے انتقال کے بعد نانا نے ان سے شادی کی تھی۔ ان کی اپنی ماں سنا ہے ایرانی تھیں اور فارسی بولتی تھیں۔ یہ نانی بھی بچپن میں فارسی بولتی تھیں۔ انہوں نے نانا کے سارے بچوں کو بڑے پیار سے پالا، اور بڑے بیٹے حامد سے تو بہت ہی محبت کرتی ہیں کیونکہ وہ بچپن سے ان کے ساتھ ہے اور ان کی طرح سرخ و سفید ہے اور ایرانی ہی لگتا ہے۔
ہاں واقعی وہ خود بھی تو ایرانی لگتی ہیں۔ سرخی مائل سفید گال۔۔۔ سفید بھک بال۔
ارے بال تو کالی بڑھیوں کے بھی سفید ہو جاتے ہیں۔ خالہ نے کہا۔
مگر ان ایرانی نانی کے چہرے پر بہت کھلتے ہیں۔
اچھا اب تو انہیں ایرانی نانی کہنے لگی۔
اور کیا۔ اب میں ان سے کہوں گی، مجھے فارسی سکھائیں اور مجھ سے فارسی میں بات چیت کیا کریں۔ تھوڑی بہت تو میں پڑھ بھی لیتی ہوں اور لکھ بھی لیتی ہوں۔
کہتی ہیں سب بھول بھال گئی۔
یہ کیا بات ہوئی۔ جب جانتی تھیں تو بھول کیسے سکتی ہیں۔
تم پوچھ کے دیکھ لینا۔
مجھ سے صبر نہیں ہوا۔ اسی دن پہنچی اور سلام کے بعد لگی میٹھی میٹھی باتیں کرنے۔ یہ کیا آپ کلھیاں سی رہی ہیں، بازار میں ایک سے ایک اچھی ملتی ہیں آج کل، میں لادوں گی۔
ارے رہنے دے، مجھے اپنی سی ہوئی اچھی لگے ہیں۔
ویسے تو خیر آپ کو ضرورت بھی نہیں۔ میں کہتے کہتے رک گئی۔ مجھے تو ان سے کچھ اور باتیں کرنی تھیں۔
اچھا یہ بتائیے نانی، آپ کی شادی ہمارے نانا سے کیسے ہوئی؟
نانی موڈ میں آگئیں۔ ارے، ہمارے زمانے میں نائنیں گھر گھر جا کر لڑکیاں دیکھیں تھیں اور لڑکے والیوں کو بتائیں تھیں فلاں گھر میں تمہارے بیٹے کے لائق اچھی لڑکی ہے۔
لڑکے کے گھر سے کوئی کسی بہانے سے آن کر لڑکی دیکھ گئی تو دیکھ گئی نہیں تو نائن کی بات پر اعتبار کرکے بات ڈال دی۔
سچ! نانی اماں، اور لڑکے بیچارے نے کچھ نہ کہا۔
اے، لڑکا بیچارہ کیا کہتا، محلے کی باتیں سب کو پتا ہی ہووے تھیں۔ کون گھرانہ شریف ہے۔ کیسے لوگ ہیں۔ کس گھر میں کتنی لڑکیاں ہیں۔ کیسی ہیں۔ سب باتیں کسی نہ کسی طرح کانوں میں پڑا کریں تھیں۔ آتے جاتے جھلک بھی نظر آجاوے تھی، اور ہم لڑکیاں تو محلے بھر کے لڑکوں کو خوب پہچانیں تھیں۔ خیر میرا تو قصہ ہی دوسرا تھا۔
آپ کا کیا قصہ تھا؟
میرا تو پڑوسن ہونے کے ناتے اپنی سوکن سے دوستانہ تھا۔ گھر میں آنا جانا تھا۔ اس کے شوہر سے نام کا پردہ تھا۔
اس کے شوہر سے یعنی اپنے شوہر سے۔
ارے ہاں۔۔ نہیں تو۔، اس وقت میرے شوہر تھوڑی تھے۔
جب میری سہیلی بے چاری کا حامد کی پیدائش میں انتقال ہو گیا تو مجھے بے حد رنج ہوا میں پھر بھی ان کے گھر جاﺅں تھی۔ تب سے ہی تمہارا ماموں حامد مجھے اپنا بچہ لگے تھا۔ مجھے کبھی بھی اپنے بچوں میں اور اس میں فرق نہیں لگا۔
اور آپ نے ہمارے نانا سے شادی کرلی۔
لو اور سون۔ میں نے شادی کر لی۔ یہ تمہارا زمانہ نہیں تھا۔ تمہارے نانا کی امی نے ہزار خوشامدیں کیں تب میرے باپ راضی ہوئے۔
اور آپ؟
پھر وہی بات۔ میرا کیا ذکر ہے۔۔ وہ تھوڑا سا مسکرائیں۔ بھئی تمہارے نانا بھلے آدمی تھے۔ وہ مجھے پسند کریں تھے۔ میں بھی انہیں ناپسند نہیں کروں تھی، مگر خدانخواستہ کوئی آنکھ مٹکا نہیں تھا۔
وہ کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا۔
چل جانے دے۔ جیسے تجھے پتہ نہیں۔ آج کل آنکھ مٹکا ہی تو ہووے ہے شادی سے پہلے۔
اچھا، یہ بتائیے۔ آپ ہمارے نانا سے فارسی میں بات کرتی تھیں۔
نہیں تو۔
میں نے سنا ہے آپ کو فارسی آتی ہے، تو آپ ان سے فارسی میں بات کرتی ہوں گی۔
ارے تو بھی کن زمانوں کی بات کرے ہے۔ کبھی اپنی اماں سے فارسی بولی ہوگی۔ یا کبھی حامد سے پیار میں کچھ کہا ہو گا۔ اماں مر گئیں پھر کہاں کی فارسی ساری عمر یہی تمہاری بھونڈی زبان بولتے گزر گئی۔
یہ تو نہ کہیے نانی ہماری زبان بھی بہت میٹھی ہے۔
ارے مذاق کروں ہوں۔ مگر سچی بات ہے کہ فارسی جیسی میٹھی زبان سے اس کا کیا مقابلہ!
تو پھر مجھے بھی سکھا دیں نا۔
کچھ یاد واد نہیں۔ تو نے دیکھا نہیں چھوٹے بچے جو یہاں سے اچھی خاصی اردو بولتے گئے تھے امریکہ جا کر سب بھول بھال گئے۔ نہ گھر والے بولیں نہ وہ خود۔
ایک بات بتاﺅں نانی اماں۔ میرا جی چاہتا ہے میں آپ کو ایرانی نانی کہوں۔
جو جی چاہے کہہ۔ تیرے کہنے سے میں کچھ نہیں ہو جاﺅں گی۔
آپ نے ہمارے حامد ماموں کو بالکل اپنے بچوں کی طرح پالا؟
بلکہ ان سے بڑھ کے۔ شروع سے ہی مجھے بہت اچھا لگا۔ میری سہیلی کا بیٹا تھا پھر میرا بیٹا بن گیا۔ یہ داﺅد تو کئی سال بعد پیدا ہوا اور حسینہ تو اس کے بھی کئی سال بعد۔
بڑی بات ہے۔ میں نے کہا۔
ایک تیرے حامد ماموں کی یہ بات اچھی ہے کہ بچپن سے اب تک کبھی بیمار نہیں پڑا۔ ہمیشہ تندرست اور ہشاش بشاش رہا۔ اس لئے مجھے اور بھی اچھا لگے تھا اور اب بھی لگے ہے۔ خدا اسے نظرِ بد سے بچائے۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کبھی کوئی بیمار ہی نہ ہو؟
چھوٹی موٹی بیماری کو وہ کب خاطر میں لائے تھا۔ نہ ڈاکٹر پاس جائے نہ دوائی کھائے۔
اب حامد ماموں کی عمر کیا ہوگی؟
مجھے کیا پتہ۔ جب میری شادی ہوئی تو ایک سال کا بھی نہیں تھا۔
اور آپ کی شادی کو کتنے سال ہوئے؟
ارے اب کیا مجھے یاد دھرا ہے۔ شادی کے چالس سال تو تیرے نانا ہی سدھار گئے۔ اب تو ہی عمر کا حساب لگا لے۔ خیر سے بیوی بچوں والا ہے۔ میں تو کہتی ہوں مری عمر بھی اسے لگ جائے۔
مگر آپ تو ان کے ساتھ نہیں رہتیں۔ داﺅد ماموں کے ساتھ رہتی ہیں۔
تجھے ان باتوں سے کیا۔۔۔ بیٹا نہیں سمجھے تو کیا مگر اس کی بیوی تو سمجھے ہے کہ میں حامد کی سوتیلی ماں ہوں۔
نانی کچھ تھوڑی بہت تو یاد ہو گی نا اپنی زبان۔
نہ بھئی نہ، کچھ یاد واد نہیں۔ نہ پھر کبھی بولی نہ سنی۔
میں بہت مایوس ہوئی۔۔ میں تو سوچ رہی تھی، روز آپ کے پاس آکر فارسی سیکھوں گی اور بولوں گی بھی۔ مجھے بہت میٹھی زبان لگتی ہے جب کوئی ڈرامہ سنتی ہوں۔ گانے بھی بہت اچھے لگتے ہیں۔
اس میں کیا شک ہے مگر اب تو سب خواب و خیال ہو گیا۔
نا امید ہو کر میں ان سے اجازت لے کر چلی آئی۔ وہ اپنی سلائی میں مشغول ہو گئیں۔ اور میں نے ان کو ایرانی نانی بھی نہیں کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ایک دن نہائت اندوہناک خبر آئی ہمارے حامد ماموں یکایک چل بسے۔ زندگی میں پہلی مرتبہ بیمار ہوئے۔ بیٹا ان کے منع کرنے کے باوجود ضد کرکے کلینک لے گیا۔ وہاں ڈاکٹر نے ان کے لئے کوئی انجکشن تجویز کیا۔ کمپاﺅنڈر انجکشن لگا رہا تھا کہ ان پر اس کا ری ایکشن ہوا۔ دیکھتے دیکھتے ان کا سانس بند ہو گیا اور وہ ڈھیر ہو گئے۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا، خود ان کو بھی نہیں کہ انہوں نے زندگی بھر کوئی انجکشن نہیں لگوایا تھا۔
خاندان میں کہرام مچا۔ سب ہی گئے۔ میں بھی گئی۔ مجھے بتایا گیا کہ نانی اپنے کمرے میں ہیں اور انہوں نے منع کردیا ہے کہ کوئی ان کے کمرے میں نہ آئے۔ میں پھر بھی گئی۔ دروازے سے جھانک کر دیکھا۔ سوچ رہی تھی وہ زار و قطار رو رہی ہوں گی، مگر نہیں وہ تو خاموش بیٹھی تھیں ان کی آنکھ میں آنسو بھی نہیں تھے۔ وہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ رہی تھیں۔ میں نے سوچا آخر کو تو سوتیلا تھا۔ مامتا کی وہ بھڑک تو نہیں تھی جو اصل ماﺅں میں ہوتی ہے۔ اب پڑھ کر کچھ بخشوا رہی ہیں۔ وہ ہمیشہ کی طرح سفید کپڑوں اور سفید بھک بالوں میں فرشتہ سی نظر آرہی تھیں مگر ان کے آدھے بیٹھنے اور لیٹنے کے انداز میں کچھ تھا کہ مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں اندر چلی گئی۔ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا، نہ اس کا اظہار کیا۔
وہ کیا پڑھ رہی ہیں۔ میں نے کان لگا کر سنا وہ فارسی بول رہی تھیں۔
٭جانِ مادر، پسرِ من، وقتے کہ بزرگ شوی مادرِ خودم حتماً فرموش نہ کئی۔ ہمیش بہ من ہم دم باشید۔۔۔ تومن فراموش نہ کنی۔۔۔ ببیں من چہ قدر عشق می کنم۔ فراموش نہ کنی۔۔ فراموش نہ کنی۔۔۔
میں حیرت زدہ تھی وہ تو کہتی تھیں کہ وہ فارسی قطعاً بھول چکی ہیں پھر آج یہ پیاری سی آواز کہاں سے آئی۔
زندگی کے حالات نے ان کی زبان پر جو بند باندھ دیا تھا شائد وہ ٹوٹ کر پیار کے اس غیر شعوری ریلے میں بہہ نکلا تھا۔
اب جب بھی ان کی بات کرتی ہوں میں انہیں ایرانی نانی کہتی ہوں۔
٭ترجمہ: میرا لاڈلا بیٹا، میرا پیارا بیٹا۔ جب تو بڑا ہو جائے تب بھی اپنی ماں کو بھولنا مت۔ تو مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا۔ دیکھ میں تجھے کتنا چاہتی ہو۔ مجھے بھول نہ جانا۔۔۔ مجھے بھول نہ جانا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں