کراچی مقبوضہ۔1 85

یہ ہے ان کی اوقات

میرے محترم عامر آرائیں صاحب نے مجھے ایک نادر تحفہ بھیجا ہے جو آپ کی نذر ہے
”25 جون 1925“ متفرقات: چندہ برائے اہل کلمہ مندرجہ اہلحدیث 991 روپے 5 پیسے مرسلہ منشی رضی الدین صاحب ہیڈ کلرک ریاست ہلکر للعہ 5 پیسے میزان کل 1025 روپیہ 10 آنہ 4 پائی حسب اعلان سابق ایک ہزار کی رقم معرفت حاجی علی خان سوداگر دہلی مکہ معظمہ بھیج دی گئی۔“
ہندوستان سے یہ امداد اس وقت کے فقرے سعودیوں کو بطور امداد بھیجی گئی تھی جو اس وقت حاجیوں کو لوٹتے تھے اور زکوٰة و خیرات پر گزر بسر کرتے تھے اس ہی دور میں ہندوستان کی ریاست حیدرآباد دکن میں سعودی لوگوں کو ورک پرمٹ جاری ہوتے تھے اور وہ حیدرآبادی فوج میں ملازمت کرتے تھے اور ”چاﺅش“ کہلاتے تھے، آج بھی ریاست بھوپال جو کہ ان کو مالی امداد دیتی تھی کی بے حساب جائیداد سعودی عرب میں ہے اور اس کا انتظام نواب پٹودی کی بیٹی اور سیف علی خان کی بہن فرح سنبھالتی ہیں اور وہ وہاں آج بھی سعودیوں کے صاحب توقیر سمجھے جاتے ہیں آج یہ سابق لٹیرے اور دوسروں کی خیرات پر پلنے والے اپنی اوقات بھول گئے۔ مندرجہ بالا رقم سونے کے اس زمانے اور آج کے فرق سے اربوں روپیہ بنتی ہے۔
قانون قدرت اٹل ہے، ہر عروج کو زوال ہے ور اس میں قدرت کا ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ یہ اعمال ہیں جن کا نتیجہ خدا کے طے کئے ہوئے نظام سے انحراف، خود کو ”خدا“ سمجھنا اور انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر اپنی انانیت مسلط کرنا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ فرعون، شداد اور قارون غرق ہوئے۔ تاخت و تاراج ہوئے، ایسے عبرتناک موت سے دوچار ہوئے کہ قیامت تک مثال بن کر رہ گئے مگر افسوس ان سچی آیات سے لوگوں نے عبرت حاصل نہ کی بلکہ خود کو ساری خدائی کا مختار کل تصور کرنے لگے۔ کل تک جو فرعون بے سامان، قارون دوران اور شداد کے ہمسر سمجھتے تھے اب ان کے سامنے عبرت ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے کہ
دیکھ مجھ کو عبرت نگاہ ہوں
مگر اس کے باوجود ان کی تنک مزاجی، فرعونیت اور چنگزیت نہیں جاتی۔ یہ جو خود کو کمی اور نامہ روزگار نہیں سمجھتے ہیں اب ان کا نقارہ بج چکا ہے، کوچ وقت قریب ہے اور بقول نذیر اکبر آبادی
سب راج پڑا رہ جائے گا
اس کی تازہ مثال آج کے فرعون صفت سعودی حکمران ہیں جو خود کو خادمین حرمین شریفین کہتے ہیں مگر یہود اور نصاریٰ کے غلام بنے ہوئے ہیں جن کے متعلق قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ تمہارے ازلی دشمن ہیں یہ تم سے کبھی وفا نہیں کریں گے اور یہ شیطان کے گرگے ہیں مگر سعودی حکمران دولت کے نشے میں چور اور اپنی حکمرانی کو بچانے کے لئے ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور پورے عالم اسلام کو فروخت کرنے کو تیار ہیں مگر قدرت بھی ان کے گھمنڈ کو تورنے اور انہیں نشان عبرت بنانے کے لئے نشانیاں دکھا رہی ہیں کہ اب بھی ہوش میں آ جاﺅ یہ جو قدرت کے عظیم عطیے تیل کی دولت سے مالا مال تھے اور اس دولت کے آگے کسی کو نہیں گردانتے تھے اب ایسی صورت کا سامنا کرنے جارہےہیں جو ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت تقریباً 50 فیصد سے زائد کی ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ حالیہ کورونا وباءکے باعث عالمی معیشت میں آنے والی گراوٹ کو صدی کی بدترین بدحالی قرار دیا گیا ہے اور بدترین معاشی بحران کا پیش خیمہ قرار دیا گیا ہے جس کے باعث دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے سعودی عرب کی معاشی صورت حال کو شدید دھچکہ لگا ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں سعودی تیل کی برآمدات میں 55 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے باعث اس کی آمدنی میں 8.7 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی تیل کی کمپنی آرمکو نے انتہائی سستے داموں میں تیل فروخت کیا جس کی وجہ سے اس کی روس کے ساتھ وہ چپقلش تھی جس میں سعودی عرب نے روس سے تیل کی پیداوار کم کرنے کو کہا تھا اور روس کے انکار پر اس نے اپنے تیل کی قیمتیں تاریخ میں سب سے کم کردی تھیں جو کہ سعودی حکمرانوں کی اس سوچ کی عکاس تھی کہ ہم جو بات کہیں اسے خدا کا کہا سمجھ کر بے چوں چراں قبول کر لیا جائے مگر روس نے اس سے بھی کم قیمت پر تیل فروخت کرکے اس کے منہ پر جوابی تھپڑ رسید کردیا۔ روس جس کی اقتصادیات صرف تیل کے بل پر نہیں تھیں بلکہ وہ ایک انتہائی ترقی یافتہ معاشی قوت ہے اور دہائیوں تک سعودی عرب کا مقابلہ کر سکتا ہے جب کہ سعودیوں کے نام نہاد ملک امریکہ نے جو اب تیل کے معاملے میں خودکفیل ہو چکا ہے۔ سعودیوں سے منہ موڑ لیا اور تیل کی خریداری بند کردی جس کے باعث سعودی تیل کی برآمدات میں اس سال 12 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب سعودی عرب کی طرف سے چین کو تیل کی برآمد میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی جس کی وجہ کرونا کے باعث چین میں تیل کی کھپت کا کام ہونا تھا کیونکہ چین 1.26 ملین بیرل یومیہ تیل درآمد کرتا تھا۔ چین جو دنیا میں تیل کا سب سے بڑا درآمد کرنے والا ملک ہے۔ روس اور سعودی عرب سے اول اور دوسرے درجے کے ممالک تھے مگر جولائی میں سعودی عرب کے بجائے عراق چین کو تیل برآمد کرنے والا دوسرا ملک بن گیا ادھر تیل کی قیمتوں میں امریکی تیل کی قیمت جو منفی ہو گئی تھی سے چین نے بہت بڑے پیمانے پر تیل کی خریداری کرکے اسے اسٹور کرنے کا انتظام کیا اس طرح اس کا خسارہ بھی سعودی عرب کو ہی ہوا جب کہ چین نے سعودی عرب کے بجائے ملائیشیا سے بھی تقریباً 4 لاکھ ٹنتیل درآمد کیا اس طرح سعودی جس تیل پر اکڑتے تھے اب وہ شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا جب کہ ان کے اخراجات وہی شاہانہ ہیں جو پہلے تیل، حاجیوں اور معتمرین کے ذریعے پورے ہوتے تھے جو کہ کرونا کی وبا کے باعث مشکل ہو چکے ہیں۔
یہ سعودی جو آج اپنے مفادات کے لئے اسلام کے نام کو بٹہ لگا رہے ہیں اس مقدس سرزمین کو جسے حضور نے بتوں سے پاک کیا تھا دوبارہ مندر بنا کر اور وہاں بتوں کو سجا کر توہین اسلام کے مرتکب ہورہے ہیں وہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن نریندر مودی کو سعودی عرب کا اعلیٰ ترین اعزاز بخش رہے ہیں اور اسے گلے لگا رہے ہیں دوسری طرف حرمت سرزمین مدینہ، مکہ کی بھی خلاف ورزی کررہے ہیں جہاں مکہ میں جسے غیر مسلموں کے لئے ممنوع شہر قرار دیا گیا ہے۔ ہلٹن ہوٹلز کی وارث اور ہالی ووڈ اداکارہ پیرس ہلٹن کو مکہ مکرمہ لا کر معاہدوں پر دستخط کررہے تھے جس کی شرط اس اداکارہ نے یہی رکھی تھی کہ وہ اس مقدس شہر میں ہی معاہدوں پر دستخط کرے گی۔ آج وہ احادیث ثابت ہونے جارہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کچھ مسلمان مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے یہود و نصاریٰ سے اتحاد کریں گے اور آج یمن پر آگ و خون کی بارش اور پھر ایران کے خلاف ان دشمنوں سے اتحاد کرکے سعودی حکمران یہی مکروہ کام انجام دے رہے ہیں یہ نام نہاد مسلمان جن کا ہر فعل اسلام کی نفی کرتا ہے اب خود بھی اپنے درناک انجام کی طرف چل پڑے ہیں اور وہ وقت دور نہیں ہے یہ اور ان کی دولت قصہ پارینہ بن جائے گی اور فرعون، شداد، قارون اور چنگیز خان کی صف میں شامل ہو کر نشان عبرت بن جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں