۔۔۔ اس کے بعد؟ 165

۔۔۔ بڑی غلطی ہو گئی

یہ ایک اپنی آنکھوں دیکھی اور اپنے کانوں سنی بات ہے جو اس وقت کو سمجھ میں نہیں آئی مگر آج روز روشن کی طرح صاف اور واضح ہمارا تعلق اور نہ ہجرت ہندوستان سکھر (سندھ) سے ہے۔ جہاں عمر کے 52 سال گزارے اور بہت زبردست گزارے آج ہم نے جو کچھ حاصل کیا وہیں سے حاصل کیا۔ ہمارے علاقہ پرانا سکھر میں مظفر نگر کی ایک عظیم شخصیت سید حسن میاں وکیل علاقے کے معتبر نام تھے۔ لیاقت علی خاں وزیر اعظم پاکستان کے دوست اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے ساتھ علی گڑھ میں پڑھے ہوئے ان کے صاحبزادے مہدی یہاں ہمارے دوست تھے۔ میاں کے یہاں ایک مرتبہ راجہ صاحب محمود آباد جو قائد اعظم کے معتمد اور تحریک پاکستان کے صف اول کے راہنما تھے اور پاکستان کی تحریک آزادی میں ہندوستان میں انتہائی اہمیت کے حامل جن کا خاندان صدیوں سے سیاست میں اہم مقام رکھتا تھا اور ہندو راہنما بھی ان کی بہت عزت کرتے تھے مگر راجہ صاحب مسلم لیگ کے ساتھ قائد اعظم سے بھی عقیدت رکھتے تھے اور ان کے ہر حکم پر سر تسلیم ضم کرتے رہے تھے اور پاکستان بننے کے بعد مالی طور پر بھی ہر طرح سے پیش پیش رہے تو یہی راجہ صاحب جب سکھر تشریف لائے اور ان کے اعزاز میں حسن صاحب نے دعوت کا اہتمام کیا جس میں انوع اقسام کی نعمتیں موجود تھیں مگر ایک ریاست کے حکمران راجہ صاحب کا کھانا روٹی وہ بھی جُو کی اور چولائی (ایک قسم کا ساگ جو غریب غربا کا سالن ہوتا تھا) کی بھیجنا تھا کیونکہ یہی ان کا معمول تھا۔ اس موقعہ پر ایک کمرے میں راجہ صاحب اور حسن یہاں دونوں باتیں کررہے تھے اس وقت ہم اور مہدی یہاں بھی خدمت کے لئے موجود تھے تو ہمارے کانوں میں ایک فقرہ پڑا جو راجہ صاحب حسن یہاں سے دوران گفتگو کہہ رہے تھے کہ ”میاں ہم سے بڑی غلطی ہو گئی“ اس وقت تو یہ جملہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا مگر بعد میں جب ملک کے حالات ناگفتہ بہ سے معلوم کیا ہے کہ عنقریب ہمارے ملک میں ایک بارش ہو گی اور اس بارش پانی جو شخص بھی پئے گا وہ پاکل ہو جائے گا اور اس پاگل پن کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔ بادشاہ یہ سن کر بڑا فکر مند ہوا اور اپنے ساتھ آنے والے عقلمندوں سے کہا کہ اس کا کیا تدارک کیا جائے۔ بادشاہ کے قریبی ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ حضور ایسا کرتے ہیں کہ ہم اپنے لئے پانی کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیتے ہیں اور آنے والی بارش کا پانی نہیں پیئں گے تاکہ ہم اس پاگل ہونے والی بیماری سے محفوظ رہیں۔ بادشاہ نے ان نجومیوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس آنے والی آفت سے انہیں ہٹا کر اس سے محفوظ رکھا اور انہیں مالا مال کرکے رخصت کیا۔ اب کرنا خدا کا یہ ہوا کہ بادشاہ اور اس کے افراد نے اپنے اپنے لئے پانی ذخیرہ کرنے کے لئے انتظامات کرلئے اور مطمئن ہو کر بارش کا انتظار کرنے لگے اور پھر کس دن کے بعد بارش نے انہیں آلیا۔ چھاجوں پانی برسا اور تمام علاقہ جل تھل ہو گیا۔ لوگ باگ پانی سے نہانے رہے اور وہی پانی پیتے بھی رہے اب جب کہ بارش کا زور کم ہو کر بارش رک گئی تو نجومیوں کا کہا من و عن پورا ہونا شروع ہو گیا اور جس جس نے بھی وہ پانی پیا وہ دیوانوں کی باتیں کرنے لگا اور پوری آبادی اب دیوانوں اور پاگلوں کی بستی بن گئی جب کہ بادشاہ اس کے وزیر اور امراد نے اس پانی کو ہاتھ نہیں لگایا اور اپنا اپنا ذخیرہ کیا ہوا پانی پیتے رہے مگر اب صورت حال یہ ہو گئی کہ یہ لوگ جب بھی عوام کے درمیان ہوتے تو آدمی انہیں پاگل پاگل کہہ کر چڑاتے۔ جب یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور ہزاروں پاگلوں کے درمیان یہ گنتی کے لوگ جو کہ ہوش مند اور سمجھدار تھے کلو بن کر رہ گیا وہ جدھر سے بھی گزرتے لوگ انہیں پاگل پاگل کہہ کر مخاطب کرتے بادشاہ اس صورت حال سے ازحد پریشان ہو گیا کہ عزت ان ہاتھوں کی تھی اور اقلیت میں یہ ہوش مند تھے تو بادشاہ نے ہوشمندوں کو جمع کیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس کا کیا علاج کیا جائے کہ لوگ ہمیں ہی پاگل سمجھنے لگے ہیں۔
خاصی دیر سے لوگ اس پر غور کرتے رہے کہ اس کا کیا علاج کیا جائے تب کیا بزرگ دانا اٹھ کر کھڑا ہوا اور بادشاہ سے کہ حضور ہماری ساری رعایا پاگل ہو چکی ہے وہ اکثریت میں ہے اور ہم گنتی کے لوگ جو خود کو دانا عقلمند ہیں اقلیت میں ہو کر رہ گئے ہیں اب اپنی عزت و جان بچانے اور ان پر حکمرانی کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم بھی وہی پانی پی لیں جو ساری رعایا پی رہی ورنہ یہ ہمیں پاگل پاگل کہہ کر تاج و تخت پر قبضہ کرلیں گے۔ بادشاہ اور اس کے وزراءاور امراءنے بہت سوچ بچار کرنے کے بعد غٹا غٹ کر وہی پانی پی لیا جو ان کی رعایا پی رہی تھی اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔
سوال: اس کہانی کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بھائی عمران خان بھی خوب غٹا کر کرپشن کا پانی پی جائیں جس سے کہ ان کے مخالف اور خود ساتھ رہنے والے پی رہے ہیں۔
اگر انہیں حکمرانی کرنی ہے ورنہ وہ اکیلے پاگل بن کر رہ جائیں اور لوگ ان کا ”فوٹو“ پیٹ دیں گے کہ پاگل آوے پاگل آوے کیونکہ یہ ملک جہاں کہ اول تا آخر اس بارش سے سیراب ہو رہا ہے جو کمیشن رشوت، کک بیک اربوں کے جعلی بلک اکاﺅنٹس، غیر ملکی سودوں میں حصہ داری ”کے الیکٹرک“ کے خفیہ سودے، پلاٹوں پر ناجائز قبضوں، زمینوں پر ناجائز تعمیرات کی رم جھم پھوار میں تربتر ہو رہے ہیں اور جو بھی اس بارش سے دامن بچا رہا ہے اسے پاگل ہے پاگل ہے کہ نعرے لگا لگا کر کھڑے لائن لگا رہے ہیں۔ سو بھیا عمران بھائی پی لو پی لو تو نیّا پار لگ جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں