افکار پریشاں 23

۔۔۔ پرندے کوچ کرتے ہیں

دنیا میں مذہب کے نام پر بننے والے دو ملک پاکستان اور اسرائیل کہے جاتے ہیں، اسرائیل جسے یہودی وہ مملکت کہتے ہیں جس کا وعدہ خدا نے کیا تھا کہ بنی اسرائیل جو ساری دنیا میں دربدر تھے اور جنہیں سب ہی کراہیت سے دیکھتے تھے اور ہٹلر نے ان کے لئے زمین تنگ کردی کیونکہ یہودی فطری طور پر ایک قوم تھی جو مکاری اور چالاکی میں اپنا مفاد حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کے اخلاقی اور انسانی حدود کو پار کرنے میں دیر نہیں لگاتی تھی اور تاریخ گواہ ہے انہوں کتنے پیغمبروں اور نبیوں کو قتل کیا اور کس طرح آفاقی قوانین کی خلاف ورزیاں کیں، ان پر خدا نے نعتمیں اتاریں اور انہوں نے کفران نعمت کیا، یہ وہی قوم تھی جن پر من سلویٰ اتارا گیا مگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی اور ادنیٰ چیزوں کی فرمائش کرتی رہی اور پھر خدا نے ان پر عذاب نازل کئے اور وہ ساری دنیا میں دربدر پھرتے رہے، کوئی انہیں پناہ دینے کو تیار نہ تھا، بالاخر عربوں کی غداری خصوصاً سعودی ابن الوقت قزاقوں نے انگریزوں کی مدد کرتے ہوئے سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازشیں کرکے یہودیوں کو یہ موقعہ فراہم کیا کہ وہ بیت المقدس پر قبضہ کرکے اور ملت اسلامیہ کے سینے میں خنجر اتار کر اسرائیلی مملکت کی بنیاد ڈال لیں جسے وہ خدا کا وعدہ کیا ہوا ملک کہتے اور اب آہستہ آہستہ وہ مسلمان ممالک کے گرد اپنا گھیرا تنگ کررہا ہے جو کہ اسے تسلیم کر چکے ہیں اور اب وہ سعودی عرب کو اسی کے وہ ویران جزیرے جس پر اس نے قبضہ کرلیا تھا واپس کرکے سعودی عرب کو یہ جواز فراہم کررہا ہے کہ وہ اس ”احسان“ کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرے چنانچہ کچھ ہی وقت جاتا ہے کہ سعودی عرب کے امریکی زرخرید حکمران اسرائیل کو تسلیم کرکے ان کی رسائی مکہ اور مدینہ تک کردیں گے اور اس طرح اس کا وہ منصوبہ ”ابرہام معاہدے“ کے تحت پورا ہو جائے گا کہ وہ اسرائیل کی سرحدوں کو وسیع سے وسیع تر کرکے پورے عرب کو اپنا غلام بنالے گا۔
بہرحال یہ تمہید طویل ہو گئی، مقصد یہ تھا کہ جب اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تو ساری دنیا سے قابل اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین نے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، روس اور یورپ سے ترک سکونت کرکے اسرائیل کا رخ کیا تاکہ اپنی سرزمین اور وطن کو ترقی اور کامرانی سے اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ بلندی پر لے جائیں۔ چنانچہ اعلیٰ سائنسدان، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر شعبوں کے ماہرین اپنی اپنی پرتعیش زندگیاں ترک کرکے اسرائیل پہنچ گئے۔
ایک امریکی نے لکھا کہ وہ جب اسرائیل بننے کے بعد وہاں گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک کھیت میں جو شخص ٹریکٹر چلا رہا ہے اس کی شکل اس کے ایک پروفیسر سے ملتی ہے، وہ اس کے قریب گیا تو دیکھا کہ یہ اس کے استاد ہی ہیں جوکہ ایک اعلیٰ تعلیمی عہدے پر کام کررہا تھا اور ہجرت کرکے اسرائیل چلا گیا تھا، اس نے پرویسر سے پوچھا کہ وہ اتنا اعلیٰ مقام چھوڑ کر اس ویرانے میں کیا کررہے ہیں تو پروفیسر نے زمین سے مٹی اٹھا کر کہا کہ یہ میرا وطن اور میری مٹی ہے، اس کی خدمت کے سامنے کوئی دوسری نعمت کوئی درجہ نہیں رکھتی۔ اس طرح ان یہودیوں نے دیکھتے ہی دیکھتے اسرائیل کو ایک ایسا ملک بنا دیا جس نے اقتصادی، سائنسی اور فنی ترقی میں ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، اس کی فوجی طاقت کے آگے کوئی ملک نہیں ٹک سکتا، دنیا کی بڑی سے بڑی کمپنی کے ہیڈ کواٹر اسرائیل میں ہیں، آج پوری دنیا کی تجارت ان کے قبضے میں ہے، سونے کے ذخائر پر وہ قابض ہے، پوری دنیا کی میڈیا ان کی ملکیت میں ہے، وہ جب چاہیں دنیا کی اقتصادیات کو تہہ بالا کر سکتے ہیں، آج بھی لوگوں کو یقین ہے 9/11 کی ساری کارروائی کے ذمہ دار یہودی تھے جس کے بعد انہوں نے ساری دنیا میں مسلمانوں کو ایک دہشت گرد قوم اور مذہب کے طور پر بدنام کرکے پستی میں دھکیل دیا ہے۔ دنیا میں ہر وہ واقعہ جس کے ذریعے اقتصادی فوائد حاصل ہو سکیں اسی قوم کے پیدا کردہ ہیں جس سے یہ پورا پورا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ آج عراق، شام، یمن، لیبیا، افغانستان اور افریقہ کے مسلم ممالک میں جو تباہی اور بربادی ہو رہی ہے اس کے پس پشت یہی مکار قوم ہے مگر عبرت کا مقام یہ ہے کہ دنیا کے قدرتی وسائل گو کہ مسلمانوں کے پاس ہیں مگر ان سے پورا پورا فائدہ یہودی حاصل کررہے ہیں کہ فنی لحاظ یہ ممالک نا اہل ہیں لہذا ہنر مند یہودی اپنی صلاحیتوں سے مونگ بھلی کے دانے برابر فائدہ انہیں دے کر بڑا حصہ خود حاصل کرتے ہیں۔
ادھر صورت حال یہ ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل ہوا ملک پاکستان کے جوہر قابل ناقدری، تعصب، نا انصافی خصوصاً ایک طبقے کے خلاف امتیازی سلوک کے باعث ملک سے باہر جانے پر مجبور ہیں جہاں ان کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق پذیرائی ملتی ہے اور وہ ملک کو قیمتی زرمبادلہ فراہم کرتے ہیں مگر بقول عالم تاب تشنہ
یہ اک شارہ ہے آفات ناگہانی کا
کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کر جانا
یہ پرندے کوچ کررہے ہیں اور نا اہل افراد کو کہیں کوٹہ سسٹم کی بیساکھیاں لگا کر کہیں زبان کی بنیاد پر سرکاری اداروں میں بھرا جا رہا ہے، یہ وہ افراد ہیں جنہیں امتحانات، ناجائز ذرائع سے کامیاب کرایا جاتا ہے اور اب یہ طریقہ ایجاد کیا ہے کہ ”آئی بی اے“ جیسے ادارے سے جو سکھر میں قائم کیا گیا ہے 40 فیصد نمبر حاصل کرنے والے کو کراچی کے ایسے ہی ادارے کے 100 فیصد لینے والے امیدوار کے مساوی سمجھا جائے گا اس طرح اب ایک قابل امیدوار کے مقابلے میں ایک نالائق کو ملازمتوں پر رکھا جائے گا اس طرح سندھ میں ہندوﺅں نے ایک ”کتافنڈ“ قائم کیا تھا جس کا مقصد تیکنیکی ڈگریوں کے طلباءکو امتحانات میں اعلیٰ نمبروں سے کامیاب کرانا مقصود ہے اور وہ اس ”کتافنڈ“ سے امتحانی کاپیوں کے ایگزمینرز کو لاکھوں روپیہ دے کر طلباءکو اوّل نمبر دلوانا ہوتا ہے اور اس طرح یہ طلباءانجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں داخل ہو کر اور ڈگریاں لے کر ہندوستان چلے جاتے ہیں جب کہ سندھ بھر میں امتحانات میں منظم طریقہ سے نقل کا بندوبست کرکے لڑکوں کو کامیاب کرایا جاتا ہے، ان اداروں سے کامیاب ہونے والے آج اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور اپنی جہالت کی بنیاد پر ملک کو تباہی کے دہانے پر لے کر آگئے ہیں جب کہ اپنی محنت کی بنیاد پر کامیاب نوجوان ٹیکسی چلا رہے ہیں اور چھوٹے موٹے کام کرکے زندگی گزار رہے ہیں ان پر سرکاری نوکریوں کے دروازے بند ہو چکے ہیں، اور جعلی ڈومیسائل بنوا کر نا اہل افراد ان کے حق غصب کررہے ہیں، اس صورت حال میں جو لاوا پک رہا ہے وہ کب پھٹتا ہے اور اس کا انجام کیا ہو گا، وقت بتائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں