پاکستان کے وہ لوگ جو اپنی ذاتی ضروریات اور مادی فوائد سے آگے کوئی بات سوچنے کو گناہ سمجھتے ہیں اور بعض بقراط اپنی رائے کو صحیفہ قدرت تصور کرتے ہیں، محض کسی کو خوش کرنے کے لئے دوسری کی تضحیک اور کیچڑ اچھالنے کو اپنی قابلیت قرار دیتے ہیں یہ افراد اس گروہ کی طرح ہیں جو بلا سوچے سمجھے دوسروں کو دیکھ کر کسی کو سنگسار کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں، آج کل اس کا نمونہ اگر دیکھنا ہے تو ان تین لڑکیوں کو دیکھ لیں جنہوں نے اپنی استاد کو اپنے ہاتھوں ذبح کردیا۔ سیالکوٹ کے اس سری لنکن کو دیکھ لیں جسے ہلاک کردیا اور آئے دن توہین مذہب کی آڑ میں معصوم لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے اور ان قاتلوں کو پیر بنا کر ان کی پرستش کی جاتی ہے، یہ معاملات بادی النظر میں معمولی ہیں گو کہ ایک فرد کا قتل انسانیت کا قتل ہے، اللہ کا فرمانا ہے۔ جسے مسلمان جو خود کو مذہب کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں کسی قیمت پر سمجھنے کو تیار نہیں، میں اب اس سے بڑھ کر یہ ہی ناقص عقل ان افراد کے کہنے پر جن کا دین و ایمان حصول اقتدار ہے اور جو دولت کے لئے اپنا ایمان تک فروخت کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے اور ملک و قوم کو فروخت کرنے کو اسے سیاست قرار دیتے ہیں۔
حالیہ سیاسی خلفشار میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ یہ مٹھی بھر خود غرض لوگ انہی غدار اور وطن فروش کا تسلسل ہیں جنہوں نے اپنے ادوار میں چند ٹکوں اور ہوس اقتدار میں مسلمانوں کی جانوں کے سودے کئے اور اغیار سے مل کر آزادی کو غلامی میں بدل لیا۔ آج صاف نظر آرہا ہے کہ یہی غداران وطن ان افراد کی شاطرانہ چالوں کی حمایت کرکے اس ملک کو فروخت کرنے کا سودا کرچکے ہیں۔ جسے لاکھوں افراد کی قربانی کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ اکثریت یہ سمجھنے کو تیار نہیں ہے کہ عمران خان نہ اپنی ذاتی خواہش اقتدار نہ دولت اور نہ ہی ذاتی مقاصد کے لئے حکومت کرنا چاہتا ہے بلکہ یہ اس ملک کے لئے عطیہ خداوندی ہے جو اس قرضوں میں ڈوبے ہوئے ملک اور دوسروں کے اشاروں پر ناچنے والی حکومتوں سے نجات دلا کر اسے باعزت ملک کا رتبہ دلانا چاہتا ہے جو اپنے عوام کو دنیا میں سر اٹھا کر جینے کا اعزاز حاصل کرے جس کی اقتصادیات دوسروں کے رحم و کرم پر نہ ہو، جس کے پاسپورٹ دنیا میں ادنیٰ ترین درجہ پر نہ ہو، جس کا نظام انصاف پست ترین گنا جائے، یہ باتیں محض باتیں نہیں ہیں ایک ایسی انتہائی اعلیٰ شرف خاتون کا تجزیہ ہے جن کی ذات ہر لحاظ سے اور ہر اختلاف سے بالاتر ہے، یہ ہیں علامہ اقبال کی بہو، جسٹس جاوید اقبال کی اہلیہ اور لاہور ہائی کورٹ کی جج ریٹائرڈ جسٹس ناصرہ جاوید اقبال، ان کا کہن اہے کہ میں بتاﺅں کہ عمران خان کا ”گناہ“ کیا ہے؟ اور کیوں عمران خان کو ان کے دور اقتدار کو 16 ماہ قبل ختم کیا گیا؟ تو ان کے جوابات یہ ہیں۔ سب سے پہلے ان عوامل کو پیش نظر رکھا جائے جو اس تبدیلی کا باعث بنے، یہاں سب سے اہم دو وجہ ہیں ایک تو پیٹرو ڈالر ہے جو 1974ءمیں صدر نکسن اور شاہ فیصل کے درمیان ایک معاہدے کے ذریعہ طے پایا، سعودی عرب کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پیٹرول مہیا کرنے والے ممالک کی تنظیم OPEC کو اس بات پر رضا مند کریں کہ پیٹرول کی فروخت صرف اور صرف امریکی ڈالر میں کی جائے گی اس کے علاوہ دنیا کی نہ تو کوئی کرنسی اور نہ ہی سونے کو اس کا ذریعہ قرار دیا جائے گا اور یہ کہ پیٹرول سے حاصل ہونے والی ڈالر کی رقم امریکی بینکوں میں جمع ہو گی اور اس کو نکالنے کے لئے ایک طویل اور پیچیدہ نظام نافذ کیا گیا۔ اس نظام کے تحت جو بھی ملک پیٹرول خریدے وہ پہلے امریکی ڈالر خریدے اس طرح امریکی اقتصادیات کو استحکام دیا گیا، اس طرح خود سعودی ریال ایک ڈالر کے بدلے 3.75 ریال کے مساوی ہو گیا۔ اب اس سے غرض نہیں کہ سعودی عرب کی اقتصادیات بہتر ہو یا بدتر امریکی ڈالر کی شرح تبادلہ یہی رہے گی اس کے علاوہ امریکہ نے ایسا انتظام کیا کہ کوئی بھی اوپیک ملک اس نظام سے انحراف نہ کرے اور عراق اور لیبیا نے اس سے انحراف کیا تو ان کا انجام کیا ہوا یہ سب کے سامنے ہے۔ ادھر ہندوستان نے 1953ءمیں روس کے ساتھ روپیہ اور روبل میں تجارت کا معاہدہ کیا تو امریکہ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا (برق گرتی ہے بے چارے مسلمانوں پر) اس طرح ہندوستان روس سے جو خریداری کرتا ہے اس کی ادائیگی روپیہ میں ہوتی ہے جس سے ہندوستانی روپیہ کی قدر میں اضافہ ہو گیا ہے اور آج بھی اس کا روپیہ استحکام رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہندوستان اور روس نے اپنے اپنے بینکوں کی شاخیں ایک دوسرے کے ملک میں قائم کی ہیں تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی کا خدشہ نہ رہے اس طرح دونوں ملکوں نے ان کی امریکی نظام مالیت SWIFT کو بائی پاس کردیا۔ خیال رہے کہ ہندوستان کی دور اندیشی کی داد دی جائے گی کہ انہوں نے یہ معاہدہ 1953ءمیں کیا جب کہ پیٹرو ڈالر معاہدہ 1974ءمیں ہوا۔ اب آئیے عمران خان کی طرف جنہوں نے 2019ءمیں پاکستانی روپیہ اور چینی ین کا پہلا معاہدہ کیا اور وہ پہلے حکمران تھے جنہوں یہ تاریخی معاہدہ کیا۔ اس معاہدے پر امریکی خاصے تلملائے اور چراغ پا ہوئے مگر اس معاہدے میں تیل کی ادائیگی شامل نہیں تھی لہذا اس نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ اب جب کہ 2022ءمیں عمران خان سے روس سے روپیہ اور روبیل میں خریداری کا معاہدہ کیا تو یاد رہے کہ پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974ءمیں ہوا تھا تو امریکہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اس طرح دوسرے ممالک بھی اگر اس قسم کے معاہدے کرنے لگے تو امریکی ڈالر کی قدر گر جائے گی اور کمزور ہو جائے گی اور اس طرح ڈالر یورپی یونین کی کرنسیوں کی طرح ہو جائے گا اور اس کی سپرپاور کی طاقت ختم ہو جائے گی اب اگر عمران خان اپنے باقی اقتدار کی مدت 16 ماہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا اور اگر اگلے انتخابات میں کامیاب نہ بھی ہوتا تو پاکستان امریکی غلامی سے آزاد ہو جاتا چنانچہ انتہائی عجلت میں امریکہ نے اپنے خریدے ہوئے ایجنٹوں کے ذریعہ عمران خان کی حکومت کو ختم کرادیا کیونکہ امریکہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
عمران خان کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ صدام حسین اور قذافی کے ساتھ جنت میں تشریف فرما نہیں ہوئے، امریکہ نے انہیں دوسرا موقعہ دیا ہے کہ بیٹا اب بھی سنبھل جاﺅ مگر عمران خان اب بھی نہیں سنبھلے تو اللہ جانے پاکستان کا کیا ہو گا یا عمران خان کا کیا حشر ہوگا اور اگر عمران خان دوسری مدت کے لئے کامیاب ہو گئے تو پاکستانی روپیہ میں اضافہ ہو گا اور آئی ایم ایف سے نئی شرائط طے کی جائیں گی۔ اس وقت پاکستان دوراہے پر کھڑا ہے، کیا اس کا حشر عراق اور لیبیا کی طرح ہو گا اور کیا سری لنکا کی طرح اس کا خاتمہ بالخیر ہو جائے گا؟
224











