ویت نام کے بعد افغانستان سے امریکہ کی رسوائی اور واپسی 89

14 اگست، تجدید عہد کا دن!

قیام پاکستان کو 74 سال بیت گئے۔ کیا ہم نے علیحدہ وطن کے لئے جو عہد کیا تھا وہ کس حد تک پورا ہوا؟ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور ان کے مخلص اور دیانتدار ساتھیوں کی انتھک کوششوں سے پاکستان تو معرضِ وجود میں آگیا۔ مگر اس کے قیام کے فوری بعد ہی قائد اعظم کی رحلت ہو گئی۔ کچھ ہی عرصہ بعد لیاقت علی خان کو شہید کردیا گیا۔ اس کے بعد ایوب خان کے دور اقتدار تک سابقہ بیورو کریٹ اور بڑے متمول خاندانوں سے وزرائے اعظم برسر اقتدار رہے جن کا نام بھی آج کا نوجوان نہیں جانتا۔ وہیں سے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بنیادیں ہل گئی تھیں۔
اسلام کے نام پر بننے والی پہلی اسلامی ریاست اوائل عمری سے ہی کمزور ستونوں پر قائم کی گئی۔ قائد کے فرمان کے مطابق اس میں ہم اپنے عقائد کمزور ستونوں پر قائم کی گئی۔ قائد کے فرمان کے مطابق اس میں ہم اپنے عقائد کے مطابق زندگیاں گزار سکیں گے اور انصاف کا نظام قائم ہو گا۔ پاکستان کو مدیہ کی ریاست کے طرز پر استوار کیا جائے گا۔ایوب خان کے مارشل لاءلگانے اور برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان کی بیرونی دنیا میں پہچان شروع ہوئی۔ ایوب خان بلاشبہ ایک ڈکٹیٹر تھا اور اسی نے آئندہ آنے والے فوجی سربراہان کے لئے مارشل لاءکے ذریعہ برسر اقتدار آنے کا راستہ ہموار کیا۔ بلاشبہ ایوب خان کے دور اقتدار میں پاکستان نے گونا گوں ترقی کی مگر وہ ہدف تنقید ہی رہی۔ کسی مارشل لاءکو سراہا نہیں گیا۔ کیوں کہ ویسٹ سمیت امریکہ میں قائم جمہوری نظام اس کی شدید مخالفت کررہے تھے اور جو ترقی یافتہ ممالک کا موقف ہوتا ہے اس کی ہی سب پیروی کرتے ہیں، کئی ملکوں نے انہی مغربی ملکوں کی پشت پناہی سے فوجی حل نکالے۔ وہاں ان ممالک کو کوئی اعتراض نہیں ہوا۔
ایوب خان نے اقتدار یحییٰ خان کو تھما دیا جس کی شہرت پہلے سے ہی سوالیہ نشان تھی۔ اس طرح 1971ءمیں سقوط ڈھاکہ ہو گیا۔ یحییٰ خان یعنی (فوج) اکثریت سے جیتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار نہیں دینا چاہتی تھی کیوں کہ ان کے خیال میں بنگالیوں کی بھارت کے ساتھ سازباز ہے اور وہ کہیں سازش کرکے پاکستان کو دوبارہ بھارت کی گود میں نہ ڈال دیں کیوں کہ تقسیم برصغیر کے وقت کانگریسی راہنماﺅں نے پیشن گوئیاں کی تھیں کہ پاکستان شاید کچھ سال ہی Survive کرسکے۔
بہرحال مجیب الرحمن کو اقتدار نہ دینے کے سبب مکتی باہنی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے بھارت نے مشرقی پاکستان کو الگ کردیا اور اسلامی دنیا کا سب سے بڑا ملک توڑ دیا گیا۔
یہ تو تھی کارکردگی 1948ءسے لے کر 1971ءتک، آنے والے سویلین اور فوجی حکمرانوں کی۔ اس سارے عرصہ میں قیام پاکستان کے مقاصد پیچھے رہ گئے اور ذاتی مفادات آگے نکل گئے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں دنیا ماڈرن لائف اسٹائل کی طرف جا رہی تھی اور ہمارے ساتھ آزاد ہوئے ممالک تیزی سے ترقی کی منازل طے کررہے تھے مگر ہم پاکستان میں فوجی اور سویلین حکومتوں کی آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ فوج نے ہر دفعہ سویلین حکومت کو ان کی کرپشن اور نا اہلیوں پر چلتا کیا۔ مبینہ طور پر فوج کے خیال میں ہمارے سیاستدان وطن فروش ہیں اور ضرورت پڑنے پر دھرتی ماں کو فروخت بھی کرسکتے ہیں۔
ایوب خان نے ڈکٹیٹرشپ کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ وہ بھٹو، جونیجو، بے نظیر اور نواز شریف کی حکومتوں کو نگلتی چلی گئی۔ فوج کو ایسا مضبوط ادارہ بنا دیا گیا کہ سویلین ان کے سہارے کے بغیر حکومتوں میں نہیں آسکے۔ اس کی بہت بھاری ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے جو رات کے اندھیرے میں جی ایچ کیو کے گیٹ پھلانگتے ہیں۔
اگر 74 سال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روش کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد حاصل نہ کئے جا سکے جو عہد مسلمانان برصغیر سے کیا گیا تھا وہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد حاصل نہ ہوسکے۔ پاکستان کی معاشی، سیاسی، معاشرتی اور ادارہ جاتی تباہی کا ذمہ دار یہ دونوں فریق ہیں۔
بلاشبہ پاکستانی اپنی فوج سے بے حد محبت کرتے ہیں کیوں کہ فوج میں ہمارے ہی بھائی اور بچے ہیں انہیں کسی دوسرے ملک سے امپورٹ نہیں کیا گیا وہ دن رات محاذ پر قربانیاں دیتے ہیں ہر مصیبت کی گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے اسٹیبلشمنٹ یعنی (فوج) کے بغیر کوئی سیاسی پارٹی حکومت نہیں بنا سکتی، کسی حد تک یہ بات درست ہے لیکن فوج کو اقتدار میں آنے کی دعوت بھی تو ہمارے نام نہاد سیاستدان دیتے ہیں۔
اب بھی وقت ہے خدارا غور کیں اور سوچیں کہ اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کو کس طرح آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کتنے بھی اچھے اقدامات کیوں نہ کر لے مگر اس کو قبول نہیں کیا جاتا، حالیہ افغانستان کے معاملات پر ہی نظر دوڑالیں اتنی قربانیوں کے بعد بھی امریکہ تو کجا افغانستان بھی ہمارے مخالف کھڑا ہے کیوں کہ پاکستان میں قائم گزشتہ حکومتوں نے صحیح فیصلے نہیں کئے، ذاتی منفعت کو مدنظر رکھا، ملک کو مقدم نہیں جانا، پاکستان کا امیج بیرون دنیا میں اتنا خراب ہو چکا ہے کہ اس کو ٹھیک کرنے میں دھائیاں لگ جائیں گی۔ ہم پر کوئی ملک اعتبار نہیں کرتا کیوں کہ ہم منافقت پر مبنی پالیسیاں بناتے ہیں۔ کسی بھی ملک و قوم کے لیڈر کا دور اندیش ہونا بہت اہم ہوتا ہے جو کہ بدقسمتی سے ہمیں نہیں مل سکے۔
لگتا ہے کہ عمران خان کی قیادت میں بڑے بولڈ فیصلے کئے جارہے ہیں اور ملک کا مفاد اوّل رکھا جارہا ہے۔ عمران خان کو کوئی ذاتی فائدہ حاصل نہیں کرنا، اس کے اندر قوم و ملت کی تڑپ نظر آتی ہے اور وہ پاکستان کو ایک عظیم مملکت بنانا چاہتا ہے۔ امید واثق ہے کہ اگر اسے برسر اقتدار رہنے دیا گیا تو پاکستان ضرور بدلے گا، انشاءاللہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں