324

چیئرمین نیب کی آخری وارننگ، پنجاب کے بعض ادارے تعاون نہیں کررہے، برداشت نہیں کروں گا

لاہور: قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جمہوریت کے خلاف نیب کوئی سازش نہیں کر رہا ،کوئی انتقام لیا نہ لیں گے لہٰذا اسے سیاسی نہ بنایاجائے‘پنجاب کے بعض اداروں کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت ہے‘ چیئرمین نیب نے آخری وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ اب تک مسکرا کر برداشت کیا لیکن یہ روش مناسب نہیں، اسے آئندہ برداشت نہیں کیا جائے گا ،بیوروکریسی کسی شخص کے اشاروں پر نہیں ناچ سکتی‘ سوال کریں توکہتے ہیں سازش ہورہی ہے‘ہم کسی سازش کا حصہ بھی نہیں‘ملک 90کھرب روپے کا مقروض ہے ‘ نظرنہیں آتایہ پیسے کہاں خرچ ہوئے ‘ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں، غلط احکامات دینے والے اور ان پر کام کرنے والوں کا مکمل احتساب ہوگا‘غیرقانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے علاوہ ان کے ریگولیٹرزکے خلاف بھی کارروائی کریں گے ‘کیس پر اثراندازہونے والوں کی ضمانت منسوخ کرا دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز نیب لاہور کے دفتر میں ڈبل شاہ کیس اور ایلیٹ ٹاﺅن ہاﺅسنگ اسکیم کے متاثرین میں 30کروڑ 41لاکھ روپے کی رقوم کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے متاثرین ،ان ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے ریگولیٹر اداروں کے سربراہان بھی مدعو تھے جن میں ڈی جی ایل ڈی سمیت مختلف ٹی ایم ایز اور متعدد ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے مالکان بھی شامل تھے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے فیس نہیں بلکہ صرف کیس کو دیکھیں گے ‘بد عنوانی کینسر کی طرح سرایت کررہی ہے ، ملک ایک ہے مگر لٹیرے بہت ہیں جنہوں نے جی بھر کے ملک کو لوٹا ، ملک اس وقت 84ارب ڈالر (تقریبا 90کھرب روپے) کا مقروض ہے ، 84ارب ڈالر کہاں اور کیسے خرچ ہوئے کہیں نظر نہیں آئے مگر جواب ملتا ہے کہ ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے ، نیب کا کسی سیاست جماعت سے تعلق ہے نہ ہی نیب کسی سے امتیازی سلوک پر یقین رکھتا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈبل شاہ کو سنگل شاہ بنا دیا ، 9ارب روپے کے فراڈ میں سے 4ارب روپے متاثرین کو واپس کیے جبکہ ڈبل شاہ کیس کے دوسرے ملزم تصور گیلانی کے ذمہ 1.9ارب روپے میں سے 1.2بلین روپے کی رقم متاثرین کو واپس لوٹا دی ہے جبکہ نیب نے ایلیٹ ٹاﺅن ہاوسنگ اسکیم لاہور کے متاثرین کے 10کروڑ بمعہ منافع/سود کے 36کروڑ ورپے آج متاثرین کو واپس کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چار ماہ قبل جو قوم سے وعدہ کیا تھا کہ نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے متاثرین کی رقوم کی واپسی ہماری اولین ترجیح ہو گی اس پر عملدرآمد جاری ہے اور اب کسی کو مستقبل میں ڈبل شاہ نہیں بننے دیں گے‘چیئرمین نیب نے کہا کہ نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے پرکشش اشتہارات کا ریگولیٹرز کو بخوبی جائزہ لینا چاہیے کہ متعلقہ سوسائٹی نے این او سی یا پھر بیل آﺅٹ پلان جمع کروایا ہے اور منظور ہو چکا ہے کہ نہیں، آج کے بعد غیر قانونی نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے علاوہ ریگولیٹرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رزق حلال میں ہمیشہ برکت ہوتی ہے ، چند دنوں میں کروڑ پتی بننے والوں کو سوچنا چاہیے کہ کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی اور جو بھی لوگ اس دنیا سے گئے ہیں وہ خالی ہاتھ گئے ہیں۔ملک سے بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے کسی دباﺅ ، سفارش اور دباﺅ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی خاص کر پنجاب کے بعض اداروں سے عدم تعاون کی شکایت ہے، اب تک مسکرا کر برداشت کیا لیکن آئندہ عدم تعاون ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔عدم تعاون کی روش ختم کریں کیونکہ تعاون اپنی ذات کیلئے نہیں غریب عوام کیلئے چاہیے‘یہ ضروری ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کے بجائے ملک و قوم کا وفادار اور خدمت گزار بنا جائے۔چیئرمین نیب نے ایل ڈی اے سمیت تمام ریگو لیٹرز کودوٹوک وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی کسی شخص کے اشاروں پر نہیں ناچ سکتی‘شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کا مکمل احتساب ہوگا اور غلط احکامات دینے والے اور ان پر کام کرنے والوں کا بھی مکمل احتساب ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں