149

فیس بک اکاﺅنٹس کے 60 کروڑ پاس ورڈ خفیہ نہیں رہے

کیلیفورنیا: سیکیورٹی میں خامیوں، جھوٹی خبروں کی تشہیر اور صارفین کا ڈیٹا دیگر کمپنیوں کو دینے کے بعد فیس بک کے متعلق ایک اور انکشاف ہوا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر کم سے کم 20 سے 60 کروڑ صارفین کے پاس ورڈ محفوظ نہیں رہے۔
فیس بک پر یہ اتنے بہت سے پاس ورڈ صرف سادہ ٹیکسٹ کی صورت میں محفوظ ہیں اور کم ازکم دنیا بھر میں پھیلے فیس بک کے ہزاروں ملازمین سے یہ کسی صورت پوشیدہ نہیں اور انہیں بہت آسانی سے سرچ بھی کرایا جاسکتا ہے۔
یہ پاس ورڈ فیس بک لائٹ، انسٹاگرام اور فیس بک صارفین سے تعلق رکھتے ہیں۔ حال ہی میں انٹرنیٹ سیکیورٹی سے وابستہ ماہر برائن کریبس نے کہا ہے کہ فیس بک پلیٹ فارم پر ایسے پاس ورڈز کی تعداد 20 سے 60 کروڑ ہوسکتی ہے جو سادہ ٹیکسٹ کی صورت میں عیاں ہیں اور وہاں کے ملازمین انہیں باقاعدہ سرچ بھی کرسکتے ہیں۔
برائن نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ بعض پاس ورڈز 2012 سے بھی پرانے ہیں۔ تاہم اس رپورٹ کے آنے کے بعد اس سال جنوری میں فیس بک نے باقاعدہ طور پر اس خامی کا اعتراف کرتے ہوئے صفائی پیش کی کہ یہ مسئلہ حل کردیا گیا ہے اور اب تک اس معلومات کو بھی منفی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ہے اور صارفین کو اس سے آگاہ بھی کردیا گیا ہے۔
فیس بک نے خود اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے، ’فیس بک لائٹ اکاو¿نٹ کی تعداد دسیوں کروڑوں میں، فیس بک یوزرز کی تعداد چند کروڑ اور انسٹاگرام پاس ورڈز کی تعداد کئی ہزار مگر ایک لاکھ سے کم ہوسکتی ہے۔
گزشتہ دو برس سے فیس بک پر خفیہ معلومات کی حفاظت سے متعلق اسکینڈل اور خبروں کے بعد یہ ایک اور ہولناک معاملہ ہے جس کا اعتراف فیس بک نے خود کیا ہے۔ برائن کریبس کے مطابق فیس بک نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ کئی اکاﺅنٹ پانچ سے سات سال پرانے بھی ہیں۔
واضح رہے کہ خود گوگل، ٹویٹر اور فیس بک پر پاس ورڈ اسٹیرک اور دیگر انداز سے چھپاکر خفیہ رکھے جاتے ہیں یہاں تک کہ خود ملازمین بھی اس سے ناواقف ہوتے ہیں۔ لیکن فیس بک کے ڈیٹا بیس میں سادہ ٹیکسٹ کی صورت میں پاس ورڈ تک ادارے کے ملازمین آسانی سے رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں