83

ترکی میں 15 سال بعد صدر طیب اردگان کو شکست کا سامنا

انقرہ: ترکی کے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت اے کے پی 15 سال بعد انقرہ سے ہار گئی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ترکی دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں بلدیاتی انتخابات کے دوران حکمران جماعت کو شکست کا سامنا ہے۔ترکی میں 15 سال حکمرانی کرنے والے صدر طیب اردگان کی جماعت کو انقرہ میں شکست ہو گئی جب کہ اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے منصور یو ایس 50 فیصد ووٹ حاصل کر کے مئیر منتخب ہو گئے،انقرہ میں ترک حکمران جماعت کے مہمت اوزاسکی 47 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔
استنبول میں بھی حکمران جماعت اور اپوزشین کے درمیان سخت مقابلہ ہوا ہے جب کہ جاری گنتی کے مطابق حکمران جماعت کے امیدوار سابق وزیراعظم بن علی یلدرم 41 لاکھ 11 ہزار 219 ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں جب کہ اپوزیشن جماعت کے ایکرم اگلو 41 لاکھ 6 ہزار 776 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ملک بھر کے نتائج کے مطابق صدر طیب اردگان کی جماعت اے پی کے کو کل 52 فیصد ووٹ ملے ہیں جب کہ الائنس نے 38 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ اگر استنبول میں مئیر شپ نہ بھی ملی تو ڈسٹرک کونسل میں انہی کے حامیوں کا کنٹرول ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کچھ کمزوریاں ہیں جنہیں دور کرنا ہمرا فرض ہے۔کرد اکثریتی جنوب مشرقی علاقے میں کرد حمایت یافتہ ایچ ڈی پی جیت گئی ہے جب کہ کئی شہروں میں حکمراں جماعت کو کامیابی ملی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ طیب اردگان کی ناکامی کی وجہ ملک میں معاشی سست روی، بے روزگاری میں اضافہ اور مہنگائی ہے۔
ترکی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں جسٹس اینڈ ڈولیپمنٹ پارٹی،آزاد ترکی پارٹی،گرینڈ نیشنل پارٹی۔ ریپلکن پیپلز پارٹی، ڈیموکریٹ پارٹی،پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی،ای پارٹی،نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اور وطن پارٹی سمیت اور جماعتوں نے حصہ لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں