114

پول کھلتی ہے

ایک ”عظیم شخصیت“ (نام نہاد) نے ایک عظیم وژن متعارف کرایا ہے اور یہ وژن ان لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے ہے جو ملک کی دولت بٹور کر بڑے بڑے عہدوں پر قابض ہو کر خاندانوں اور خود دوسرے ممالک کی شہریت لے کر اور مزید دولت لوٹنے کے لئے قوم کا مال غصب کرنے اور خون کا آخری قطرہ چوسنے میں مصروف ہیں۔ یہ وژنری طبقہ اپنے آقا نامدار زرداری کے ان حواریوں میں شامل ہیں جو اپنے وقت کے ہر حاکم، ہر فرعون، ہر نمرود کے ساتھ رہتے ہیں، یہ ہوس پرست ہر چڑھتے سورج کی پرستش کرتے ہیں اور اسے ”بعد از بزرگ قومی قصہ مختصر“ سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کاسہ لیس اس کے بل بوتے پر زرپاتے ہیں اور رزق حرام مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرتا ہے۔ یہ یزید کے ساتھ مل کر ہمیشہ باطل کی صفوں میں پائے جاتے ہیں، یہ نام نہاد قوم پرست ابن الوقت اس وقت پاکستان میں ایک ایسے بدکردار شخص کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں جس نے مکاری، چالبازی اور سازش کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کیا جس نے بھٹو خاندان کے ساتھ وہ کچھ کیا جو ایک بدترین دشمن بھی اپنے اپنے دشمن کے ساتھ روا نہیں رکھ سکتا۔ آج سندھ کے محب وطن لوگ اس شخص کے متعلق کیا سوچتے ہیں اس کا احوال ذرا ان بزرگ سے سنیئے یہ کہتے جن کا نام انور محمود ہے، کہتے ہیں کہ زرداری کی شکل میں ایک ایسا درندہ سندھ پر مسلط ہوگیا ہے جو سندھیوں کو برباد کررہا ہے اس شخص نے سندھ کی زمینوں کو فروخت کردیا اور بدکردار لوگوں کو عوام پر مسلط کردیا ہے۔
یہ کون نہیں جانتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو قتل کروایا اور اسی نے مرتضیٰ بھٹو کا قتل کرایا یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی ساس کو دبئی میں لے جا کر قید کردیا جو کہ مرتضیٰ بھٹو سے بے حد محبت کرتی تھی اور اس نے بے نظیر کو بھی اس کے قتل میں شریک قرار دیا، وہ کہتی تھی کہ اس سے بڑی غلطی ہوئی کہ اس نے بے نظیر کو چیئرمین نامزد کیا وہ بے نظیر کا نام لینے کے بجائے اسے بیگم زرداری کے نام سے پکارتی تھی۔ انور محمود کہتے ہیں کہ بے نظیر کا کردار بھی بے حد گھناﺅنا تھا اس نے راجیو گاندھی کو پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی تھی جس کا دستاویزی ثبوت بھی موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر اور زرداری نے کوٹ ادو پاور پلانٹ چالیس کروڑ ڈالر میں فروخت کردیا یہ وہ عورت تھی جسے امریکہ سے کہا کہ پاکستان کو F-15 طیارے نہ دیئے جائیں۔ انور محمود ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ اس عورت نے پاکستان کی وزیر اعظم ہوتے ہوئے ہندوستان کو خالصتان تحریک کے رہنماﺅں کی فہرست ہندوستان کے حوالے کردیں جس کے بعد ہندوستانی فوج نے ان کو ہلاک اور گرفتار کرنے کی کارروائی کی۔ بعدازاں اس عورت نے کہا کہ راجیو گاندھی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کے بدلے سیاچن میں اپنا قبضہ ختم کردے گا ، بعد میں اس نے کہا کہ ان کی فوج اس بات پر رضا مند نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان الیکشن کمیشن ایک ناکارہ اور مردہ ادارہ ہے، بے نظیر انکم سپورٹ کے نام پر ووٹروں کو خریدا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن اس سلسلے میں کچھ نہیں کرتا۔ سندھ میں زکوٰة اور عشر کا پیسہ بھی سیاسی خریداری کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
انہوں نے سندھ سے عدالتی نظام اور پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زرداری کو عدالتیں سہولتیں دے رہی ہیں اور ان عدالتوں کے ذریعہ زرداری کو کوئی سزا نہیں مل سکی جب کہ پولیس، بیورو کریسی زرداری کے زرخرید غلام ہیں، یہ عوام کو سہولتیں دینے کے بجائے زرداری کے حکم کے غلام ہیں اور اس کے ہر ناجائز کام میں اس کے سہولت کار بھی ہیں انہوں نے کہا کہ زرداری خود کو شیعہ کہتا ہے جب کہ ہم سید زادے ہیں اس بے غیرت نے ایک سید کے نام کو ہٹا کر (نواب شاہ) ایک ایسی عورت سے منسوب کردیا ہے جو نہ اچھی سیاستدان تھی اور نہ ہی اچھی عورت۔ انہوں نے کہا کہ اس نے پہلے ضیاءالحق سے این آر او لیا اس کے بعد پرویز مشرف سے یہ اپنے مفاد کے لئے شیطان سے بھی ہاتھ ملانے کو تیار رہتا تھا انہوں نے کہا کہ صدر ایوب کے بعد آج فوج بے حد اچھا کردار ادا کررہی ہے اور اب پاکستان کو تباہی و بربادی سے بچانے کے لئے فوج آخری سہارا ہے انہوں نے کہا کہ آج بھی جمہوریت کا نعرہ پیپلزپارٹی لگا رہی ہے، میں اس پر سو بار لعنت بھیجتا ہوں، یہ انگریزوں کی جمہوریت نہیں بلکہ یہ پیسے کی جمہوریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پیپلزپارٹی ڈکٹیٹرشپ کے بارے میں بات کرتی ہے، خود ان کا لیڈر ذوالفقار علی بھٹو دو سال تک سول ڈکٹیٹر بنا رہا اور اپنی ساری من مانی اصلاحات اس ڈکٹیٹر کے رول میں نافذ کیں۔ انہوں نے کہا کہ زرداری نے سندھ کی زمینیں فروخت کردیں یہ اپنے اقتدار کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے اس نے ملک ریاض کو لندن میں الطاف حسین سے ملنے کے لئے بھیجا اور یہ بات خود ملک ریاض نے الطاف حسین کو بتائی کہ انہیں زرداری نے بھیجا اور وہ حیدرآباد میں الطاف حسین کے نام پر یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انور محمود نے سوال کیا کہ زرداری اپنے پاکستان میں بیٹے بلاول اور امریکہ میں بیٹے کے نام پر یونیورسٹی کیوں نہیں بنا رہا تھا بلکہ وہ ایم کیو ایم کے ہاتھوں لندن کو فروخت کررہا تھا تاکہ اس کا اقتدار قائم رہے انہوں نے کہا کہ آج ہماری فوج اپنے جوانوں اور بچوں کو مروا کر پاکستان کی حفاظت کررہے ہیں اور ہم سندھی، زرداری پر لعنت بھیجتے ہیں اور ہمیں وطن جان سے زیادہ عزیز ہے اور اس کی حفاظت ہم اپنی جان سے زیادہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں