213

گندی سیاست کرکٹ ٹیم کو بھی لے ڈوبی

کرکٹ کے میدان میں یہ پہلی بار نہیں بلکہ ماضی میں بھی پاکستان بمقابلہ بھارت کئی بار پاکستان نے شکست کھائی مگر اس بار ایسا کیوں ہوا کہ عوام شدید غم و غصہ کا شکار ہیں اور قومی ٹیم کو لعن طعن کررہے ہیں۔ احسان مانی، انضمام الحق اور سرفراز کو گالیاں دی جارہی ہیں۔ ٹیم میں باہمی چپقلش کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کرکٹ کے میدان میں کھیل شروع ہونے سے قبل ہی کھلاڑی تھکے تھکے اور بیزار دکھائی دے رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہیں یہ میچ زبردستی کھلایا جارہا ہے۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے قومی ٹیم کو مشورہ دیا تھا کہ اگر ٹاس جیتیں تو پہلے بیٹنگ خود کریں۔ مگر نجانے کس کے مشورے پر قومی ٹیم کے کپتان اور ذمہ داروں نے عمران خان کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹاس جیتنے کے باوجود بھارت کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ سابق ٹیسٹ کرکٹ اور وزیر اعظم عمران خان کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم پر بھارتی کھلاڑیوں کا خوف بیٹھا ہوا تھا، ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ اعصاب کا کھیل ہے، لیکن پاکستانی ٹیم کے چہروں پر ابتداءہی سے خوف نظر آرہا تھا، اور خود اعتمادی کا فقدان واضح تھا، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ٹیم میں کوئی کوآرڈینیشن نہیں تھا، نہ کوئی حکمت عملی نظر آئی، ایسا لگ رہا تھا کہ بغیر پلاننگ کے میدان میں کود گئے ہیں۔ ٹیم کی اکثر کھلاریوں کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ بے زار دکھائی دے رہے تھے، کپتان سرفراز احمد اور انضمام الحق کے درمیان اختلافات نے کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر یکسوئی سے محروم کردیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ میچ کو فکس کرنے کے لئے پیسہ بھی چلایا گیا جس کی انکوائری کے لئے وزیر اعظم نے انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کرکٹر ہونے کے سبب شدید نشانہ پر ہیں اور اپوزیشن موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تابڑ توڑ حملہ کررہی ہے۔ امکان ہے کہ بھارت سے اس ہار کے بعد کرکٹ سلیکشن بورڈ اور کھلاڑیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں ہوں گی۔ کچھ پاکستانیوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ لسانیت کی بنیادوں پر اب قومی ٹیم کو بھی اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور اگر ایسا ہوا تو پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی بھی لسانیت کی زد میں آکر اپنی صلاحیتوں کو گرہن لگا بیٹھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں