214

ہلال کمیٹی نے مسلمانوں کی نیند ہی نہیں عید بھی حرام کردی

ٹورنٹو/شکاگو (پاکستان ٹائمز) نارتھ امریکہ میں رہنے والے مسلمان خصوصاً نئی نسل کے لئے عید کا چاند اب ایک سنجیدہ مسئلہ بن کر رہ گیا ہے۔ اسلام کے یہ ٹھیکیدار اس بات کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہماری نئی نسل کی ملازمتوں کے مسائل بھی اہمیت کے حامل ہیں، نئے مسلمان بچے چاند کے ہونے یا نہ ہونے کی بحث کے سبب کنفیوژن کا شکار ہیں، وہ نہیں جانتے کہ اپنی ملازمت سے عید کی چھٹی کس دن کی اپلائی کریں اور ماہ رمضان کی عبادتوں کی خوشی کو کس طرح سبوتاژ ہونے سے بچایا جائے۔ اللہ بھلا کرے ہمارے علماءحضرات کا کہ آج کے سائنسی دور میں بھی یہ اپنی فرسودہ روایت کے پیچھے بھاگنے سے باز نہیں آتے اور اپنی ایک اینٹ کی مسجد کو قائم رکھنے پر بضد ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ نارتھ امریکہ کیا دنیا بھر میں دینی تہوار ایک روز منا کر اپنے اتحاد اور تنظیم کا ثبوت دیتے تاکہ غیر مسلموں کے دلوں پر مسلمانوں کی دھاگ بیٹھتی مگر اس فرقہ واریت کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے اور ظلم و جبر وہ کا بازار گرم ہے کہ انسانیت بھی شرما جائے۔ مگر ہم اس بات سے غافل ہیں کہ خدا رحمان کے ساتھ ساتھ قہار بھی ہے۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کے صوبے خیبرپختونخواہ میں بھی 28 روزوں کے بعد عید منانے کے سبب مذہبی گروہوں میں خاصہ کھنچاﺅ دکھائی دیتا ہے اور نئے پاکستان میں صوبوں اور اداروں میں بھی مذہبی ترجمانوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ نہ جانے ہم ان چھوٹے چھوٹے مسائل پر کب تک ایک دوسرے سے الجھتے رہیں گے اور عید کی خوشیوں کے رنگ میں بھنگ کب تک ڈالتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں