151

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں تین سال کی توسیع

اسلام آباد: وزیر اعظم آفس کے مطابق حکومت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی ہے۔ سوموار کو وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکشن کے مطابق یہ فیصلہ ملک اور خطے میں جاری امن کی کوششوں کے تسلسل کے لیے کیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں جنرل قمر جاوید باجوہ حکومت کی جانب سے توسیع پانے والے دوسرے آرمی چیف ہیں۔
ان سے قبل پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت بھی تین سال کے لیے بڑھا دی گئی تھی۔
قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں اضافے کی خبریں کئی ماہ سے زیرِ گردش تھیں۔
وزیر اعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن میں لکھا گیا ہے کہ ’جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کے لیے آرمی چیف مقرر کر دیا گیا ہے۔‘ خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 کو پاکستان فوج کی قیادت سنبھالی تھی۔


جنرل قمر جاوید باجوہ کون ہیں؟
جنرل باجوہ 12 نومبر 1960 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق جاٹ فیملی سے ہیں۔ ان کے والد محمد اقبال باجوہ بھی پاکستان آرمی میں بطور لیفٹننٹ کرنل خدمات انجام دیں۔ وہ سروس کے دوران ہی 1967ءمیں کوئٹہ میں انتقال کر گئے تھے۔
جنرل باجوہ نے اپنی سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم بالترتیب سر سید اور گورڈن کالج راولپنڈی سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے آرمی میں شمولیت اختیار کر لی۔
وہ آرمی کی سب سے بڑی 10ویں کور کی سربراہی کر چکے ہیں۔ آرمی چیف مقرر ہونے سے قبل جی ایچ کیو میں انسپکٹر جنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے۔
وہ کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ سٹاف کالج (ٹورنٹو)، نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹیری (کیلی فورنیا)، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔ وہ بطور میجر جنرل فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔
24 اکتوبر 1980 کو انہوں نے 16 بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔
اپنے کیرئیر کے دوران وہ بطور بریگیڈیئر کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
حالت جنگ میں کمانڈر نہیں بدلا کرتے
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اردو نیوز کے نامہ نگار زبیر علی خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع نہیں دی بلکہ یہ ’ان کا تسلسل‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے اور حالت جنگ میں کمانڈر نہیں بدلا کرتے۔‘
فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کو تمام پالیسیز میں تسلسل چاہیے۔ مغربی اور مشرقی سرحدوں کی صورتحال خراب ہے۔ ایسی صورتحال میں عسکری قیادت کے حوالے سے بھی تسلسل چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا تسلسل ملک اور قوم کی ضرورت ہے اور یہی قومی مفاد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں