83

انڈیا سے سفارتی تعلقات محدود، ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم

اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں انڈین ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیے ہے، جبکہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کا انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور تجارت معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
بدھ کی شب دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین حکومت کو اس فیصلے سے ا?گاہ کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ہائی کمیشنر کو نئی دلی نہیں بھیجا جائے گا۔ یہ اجلاس انڈیا کی طرف سے کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کو ختم کرنے کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں بلایا گیا تھا۔
اس فیصلے سے متعلق آگاہ کرنے کے لیے انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا تھا۔
اس سے قبل قومی سلامتی کے اجلاس میں پانچ اقدامات کا اعلان کیا گیا جس میں سفارتی تعلقات کم کرنے، تجارتی تعلقات معطل کرنے کے علاوہ دوطرفہ معاملات پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ معاملے کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل بھی لے جایا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس سال یوم آزادی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر منایا جائے گا جبکہ اگلے دن 15 اگست کو یوم سیاہ منایا جائے گا۔ یاد رہے کہ 15 اگست انڈیا کا یوم آزادی ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے فوج کو چوکس رہنے کی ہدایت کی۔
قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر بات چیت ہوئی اور فیصلہ ہوا کہ سفارتی تعلقات محدود کیے جائیں۔ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا۔
’ہم نے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ ہم انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ مشاورت ہوئی ہے اور ہوسکتا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر مزید مشاورت کے لیے بیجنگ جائیں۔
ان کے مطابق انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کشمیریوں کی بہتری کے حق میں فیصلہ کیا ہے تو مودی کرفیو اٹھائے پھر دنیا دیکھے گی کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انڈین حکومت کے فیصلے کے خلاف انڈیا سے آوازیں اٹھ رہی ہیں،انڈیا نے خود اس مسئلے کو بین الاقوامی شہرت یافتہ بنا دیا ہے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’آج محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کے بیانات دیکھ لیجئے کہ آج اس ایک واقعے پر وہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بھارت کے حق میں ان کے بزرگوں کا فیصلہ درست نہ تھا۔‘
پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں کشمیر کے مسئلے پر متفق رہنا ہوگا۔
’پروڈکشن آرڈر کی اہمیت ہے لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ آج مسئلہ کشمیر اولیت رکھتا ہے یا پروڈکشن آرڈر کی اہمیت ہے، یہ فیصلہ قوم کو کرنا ہے، ہمیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔‘
وزیرخارجہ نے کہا کہ اس سے پہلے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہوتی رہی ہے لیکن کلسٹر ایمیونیشن کا استعمال نہیں ہوا۔
’انڈیا نے بین الاقوامی اقدار و قوانین کو پامال کیا ہے،عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ انڈیا کی جانب سے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کی پاکستان نے سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔ اسی فیصلے تناظر میں اتوار کو پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اور پھر منگل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا۔
مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے اقدام سے کشمیر میں تحریک آزادی زور پکڑے گی اور پلوامہ جیسے مزید واقعات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے اور پاکستان یہ معاملہ عالمی فورمز پر اٹھائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں