30

لاوارث کراچی

حالیہ بارشوں کے بعد جو کچھ کراچی میں ہو رہا ہے۔ وہ قابل مذمت بھی ہے اور قابل افسوس۔ سابق صدر آصف علی زرداری جو کہ پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں اور وفاق کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ کراچی کے عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے۔ کراچی کے مکینوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ سندھ حکومت کو یہ ہدایات دینے کے بجائے کہ وہ کراچی میں سیورج سسٹم کو درست کرے، کراچی کے لوگوں کو بھکاری سمجھ رہے ہیں۔ کراچی جو کہ ملک 75 فیصد ٹیکس دیتا ہے اور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے۔ لاوارث نظر آتا ہے۔ ہر بارش میں کراچی کے شہری کرنٹ لگنے سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر ان کی زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ تو چلیں گاﺅں دیہات سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں کراچی سے کیا لینا دینا۔ وہ تو بس روشنیوں کے شہر میں ڈیفنس کے مزے لوٹنے اور کراچی کی عوام کو یہ احساس دلانے کے لئے آتے ہیں کہ ملک کے اصل حکمران وہ ہیں اور سندھ میں چونکہ پیپلزپارٹی کی حکومت ہے تو کراچی سندھ کا حصہ ہونے کے سبب ان کی جاگیر ہے اور یہاں بسنے والے انسان نہیں بلکہ جانور ہیں کہ جن کی نہ زندگیاں قیمتی ہیں، نہ مال و متاع، جب چاہا جسے چاہا اُٹھا لیا، مارا پیٹا، ذلیل کیا اور یہ احساس دلایا کہ وہ پاکستان کی سرزمین پر بوجھ ہیں۔ کراچی والے تو ایسے بد نصیب ہیں کہ مہاجر قومی موومنٹ بنائی تو ایسے لوگ حکمران بن گئے کہ جنہوں نے کراچی کو تو نہ بنایا۔ البتہ مال ضرور بنایا اور جب قربانی دینے کا وقت آیا تو لندن کی پرتعیش زندگی کو ترجیح دی۔ جو انہیں لائے تھے انہوں نے بھی اپنا کام مکمل ہونے کے بعد اُن پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی اور یہ کراچی کے عوام کو یہ باور کرایا کہ اگر تم اپنی تنظیم بناﺅ گے تو یونہی ذلت و رسوائی تمہارا مقدر ہوگی۔ یوں نہ کراچی کے عوام نے مہاجر قومی موومنٹ بنائی اور نہ ہی اُسے متحدہ کا نیا نام دیا۔ یہ سب اسکرپٹ محترم الطاف حسین کو دیئے گئے اور انہوں نے بہترین اداکاری کرکے عوام کو اپنے پیچھے لگا لیا اور پھر اچانک منطر سے غائب کردیئے گئے۔ کراچی کے نوجوانوں کو چن چن کر قتل کیا گیا اور گھروں سے لڑکوں کو اُٹھا لیا گیا اور خواتین کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے۔ وہ بیان سے باہر ہے۔ کراچی کو کرائم کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے۔ وہ شہر جس نے تمام قومیتوں کو اپنے دامن میں سمویا۔ آج کراچی کے مقامی لوگوں پر دست درازی کرتی ہیں۔ ہمارے سابق صدر آصف علی زرداری پالتو کتا راﺅ انوار ظلم و جبر کی تاریخ رقم کرگیا۔ مگر کسی کی جرات نہیں کہ اسے کٹہرے میں لے آئے بلکہ برعکس اُسے ٹکٹکی پہ باندھا جاتا اور ننگا کرکے کوڑے مارے جاتے۔ اسے سپریم کورٹ نے عزت و احترام سے بلایا اور سیلوٹ کرنے والوں کے حوالے کردیا کیونکہ وہ تو صرف آصف علی زرداری کا بہادر بچہ نہیں تھا بلکہ کچھ خفیہ طاقتوں کا بھی آلہ کار تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ثاقب نثار جو خود کو انصاف کے علمبردار سمجھتے تھے، کچھ نہ کرسکے، یوں ملک کی سب سے بڑی عدالت بھی بے بس نظر آئی کیونکہ طاقت کا مرکز کوئی اور تھا اور راﺅ انوار جیسے کئی لوگ ایسے وقت کے لئے پالے گئے ہیں کہ جنہیں وقت ضرورت استعمال کیا جا سکے مگر یہ تمام بہادر بچے کراچی کے عوام کے لئے بہادر ہیں۔ کیونکہ ان کی بہادری کے پیچھے بندوق ہے۔ ذرا یہ بندوق ہٹ جائے تو پتہ چلے کہ بہادری کیا ہوتی ہے؟
قصہ مختصر یہ کہ کراچی آج لاوارث ہے، کوئی اس خوبصورت شہر کو اون نہیں کرتا، آج کے کراچی کا موازنہ اگر سندھ کے شہر لاڑکانہ یا کسی اور شہر سے کیا جائے تو شاید کراچی نچلے درجے پر آئے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ لاڑکانہ کے بل بوتے پر سیاست کرنے والے لاڑکانہ کے عوام کو بھی ہاتھ دکھا گئے اور آج بھی بھٹو کو زندہ رکھ کر سیاست کررہے ہیں اور غریب عوام آج بھی بھٹو زندہ باد کے نعرے لگا رہی ہے۔
کراچی کے گورنر جن کا تعلق حکومتی پارٹی سے ہے، علامتی گورنر کے طور پر کام کررہے ہیں اور یہی کچھ حال ہمارے صدر محترم کا ہے، یہ دونوں حضرات حکمران پارٹی کے اہم عہدیدار رہے ہیں اور موجودہ گورنر سندھ تو مشہور ہی ایک گانے سے ہوئے کہ ”روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے“ مگر گورنر ہاﺅس شفٹ ہونے کے بعد شوق ہی بدل گئے اور نعرے اور گانے بھی۔
کراچی روز بروز بدترین صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے، بیرون ممالک کینیڈا اور امریکہ میں بسنے والے افراد کو چاہئے کہ کراچی کے لئے تحریک چلائیں کیونکہ کراچی کے عوام اگر روڈ پر نکلے تو وہی حالات ہوں گے جو کشمیری عوام اور ہندوستانی فوج کے ہیں۔ اس لئے ملک سے باہر بسنے والے وہ لوگ جو کراچی سے تعلق رکھتے ہیں، باہر نکلیں اور اپنے دوستوں کو جو کوئی بھی زبان بولتے ہوں، احساس دلائیں کہ کراچی میں بھی انسان رہتے ہیں۔ جانور نہیں بستے۔ کراچی کے رہنے والے کینیڈا اور امریکہ میں فنڈ ریزنگ کرنے والوں کے لئے گلے پھاڑ پھاڑ کر چندہ کی اپیل کرتے ہیں اور اس کام کا معاوضہ بھی ٹھیک ٹھاک لے لیتے ہیں۔ مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کراچی بھی مستحق ہے بہتری کا۔ کراچی بھی سسک رہا ہے، وہاں کے لوگ جنہیں اُجالوں میں رہنے کی عادت تھی، جو کراچی کو روشنیوں کا شہر کہتے تھے، آج اندھیروں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ بجلی ہے، نہ صاف پانی، نہ زندگیاں محفوظ ہیں اور نہ عزتیں۔ آج ملک سے باہر رہنے والے کراچی کے لوگوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کراچی کے مسئلہ پر سیاست چمکانے کے بجائے انسانیت کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنا ہوگا اور کراچی کو وہ مقام دلانے کی کوشش کرنا ہوگی جس کا وہ حق دار ہے۔ میری حکام بالا سے اپیل ہے کہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے دیکھا جائے ورنہ حالات سنبھالنا نہ صرف مشکل ہو گا بلکہ ناممکن بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں