751

عشق نبی اور صبا اکبر آبادی کی نعتیہ شاعری

جتنی قرآن کی عبارت ہے
وہ رسول خدا کی سیرت ہے
جو نہ مانیں یہ ان کی قسمت ہے
نعت احمد بڑی عبادت ہے
اس دور میں نعت گوئی اور نعت خوانی کے بارے میں پیدا ہونے والی مختلف بحث و مباحثہ کو حضرت صبا اکبر آبادی کے ان نعتیہ اشعار کے حوالے سے سمجھا جائے تو سب کا جواب اس میں موجود ہے۔
رات دن اپنا وظیفہ ہے صبا
یا حبیب یا حبیب یا حبیب
غزلوں میں تو ہر شاعر کے یہاں ایسے متعدد اشعار مل جائیں گے جن کو نعتیہ مضامین پر منطبق کیا جا سکے تو صبا صاحب کی غزلوں میں بھی اگر ایسے اشعار مل جاتے ہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ رہی ان کے مرثیوں کی بات تو اس بارے میں مشہور و ممتاز عالم دین ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں (سابق صدر شعبہ اُردو و فارسی سندھ یونیورسٹی) فرماتے ہیں کہ حضرت صبا نے نعت کہتے وقت احتیاط، احترام اور ادب کو پوری طرح قائم رکھا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ حضرت صبا اکبر آبادی کا نعتیہ کلام پڑھتے وقت یہ احساس ہوتا ہے کہ یہی باتیں نبی اکرم کے بارے میں ہمارے دل میں بھی ہیں لیکن ہم ان کا اظہار اس خوبصورتی سے نہیں کرسکے جیسے حضرت صبا اکبر آبادی نے کیا ہے۔ وہ زور ایمانی اور زور قلم جو صبا اکبر آبادی صاحب کے مراثی میں بالخصوص حمدیہ اور نعتیہ بندوں میں نظر آتا ہے وہ اُنہیں ان کے معاصر مرثیہ نگاروں سے ایک بلند درجے پر پہنچا دیتا ہے اور وہ سب مرہون منت ہے۔ رسول اللہ کے پُرخلوص ذکر خیر کا۔ اور یہی کیفیت حضرت صبا اکبر آبادی کے خالص نعیہ کلام میں بھی موجود ہے۔ اسی تعلق سے جناب صبا اکبر آبادی کے ایک مرثے ”ترقی“ کا نعتیہ بند ملاحظہ ہو۔
چودہ سو سال گزرے کہ مکہ میں اک بشر
اُمّی مگر علوم الٰہی سے باخبر
بندوں کے درمیان خدا کا پیامبر
صادق، امین، صابر و ساجد بہر نظر
بندوں کو وہ خدا کی عطائے عظیم تھا
آغوش کائنات میں در یتیم تھا
باتوں میں لطف، خلق میں عظمت جبیں پہ نور
ایک اک عمل تلطف و اخلاص کا ظہور
آئینہ انکسار کا کبر و انا سے دور
داتا، سخی، شریف، مزکی، غنی، غیور
اُس نے حیات تازہ کا سامان کردیا
انسان کو جھنجھوڑ کے انسان کردیا
غرض اس مرثے (ترقی) میں ایک دو تین نہیں بلکہ 23 بند حضور اکرم کی شان میں موجود ہیں۔ اسی نعتیہ نظم میں تین بند اور ملاحظہ ہوں۔
وہ رحمت تمام زمانے کے واسطے
آیا تھا بزم نور سجانے کے واسطے
ذروں کو آفتاب بنانے کے واسطے
عالم سے ظلم و جور مٹانے کے واسطے
ہر قلب کو خزینہ ایمان دے دیا
اُس کی زبان پاک نے قران دے دیا
قرآن گفتگوئے خداوند ذوالجلال
دستور حق، صحیفہ بے مثل و بے مثال
گنجینہ معارف و قانون لا زوال
اللہ کا کلام محمد کی بول چال
اک ایک حرف ناز سے ہے جھومتا ہوا
آیا ہوں میں رسول کے لب چومتا ہوا
قرآن جس کے دل پہ اترتا تھا وہ نبی
آلائش حیات سے مطلق رہا بری
اُس کے عروج ذات کو سمجھے گا کیا کوئی
اُس نے زمیں سے جا کے سرعرش سیر کی
ہوتی ہے یہ جو چاند میں دُنیا کی جستجو
ہے یہ اسی کے نقش کف پا کی جستجو
آج سے چالیس برس پہلے کے کہے ہوئے مرثیے کے چند بند آپ نے ملاحظہ کئے۔ اب صبا اکبر آبادی صاحب کی خالص نعتیہ شاعری کے بارے میں چند باتیں۔
دراصل، دنیا میں جتنی خیر ہے، جتنی اچھائی ہے، جتنی بھلائی اور بہتری ہے وہ سب مرہون منت ہے ہمارے نبی آخر الزماں کی۔ میرے نزدیک دنیا کا ہر وہ شاعر اور ادیب جو اپنے قلم سے نیکی کا پرچار کررہا ہے وہ دراصل پیغمبر خدا کے کسی عمل یا کسی بات کو دہرا رہا ہے۔ حضرت صبا اکبر آبادی جب یہ کہتے ہیں کہ
بے مثل ہے، زمین میں وہ آسماں میں وہ
اپنی مثال آپ ہے دونوں جہاں میں وہ
تو ہم سوائے تائید کے اور کچھ کہنے کے قابل نہیں رہتے۔ اس لئے کہ حضور سرور کائنات اس جہاں کے ہی نہیں بلکہ دونوں جہاں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے اسی لئے تو پروردگار عالم نے آپ کو رحمت اللعالمین کے خطاب سے سرفراز فرمایا ہے۔ چنانچہ اسی ضمن میں حضرت صبا اکبر آبادی نے کیا خوبصورت بات کہی ہے۔
جو چاہے جلوئہ احمد سے روشنی لے لے
یہ نور صرف ہمارا نہیں ہے سب کا ہے
ایک بالکل سامنے کی بات ہے۔ اذان میں اللہ کی وحدانیت کا تذکرہ ہے تو ساتھ ساتھ محمد رسول کے رسول اللہ ہونے کی شہادت بھی موجود ہے۔ اسی بات کو جناب صبا اکبر آبادی نے بھی اپنے شاعرانہ پیرایہ اظہار میں ادا کیا ہے۔
قائم ہے تا ابد جو نمازوں کا سلسلہ
شامل خدا کے ساتھ رہے گا اذاں میں وہ
یہ بات بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے
اُس کے بغیر منزل مقصد کسے ملی
قائد ہے کارواں کا ہر اِک کارواں میں وہ
میں نے اپنی گفتگو کی ابتداءمیں صبا صاحب کی غزل کا ایک شعر آپ کو سنایا تھا۔
دِل کافر خدا کا منکر تھا
تم کو دیکھا تو اعتبار کیا
یہ خیال غزل کہتے ہوئے صبا صاحب کے ذہن کو منور کر گیا اور انہوں نے مذکورہ شعر کی صورت میں اُسے نظم کردیا لیکن جب وہ نعت کہہ رہے ہیں تو یہی خیال بالکل دل کو چھو لینے والے انداز میں سامنے آتا ہے۔ اس نعت کا مطلع ہے۔
مجھے یہ سبق مصطفیٰ نے دیا ہے
جو میر اخدا ہے وہ سب کا خدا ہے
تو اسی نعت میں یہ شعر بھی نظر آتا ہے۔
دلیل خدائی ہے ذات محمد
محمد کو دیکھا تو سمجھے خدا ہے
حضرت صبا اکبر آبادی ذہنی طور پر اپنی مکمل آزاد خیالی کے باوجود ایک ایسے مسلمان شاعر ہیں جو نبی اکرم کی رسالت کے بغیر انسانیت کو نامکمل اور انسان کی وجہ تخلیق کو بے سبب مانتے ہیں کیونکہ وہ رسول کو شافع محشر سمجھتے ہیں بغیر کسی تاویل اور دلیل کے۔
حضور آپ سنواریں گے میرا مستقبل
حضور نے میرا ماضی و حال دیکھا ہے
….٭….
بہار گلشن انسانیت اسی سے ہے
کمال عظمت انسان بھی تھا وہی لوگو
خدائی قبضہ قدرت میں اس کے تھی لیکن
نمونہ عمل بندگی تھا وہ لوگو
….٭….
قلب کا آرام ہے ذکر رسول
روح کی تسکیں ہے نام مصطفیٰ
صبا صاحب کی نگاہ کا مدعا اور خیال کا آسرا محبوب خدا کی ذات اقدس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔
حبیب رب العلیٰ محمد روز جزا محمد
نگاہ کا مدعا محمد خیال کا آسرا محمد
اب صبا اکبر آبادی صاحب کی نعتوں کے چند اشعار بغیر کسی تبصرے اور عبارت آرائی کے ملاحظہ فرمائیے۔
دوبارہ جی اُٹھے اُمت نبی کی
سلیقہ اس کو مرنے کا سکھا دے
صبا جس باغ کی خوشبو ہے تجھ میں
پتا اس کا زمانے کو بتا دے
وسیلہ کیا ہے سوائے محمد عربی
خدا ملا تو خدائے محمد عربی
….٭….
ہوئی تمام زبان و قلم کی ہر طاقت
ادا ہوئی نہ ثنائے محمد عربی
صبا غبار بنوں اور مجھے اڑا لے جائے
سوئے مدینہ ہوائے محمد عربی
….٭….
نام پر ان کے مٹے تو زندگانی مل گئی
مرنے والوں کو حیات جاودانی مل گئی
مجھ کو قسمت نے بڑا منصب دیا ہے اے صبا
یعنی محبوب خدا کی مدح خوانی مل گئی
حقیقت یہ ہے کہ آج اُردو شاعری میں حضرت صبا اکبر آبادی صاحب کا جو مقام و مرتبہ ہے وہ محبوب خدا کی مدح خوانی کی بدولت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں