215

اسرائیلی خلائی جہاز چاند کی سطح پر اترنے کے لیے تیار

تل ابیب، اسرائیل: انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی نجی ادارے کی جانب سے چاند کی جانب بھیجا جانے والا خلائی جہاز اب قمری مدار میں داخل ہوگیا ہے اور یہ گیارہ اپریل کو چاند کی سطح پر اتر جائے گا۔
اس مشن کا نام بیرشیٹ ہے اور یہ 55 لاکھ کلومیٹر کا سفر طے کرکے چار اپریل کو یہ چاند کے مدار میں گھومنے لگا تھا اور اب بھی وہی زیرِ گردش ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک چلتا رہا تو یہ گیارہ اپریل کو چاند کی سطح پر اترجائے گا۔ کامیابی کی صورت میں اسرائیل کا شمار بھی چاند پر خلائی جہاز بھیجنے والی اقوام میں ہوسکے گا۔
اس خلائی جہاز کا مرکزی کنٹرول سینٹر تل ابیب کے قریب یہود کے مقام پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کے انجنوں نے انتہائی کامیابی سے خلائی جہاز کی رفتار کو کم کیا ہے اور اس طرح اب وہ چاند کی کشش کے لحاظ سے خود کو اہم آہنگ کرکے اس کے مدار میں گھومنے لگا ہے۔
بیرشیٹ کی تیاری میں اسرائیلی ایئروسپیس انڈسٹری کمپنی نے خاصا اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ خلائی جہاز اتنا حساس ہے کہ ہر بدلتے ہوئے تناظر میں بھی خود کومستحکم رکھ سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتو وہ گیارہ اپریل کو چاند پر اترتے ہوئے وہ بہت آسانی سے قمری سطح سے ٹکرا کر پاش پاش ہوسکتا ہے۔
اس مشن پر اب تک 10 کروڑ ڈالر خرچ ہوچکے ہیں جبکہ خلائی جہاز کی جسامت ایک واشنگ مشین جتنی ہے۔ اس سال فروری میں اسے فلوریڈا سے اسپیس ایکس راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا۔ ماہرین نے اترنے کی جس جگہ کا انتخاب کیا ہے وہ خشک لاوے کا ایک ڈھیر ہے جو کبھی چاند پر موجود تھا۔ یہ خلائی جہاز چاند پر مقناطیسی میدان کی پیمائش کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ چاند کی تصاویر اور دیگر ڈیٹا بھی حاصل کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں