209

سیاسی دنگل کی تیاریاں، عمران خان کی سیاسی بصیرت کا امتحان

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) سیاسی مبصرین کی رائے میں موجودہ حکومت کے لئے کڑا امتحان بجٹ کی صورت میں سامنے ہے۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف کی گرفتاری کے ردعمل میں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور مولانا فضل الرحمان مستقل جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن کا متحدہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی صورت میں بجٹ پاس نہ ہونے دیا جائے۔ ایسی صورت میں موجودہ حکومت کے پاس اکثریت بھی نہیں اور ان کے اتحادی بھی ان سے ناراض ہیں یہی سحکومت اور عمران خان کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ بجٹ پاس کرنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کی موجودہ ملاقات میں بھی حکومت کے خلاف بھرپور تحریک کا اعلان کیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں اگر اپوزیشن بجٹ ایوان سے منظور نہ کرانے میں کامیاب ہوگئی تو حکومت کو جانا پڑے گا تاہم اسمبلیاں برقرار رہیں گی۔ چنانچہ حکومت کو بچانے کے لئے اور بجٹ کو منظور کرانے کے لئے عمران خان کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ یہاں ان کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے۔ بظاہر عمران خان کے لہجہ میں اپوزیشن خصوصاً نواز شریف اور آصف زرداری کے لئے کوئی لچک نہیں تاہم ایمپائر کا آئندہ اشارہ کس جانب ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ حکومت کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن سے مذاکرات کی کڑوی گولی نگلتی ہے یا پھر اپنی جگہ پر ڈٹے رہ کر مخالفین کا مقابلہ کرتی ہے۔ حالیہ بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے کسی بھی مصالحت سے انکار کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں