157

نئے پاکستان میں صحافی شدید ذہنی دباﺅ کا شکار

ٹورانٹو/شکاگو/اسلام آباد (محمد ندیم: پاکستان ٹائمز) نئے پاکستان میں موجودہ حکومت کی جانب سے یا پھر کسی انجان قوت کے کہنے پر صحافیوں اور ٹی وی چینلز کے خلاف کریک ڈاﺅن کا سلسلہ جاری ہے، نہ لکھنے کی آزادی ہے اور نہ بولنے کی۔ یہ بھی معلوم نہیں ہو رہا ہے کہ کون حکم دے رہا ہے اور کیا ہو رہا ہے؟ کئی ایک معاملات میں پیمرا بھی بے بس دکھائی دیتی ہے۔ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر شدید دباﺅ ہے اور گرفتار کئے جانے کے خدشات بھی ہیں۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نیب کے شکنجے میں ہیں اور جو باہر ہیں وہ بھی آئندہ چند روز میں سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ مسلم لیگ نواز کی صدر مریم نواز کو بھی نیب عدالت میں طلب کرلیا گیا ہے اور امکان ہے کہ اسمبلی فلور پر بلاول بھٹو زرداری کی صحافیوں اور صحافت پر لگی قدغن کی حمایت میں بولنے کی پاداش میں کوئی بھی دباﺅ ڈالا جا سکتا ہے مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے انجانی جگہوں سے ہو رہے ہیں۔ کچھ معلوم نہیں ہو رہا ہے احکامات کہاں سے آرہے ہیں اور کون جاری کررہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں ملک میں مارشل لاءنہ ہوتے ہوئے بھی مارشل لا کی صورتحال ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کے بلوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا جارہا ہے۔ جس کا شدید ردّعمل سامنے آسکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں ملک کو بند گلی میں لے جایا جارہا ہے اور ملکی صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے۔ ملک کے صحافتی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ صحافتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں روز بروز رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں