183

14 اگست اور ہجرت کا دُکھ

ڈاکٹر علی محمد مریضوں کے علاوہ اپنے علاقے کے لوگوں میں بھی کافی مقبول تھے، وجہ یہ تھی کہ ان کا شمار آگرہ کی ان نامی گرامی افراد میں ہوتا تھا جن کی آگرہ شہر میں اپنے رفاحی فلاحی کاموں کے علاوہ سیاسی اور علمی حلقوں میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ہر طرح کے لوگ ان کے حلقہ اثر میں شامل تھے، کسی کو دوا چاہئے یا کسی کام کی سفارش ہر شخص بلا مذہب و منصب کی تفریق کے ان سے فیض یاب ہوتا۔ اس میں ہندو بھی تھے، سکھ بھی، مسلمانوں میں شیعہ بھی تھے اور سنی یا بریلوی، مسلم لیگی تھے یا کانگریس یا خلاف تحریک سے وابسطہ ہر ایک ان کو اپنا سمجھتا۔ جب ان کے گھر بڑی منتوں اور مرادوں کے بعد بیٹا پیدا ہوا یہ 14 اگست کا دن تھا۔ اللہ کی محبوب ترین ہستی کے نام پر محمد نام رکھا گیا اور اللہ کے محبوب کے محبوب حضرت علیؓ کے نام خضر علی کے نام پر امیر رکھا گیا۔
بہاﺅ الدین نقش بندی سے سولہویں بیعت کے حوالے سے خواجہ محمد امیر کے نام سے ان کی تعلیم و تربیت نہایت ناز و نعم میں شروع ہوئی۔ ہر چودہ اگست کو ان کی سالگرہ میں آگرہ کے تمام اکابرین بڑے ذوق و شوق سے شریک ہوتے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی بڑے خصوصی انداز سے شروع ہوئی، آگرہ میئر خادم علی خان کی زیر نگرانی ان کی شاعری کا آغاز کیا گیا۔ ان کے والد ڈاکٹر خواجہ علی محمد خلافت تحریک میں آگرہ شہر کے رہنما تھا۔ جڑانوالہ باغ کے قتل عام کے فوراً بعد اس کا جلسہ منعقد ہوا، خواجہ محمد امیر نے ضد کرکے اپنے والد خواجہ علی محمد کے ساتھ اس جذبہ سے شرکت کی کہ اگر جڑانوالہ طرز کا قتل عام وہاں بھی ہوا تو وہ اپنے والد کے ساتھ شہادت کا مرتبہ حاصل کرنے کی سعادت بھی حاصل کرلیں گے۔ اس جلسہ گاہ میں شہادت کا منصب تو حاصل نہیں ہوا، ایک نوجوان انقلابی شاعر کی حیثیت سے صاحبان علم کے سامنے پیش ہو گئے۔ اپنے نانا غلام حسین کماندار کی نسبت سے مرزا اسد اللہ غالب سے بھی خصوصی رشتہ تھا اس طرح علم اور ادب کے میدان میں بھی اپنی شاعری کے ذریعہ ایک اہم مقام پر نوجوانی میں فائز ہو گئے۔ ان کی شہرت آگرہ سے نکل کر اردو شاعری کے قارائین میں کونے کونے تک پہنچ گئی۔ ساتھ میں اپنے وقت کے خوبرو لوگوں میں شمار تھے، آگرہ کی سرزمین کے معتبر افراد میں جلد ہی شمار ہوگئے۔
تحریک پاکستان میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، زمزمہ پاکستان کے نام سے پاکستان کے لئے انقلابی تنظیمیں تحریر کرکے تقریباً 50 ہزار کی تعداد میں شائع کرائی جو قائد اعظم سے منصوب کی۔ قیام پاکستان کے بعد جب ہجرت کے لئے آگرہ کی سرزمین کو چھوڑا تو اس کا دکھ کس طرح بیان ہے کیا، اس سرزمین کو چھوڑنے کا دکھ جہاں بھرپور بچپن بزرگوں کی روایات اور اتارا، اپنوں سے محبت کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی طرف ہجرت کا دکھ لے کر روانہ ہو جاتا، ان کیفیات کو کس طرح اپنی شاعری کے ذریعہ رقم کیا ہے۔
کس طرح بسر ہوتے تھے ایام جوانی
لکھئے تو فسانہ ہے کہئے تو کہانی
رفتار حسینوں کی تھی جمنا کی روانی
خود بادہ صفت اپنی صراحی کا تھا پانی
وہ دور نظر آتا ہے اب خواب کی صورت
جب پانی بھی پیتے تھے مئے ناب کی صورت
اس شہر میں تھے گور غریباں بھی منور
مدفون تھے جس میں ادب و علم کے جوہر
جانباز و دلیر اور شجاعان دلاور
آرام سے اس خاک میں سوتے ہیں برابر
قبریں بھی عزیزوں کی مزار اب وجد بھی
محبوبوں کے مدفن بھی رفیقوں کی لحد بھی
کیا کہئے کہ کیوں دشت میں گھر چھوڑ کے نکلے
ہر عشرت و آرام سے منہ موڑ کے نکلے
اپنے در و دیوار سے سر پھوڑ کے نکلے
صدیوں کے جو رشتے تھے انہیں توڑ کے نکلے
یہ بات نہیں ہے کہ ہمیں جان کا ڈر تھا
قرآن کا پاس تو ایمان کا ڈر تھا
اک سمت سے آیا کے مزاروں نے پکارا
اک سمت سے پریوں کی قطاروں نے پکارا
محبوبوں کے خاموش اشاروں نے پکارا
لب کھول کے جمنا کے کناروں نے پکارا
سب کی یہ صدا تھی ہمیں کیوں چھوڑ رہے ہو
دیکھو تو ہمیں کس لئے منہ موڑ رہے ہو
آوازوں کے طوفان میں ڈوبی تھی سماعت
کچھ بھی نہیں آتا تھا سمجھ میں بصراحت
کچھ لہجے نصنع کے تھے کچھ میں تھی محبت
کچھ دیر کو طاری رہا اک عالم حیرت
ایام گزشتہ کے حوالے بھی بہت تھے
دشمن بھی تھے اور چاہنے والے بھی بہت تھے
اس عالم حیرت سے عقیدت نے نکالا
ہر بات کو رد کرکے ہر آواز کو ٹالا
لغزش جو ارادوں میں ہوئی اس کو سنبھالا
ہر گرد سے آئینہ خاطر کو اجالا
یہ سوچ کے پرواہ نہ کی رنج و بلا کی
ہجرت بھی تو سنت ہے رسول دوسرا کی
گھر بار کو چھوڑا در و دیوار کو چھوڑا
صدیوں کے بنائے ہوئے آثار کو چھوڑا
جو پیار تھا اس شہر سے اس پیار کو چھوڑا
پتھر کیا دل، کوچہ دلدار کو چھوڑا
اصنام دل آرام کے محور سے نکل آئے
قرآن حمائل کیا اور گھر سے نکل آئے
آواز دی ذروں نے کہ رک جاﺅ نہ جاﺅ
اس ربط قدیمی کو نہ ٹھکراﺅ نہ جاﺅ
بھڑکے ہوئے جذبات کو ٹھہراﺅ نہ جاﺅ
اپنے دل نا فہم کو سمجھاﺅ نہ جاﺅ
پھر ایسے سخن گو نہ سخن سبخ ملیں گے
نکلو گے وطن سے تو بڑے رنج ملیں گے
بلبل نے پکارا، مرے نغمات تو سن لو
پھولوں نے کہا، ہم سے ذرا بات تو سن لو
بھولی ہوئی برسوں کی حکایات تو سن لو
ہنگامہ امکان و محالات تو سن لو
گھر چھوڑ کے نادیدہ بلاﺅں میں گھرو گے
اس باگش سے نکلو گے تو آوارہ پھرو گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں